Print this page

آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی تضاد بیانی

Rate this item
(0 votes)

امریکی فوج کی سینٹرل کمان سینٹکام کے کمانڈر، جنرل براڈ فورڈ کوپرکے اس دعوے کے باوجود کہ ایرانی بحریہ ختم کردی گئی اور آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کردی گئی ہیں، اس سمندری گزرگاہ میں بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے کی خبریں تسلسل کے ساتھ مل رہی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں بحری جہاز اور آئل ٹینکر اسی غیر قانونی راستے میں بارود سرنگوں سے ٹکراکر آگ کے شعلوں کی نذر ہورہے ہیں، جنہیں امریکا نے محفوظ اعلان کررکھا ہے۔ اس سے یہ زمینی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی دعوے رائے عامہ کو گمراہ  اور جنگ کے سنگین اخراجات رائے عامہ سے پنہاں رکھنے کی کوششوں کے تحت کئے جا رہے ہيں۔

سینٹکام کےسربراہ جنرل براڈ کوپر نے گزشتہ دنوں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمزمیں سپاہ پاسداران کو ختم کردیا گیا اور بارودی سرنگیں ہٹادی گئی ہیں۔

سینٹکام کے کمانڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہزاروں تجارتی بحری جہازآبنائے ہرمز سے گزرگئے اور امریکا نے بقول ان کے ڈیڑھ ارب بیرل تیل یہاں سے بحفاظت نکال دیا۔

سینٹکام کے سربراہ نے یہ دعویٰ ایسی حالت میں کیا ہے کہ سپاہ نیوی نے  آبنائے ہرمز میں غیر قانونی راستے سے گزرنے والے ایک اور آئل ٹینکر کے بارودی سرںگ سے ٹکرانے کی خبر دی ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر حسین محبی نے صراحت کے ساتھ امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کردینے کا صرف دعویٰ نہ کرے بلکہ اس کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرے۔

   امریکا کے یہ دعوے صرف میڈیا پروپیگنڈہ ہیں، جب آبنائے ہرمز میں اس غیر قانونی راستے سے گزرنے والا بحری جہاز اور آئل ٹینکر بارود سرنگ سے ٹکرا کر نذر آتش ہوجاتا ہے،جس کو امریکا نے محفوظ اعلان کررکھا ہے تو سینٹکام کے دعووں پر کوئی یقین نہیں کرسکتا۔

ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ایرانی افواج سے ہم آہنگی کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش اور غیر قانونی راستوں کا انتخاب غیرمحفوظ  اور خطرناک ہے اور ہرقسم کے حادثے کی ذمہ داری  ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے مالکین نیز عملے پرہوگی جو انتباہات کو نظراندازکرتے ہیں اور خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔     
 ہر قسم کی مہم جوئی کی بابت ایران کا سخت انتباہ

 ایران کی مسلح  افواج نے صراحت کے ساتھ  امریکا کی ہر قسم کی مہم جوئی کے نتائج کی بابت جارحین کو خبردار کیا ہے۔

 سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر اکرمی نیا نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی صدر نے ایک بار پھر اسرائیل کے ورغلانے پر مہم جوئی کی تو جنگ کا جغرافیا وسیع تر ہوگا۔   

انھوں نے کہا کہ امریکا نے سفارتی عہدو پیمان کی تسلسل کے ساتھ خلاف ورزی کی ، اس لئے ایران کی مسلح افواج اپنی آمادگی سطح مسلسل بڑھا رہی ہیں اور علاقے میں امریکی نقل وحرکت پر ہماری نگاہ۔

اسی کے ساتھ ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اب جنگ ہوئی ہوئی تو اس کا ختم کرنا امریکی صدر کے اختیار میں نہیں ہوگا۔     

ایران کے انتباہات صرف مسلح افواج تک محدود نہیں ہیں بلکہ علاقائی سطح پر بھی کشیدگی بڑھنے کے نتائج کی بابت سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

مصر کے وزیرخارجہ بدر عبدالعاطی نے بحرین میں ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک اور جنگ بہت تباہ کن ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تباہی پھیلے سکتی ہے۔

 مصری وزیر خارجہ کے اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا سے قریبی روابط رکھنے والے ممالک بھی آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جنگ پھیلنے کے نتائج کی بابت سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔  

آبنائے ہرمز صرف ایران کے لئے ہی نہیں بلکہ ان تمام ملکوں کے لئے اہمیت رکھتی ہے جن کی معیشت خلیج فارس کے تیل اور گیس سے وابستہ ہے۔   
 کوئی بھی نئی جنگ، تیل اور گیس کی سپلائی معطل کرکے، علاقے اور دنیا کے  دیگر خطوں کے ملکوں پر سنگین اخراجات مسلط کرسکتی ہے۔

ایران نے بارہا  اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی علاقے کے اجتمائی مفادات سے تعلق رکھتی ہے اور بیرونی طاقتوں کی مہم پسندی صرف عدم استحکام بڑھائے گی۔

وہ حقیقت جو امریکا تسلیم نہیں کرنا چاہتا

 فوجی مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے، آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی دعوؤں کی تضاد کی جڑیں ایک بنیادی حقیقت میں پیوست ہیں اور وہ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں عملاً امریکا کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اربوں ڈالر کے اخراجات کے ساتھ امریکی جنگی بیڑوں کی موجودگی نیز امریکا کی جانب سے بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو اسکورٹ کرنے کی ناکام کوشش اور خلاف ورزی کے مرتکب جہازوں اور آئل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثات، یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ ایران نے اپنا کنٹرول اور امریکا اور اس کے اتحادیوں پر اخراجات کا سنگین بوجھ مسلط کرنے کی توانائی محفوظ رکھی ہے۔

اگر ایرانی بحریہ واقعی ختم ہوگئی ہے، جس کا امریکا دعویدار ہے، تو سیکورٹی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں امریکی افواج کی موجودگی کی ضرورت کیا ہے؟

اگر بارودی سرنگیں صاف کردی گئی ہیں توبحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو یہ حادثات پیش نہیں آنے چاہیئں۔

ایرانی بحریہ ختم کردینے اور بارودی سرنگیں صاف کردینے کے امریکی دعووں اور زمینی حقائق میں کھلا تضاد یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی دعوے جھوٹے ہیں اور جنگ کے اس اہم  میدان، یعنی آبنائے ہرمز میں، ایران کو برتری اور تسلط حاصل ہے اور ایران دشمن پر سنگین اخراجات مسلط کرنے پر قادر ہے۔      
 اسی کے ساتھ ایرانی فوج کے صریحی انتباہات اور علاقے میں پائی جانے والی تشویش کا پیغام ایک ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ نئی امریکی مہم پسندی، نہ صرف یہ کہ مسئلہ حل نہیں کرسکتی بلکہ جنگ کا دائرہ وسیع تر کردے گی جس کو ختم کرنے کا اختیار واشنگٹن کے پاس نہیں رہے گا۔

آبنائے ہرمز بدستور طاقت کی آزمائش کا میدان ہے اور زمینی حقائق اب تک ایران کے فائدے میں ہیں۔

 

Read 42 times