ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے کہا ہے کہ جنگ رمضان کے دوران ملک بھر میں فوجی یونٹوں کی تعیناتی اور اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے ذریعے ایران پر زمینی حملے کے دشمن کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ فوجی یونٹوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا، جن میں جنوب مغرب سے لے کر مغربی اور مشرقی آذربائیجان کے صوبے، سیستان و بلوچستان اور مکران کا ساحلی علاقہ شامل ہیں۔ ان یونٹوں نے سخت موسمی حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
جنرل جہانشاہی کے مطابق، دشمن کا خیال تھا کہ فضائی حملوں اور کمانڈروں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے سے اس کے حمایت یافتہ گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایران میں داخل ہونے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ تاہم، ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب کے یونٹوں کی سرحدوں پر تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر تعیناتی نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
بری فوج کے کمانڈر نے کہا کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کی مسلح افواج نے میدان جنگ کے تجربات کا جائزہ لیا، عملیاتی منصوبوں پر نظرثانی کی، جنگی فارمیشنوں کو ازسرنو منظم کیا اور دفاعی پوزیشنوں کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اڈوں پر جنگی تیاریوں کی مشقیں کی گئیں اور سرحدی یونٹوں کو تقویت دی گئی۔
جنرل جہانشاہی کے مطابق، بری فوج کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے فوج کے پاس متحرک حملہ آور بریگیڈز، فوری ردعمل دینے والی فورسز، خصوصی یونٹ اور میکانائزڈ فورسز موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج کے اہلکار ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مسلح افواج نے قومی مفادات کے تحفظ اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔