Print this page

امریکی اور صہیونی حملوں میں ایران میں 100 سے زائد تاریخی مقامات کو نقصان

Rate this item
(0 votes)
امریکی اور صہیونی حملوں میں ایران میں 100 سے زائد تاریخی مقامات کو نقصان

 ایران کی وزارت ثقافت و سیاحت نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور صہیونی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کو ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ فیلڈ جائزوں اور ماہرین کی رپورٹس کے بعد متاثرہ تاریخی مقامات کی تعداد بڑھ کر 108 ہو گئی ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق تہران میں سب سے زیادہ 60 تاریخی مقامات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اصفہان میں 19 اور کردستان میں 12 آثار کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ لرستان اور کرمانشاہ میں 4، 4 جبکہ بوشہر اور قم میں 2، 2 مقامات متاثر ہوئے۔ مزید برآں ایلام، مشرقی آذربائیجان، مغربی آذربائیجان، مازندران اور سیستان و بلوچستان میں بھی ایک ایک تاریخی مقام کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔

بیان کے مطابق متاثرہ مقامات میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل آثار، قومی تاریخی یادگاریں اور دیگر اہم تاریخی عمارتیں اور مقامات شامل ہیں جو ایران کی تہذیبی تاریخ کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران، اصفہان، سنندج، کرمانشاہ، قم اور خوانسار کے چھ تاریخی شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت کے مطابق تازہ واقعے میں تہران کے سعدآباد ثقافتی و تاریخی کمپلیکس کے اطراف میں دھماکوں سے بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس کمپلیکس کے عجائب گھروں کی قیمتی اشیا کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم دھماکوں کی شدت سے عمارتوں کے اندرونی حصوں اور تاریخی تزئین و آرائش کو نمایاں نقصان پہنچا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں قاجار اور ابتدائی پہلوی دور کی گچ کاری، آئینہ کاری اور سنگ تراشی جیسے تاریخی فن پارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

وزارتِ ثقافت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1954 کے ہیگ کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

Read 32 times