Print this page

شادی کی تقریب پر استعمال ہونے والے بم کی تفصیلات سامنے آگئیں

Rate this item
(0 votes)
شادی کی تقریب پر استعمال ہونے والے بم کی تفصیلات سامنے آگئیں

 مجتبیٰ قہرمانی نے ہفتے کے روز امریکی فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے رہائشی مکان کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی تحقیقات کے مطابق استعمال کیا گیا یہ ہتھیار درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا گائیڈڈ ہتھیار تھا۔تحقیقات، جائے وقوعہ سے ملنے والے ٹکڑوں کے تجزیے اور باقی ماندہ میزائل کے حصوں پر درج تحریروں، بارکوڈز اور انتباہی علامات کے باریک جائزے سے استعمال کیے گئے ہتھیار کی نوعیت کو واضح طور پر اور ناقابلِ تردید انداز میں متعین کر لیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اس کا تعلق امریکی فوج سے ہے۔

صوبۂ ہرمزگان کے چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ حملے میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور ہتھیاروں میں موجود تھرمل بیٹری (Thermal Battery) کی نوعیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دریافت ہونے والا سلنڈر نما حصہ ایک ہائی وولٹیج تھرمل بیٹری کا ہے، جو خصوصی طور پر امریکہ کے تیار کردہ میزائلوں اور درست رہنمائی والے ظالم امریکی بموں کے پروازی رہنمائی کے نظام میں استعمال ہوتی ہے۔

قہرمانی نے مزید کہا کہ ملنے والا ایک اور اہم حصہ گائیڈنس اور فلائٹ الیکٹرانکس ماڈیول (Avionics Unit) ہے، جو اس کاروائی میں استعمال ہونے والے ہتھیار کا حصہ تھا۔ یہ ایک محفوظ دھاتی ڈبہ ہے جس میں ہتھیار کے راستے کی پروسیسنگ اور اس کے کنٹرول کے لیے الیکٹرانک سرکٹ بورڈز موجود تھے، جبکہ اس پر بین الاقوامی الیکٹرو اسٹیٹک ڈسچارج (ESD) سے متعلق انتباہی لیبل بھی واضح طور پر موجود ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان تمام شواہد اور فنی دستاویزات کو باقاعدہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے، جبکہ اس جنگی جرم کے احکامات دینے والوں، اس کے مرتکب افراد اور استعمال کیے گئے ہتھیار فراہم کرنے والوں کے خلاف اندرونِ ملک متعلقہ عدالتوں اور بین الاقوامی قانونی اداروں میں کاروائی کے لیے ایک جامع قانونی مقدمہ تیار کیا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ عدلیہ اس معاملے کو مجرموں کو مکمل اور مؤثر سزا ملنے تک سنجیدگی اور سختی سے آگے بڑھائے گی۔

قہرمانی کے مطابق، شہریوں کے اجتماعات اور روایتی شادی کی تقریبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے لازمی قواعد اور جنیوا کے چاروں کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور ہتھیاروں کے ٹکڑے استعمال کیے گئے اسلحے اور اس جارحانہ اقدام کے عسکری معاونین کی حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

 

صوبۂ ہرمزگان کے چیف جسٹس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعے کے مختلف پہلوؤں کا فیلڈ معائنہ کیا، شہداء اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا اور شواہد کی مکمل دستاویز بندی، ثبوتوں کو محفوظ کرنے اور معاملے کی قانونی و عدالتی تحقیق کے لیے ضروری احکامات جاری کیے۔

 

واضح رہے یکم ستمبر کو امریکی فورسز نے ہرمزگان کے بندرگاہی شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کے مقام پر حملہ کیا تھا کہ جس میں اب تک پانچ افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ شادی میں شریک تقریباً 70 افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

Read 57 times