Print this page

امریکی سیکیورٹی معاہدوں کی ناپائیداری اور مقامی مزاحمتی طاقت کی ضرورت

Rate this item
(0 votes)
امریکی سیکیورٹی معاہدوں کی ناپائیداری اور مقامی مزاحمتی طاقت کی ضرورت

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ دنوں امریکی میڈیا، خصوصا اکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ فوری ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ان رابطوں کا مقصد یمن کی صورتحال کے تناظر میں امریکہ سے براہ راست فوجی مدد حاصل کرنا تھا۔

رپورٹس کے مطابق انصار اللہ کی جانب سے ساحلی شہر المخا کی طرف پیش قدمی اور تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب کے قریب پہنچنے کے بعد بن سلمان نے ٹرمپ سے دو بار حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف براہ راست امریکی فضائی حملوں کی درخواست کی۔ تاہم ٹرمپ نے دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔

بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن فی الحال براہ راست فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کے بجائے سعودی فریق کو صرف انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کررہا ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً 200 امریکی اہلکار بھی موجود ہیں، تاہم ان کا کردار مشاورتی اور غیر جنگی نوعیت کا بتایا جاتا ہے۔

سعودی درخواستیں اور امریکی انکار

یہ صورتحال یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جہاں انصار اللہ اہم تجارتی راستوں اور تیل کی برآمد کے راستوں پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرچکا ہے اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ عناصر کے زیر قبضہ بعض علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔

اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے اور فوجی تعاون کیا واقعی بحرانی حالات میں کسی ملک کی سلامتی کی ضمانت بن سکتے ہیں؟ موجودہ حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے فیصلے بنیادی طور پر اپنے قومی مفادات اور موجودہ ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے کرتا ہے اور ہر صورت میں اپنے اتحادیوں کی براہ راست فوجی مدد کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کررہا ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملے کے ساتھ ایک نئی فوجی محاذ آرائی میں الجھنے سے گریز کررہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے قریبی اتحادی اور امریکی ہتھیاروں کے بڑے خریدار بھی حساس مواقع پر اپنی درخواستوں کے مسترد ہونے کا سامنا کرسکتے ہیں۔

بیرونی طاقت پر انحصار کا تجربہ

یہ صورتحال ماضی کے بعض تجربات کی بھی یاد دلاتی ہے کہ ایسی بیرونی طاقت جس کی حمایت کسی ملک کی اپنی قومی قوت اور عوامی ارادے پر قائم نہ ہو، بحران کے وقت لازمی طور پر مدد کے لیے نہیں پہنچتی۔ بڑی طاقتیں اپنے قومی مفادات کو سیکیورٹی معاہدوں سے متعلق وعدوں پر ترجیح دے سکتی ہیں اور حالات کے مطابق اپنے فیصلے تبدیل کرسکتی ہیں۔

اسی تناظر میں ایران کے حالیہ تجربے کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایران نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کے دوران مختلف نوعیت کے فوجی اور فضائی حملوں کا سامنا کیا۔ اگر ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر بیرونی معاہدوں، درآمد شدہ سازوسامان یا دوسرے ممالک کی براہ راست فوجی مدد پر منحصر ہوتی تو ایسے حساس حالات میں ملک کے لیے حملوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا۔ اس کے برعکس مقامی دفاعی صلاحیت، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام اور دفاعی کمان کے ڈھانچے نے ایران کو جوابی کارروائی اور اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دی۔

پائیدار سلامتی کے لیے مقامی طاقت ضروری

کسی ملک کی مزاحمت اور پائیدار سلامتی اس وقت زیادہ مضبوط ہوسکتی ہے جب اس کی بنیاد قومی ارادے اور مقامی صلاحیتوں پر ہو۔ بین الاقوامی معاہدے، دفاعی سمجھوتے اور اسلحے کی خریداری اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں قومی ارادے اور آزاد دفاعی صلاحیت کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔

 واشنگٹن اپنے سیکیورٹی وعدوں کو بھی اپنے قومی مفادات اور حالات کے مطابق دیکھتا ہے۔ اس لیے جو ممالک اپنی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی سیکیورٹی معاہدوں سے وابستہ کردیتے ہیں، انہیں بحرانی حالات میں ممکنہ طور پر حمایت کے خلا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی قیادت کی جانب سے فوجی مدد کی درخواستوں کا مسترد ہونا اسی صورتحال کی ایک مثال ہے۔

اس کے مقابلے میں ایران کا تجربہ مقامی دفاعی صلاحیت، فوجی ٹیکنالوجی کی داخلی ترقی اور انسانی وسائل پر طویل مدتی سرمایہ کاری کی مثال ہے۔ حقیقی دفاعی بازدارندگی صرف بیرونی ضمانتوں سے نہیں بلکہ ایسی داخلی طاقت سے پیدا ہوتی ہے جو بحران کے وقت خود فعال ہوسکے۔

سلامتی درآمد نہیں کی جاتی

حالیہ جنگوں اور علاقائی بحرانوں نے ایک بنیادی حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ کسی ملک کی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کے سہارے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ دفاعی معاہدے اور بین الاقوامی شراکت داری معاون ثابت ہوسکتی ہے، لیکن کسی بھی ملک کی بنیادی دفاعی طاقت اس کی اپنی صلاحیتوں، انسانی وسائل اور قومی ارادے سے تشکیل پاتی ہے۔

اسی لیے موجودہ غیر یقینی علاقائی صورتحال میں بنیادی سبق یہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی سلامتی کو صرف بیرونی وعدوں سے وابستہ کرنے کے بجائے مقامی دفاعی اور انسانی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے۔ الغرض سلامتی درآمد نہیں کی جاتی، بلکہ اسے اپنی طاقت اور صلاحیت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔

Read 34 times