Print this page

ایرانی عوام امریکہ سے ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہیں، جنرل فدوی

Rate this item
(0 votes)
ایرانی عوام امریکہ سے ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہیں، جنرل فدوی

 جنرل علی فدوی نے خصوصی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان طویل مدتوں میں آبنائے ہرمز یقینی طور پر ایران کے کنٹرول میں رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی صلاحیت سمندری محور پر مبنی ہے؛ یعنی اس کی بحریہ میں زمینی فوج اور فضائیہ دونوں موجود ہیں، لہٰذا امریکہ کی فوجی طاقت کا مظہر اس ملک کی بحریہ ہے۔

جنرل فدوی نے مزید کہا کہ امریکی 1853 سے خلیج فارس میں موجود رہے ہیں، لیکن اب پہلی بار کوئی امریکی بحری جہاز نہ صرف خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان، بلکہ شمالی بحر ہند میں بھی موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فرار ہو گئے ہیں اور ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔ یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہوا، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کی طاقت کا نتیجہ ہے۔

جنرل فدوی نے کہا کہ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے اور اس علاقے سے باہر جہاں ایران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے، زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل گزار سکتے ہیں؛ یہ مقدار اس آبی گذرگاہ سے گزرنے والے تیل کے حجم کے مقابلے میں قابلِ ذکر نہیں ہے۔

سپاہ کے کمانڈر ان چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس سے قبل، روزانہ 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا اور اس کے علاوہ کچھ مقدار میں تیل غیر رسمی طور پر بھی برآمد کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے 46 فیصد تیل کی برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔ جو 20 فیصد کا عدد بیان کیا جاتا ہے، وہ عالمی سطح پر تیل کی کھپت سے متعلق ہے؛ کیونکہ بہت سے ممالک اپنے پیدا کردہ تیل کو خود استعمال کرتے ہیں اور برآمد نہیں کرتے۔

جنرل فدوی نے مزید کہا کہ اب اس راستے سے تیل کی برآمدات کو بنیادی رکاوٹ کا سامنا ہے اور اسی مسئلے نے عالمی معیشت، امریکہ اور یورپ پر وسیع اثرات مرتب کیے ہیں۔

Read 18 times