Print this page

دہشت گردی کا شکار ہم ہیں، امریکہ اور اسرائیل بدامنی کی جڑ ہیں، صدر پزشکیان

Rate this item
(0 votes)
دہشت گردی کا شکار ہم ہیں، امریکہ اور اسرائیل بدامنی کی جڑ ہیں، صدر پزشکیان

 ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود دہشت گردی کا شکار ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ خود دہشت گردی کرتے اور دہشت گردوں کی تربیت کرتے ہیں، وہ ایران کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے شہر لامرد میں اسپورٹس کمپلیکس کو کلسٹر بموں سے تباہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی مرضی سے جس ملک پر چاہے حملہ کرتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ ہیں۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی عوام گزشتہ سات ماہ سے شب و روز سڑکوں پر موجود ہیں، عوام ہی ایران کی طاقت ہیں اور حکومت عوام کی طاقت پر استقامت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت صرف اپنے دفاع کے لیے ہے۔ ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم فوجی دباؤ کے تحت کبھی سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے گذشتہ 200 سالوں سے کسی ملک پر حملہ  نہیں کیا ہے لیکن ہم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہم طاقتور ہونا چاہتے ہیں تاکہ اپنا دفاع کریں۔

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ ہم نے دفاعی نظام بنایا ہے تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ایرانی شہروں پر حملے کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔ ہم اپنا دفاع کرنے کے لئے کسی سے اجازت نہیں لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول نہیں کہ آبنائے ہرمز سے سب فائدہ لیں اور ایران محروم رہ جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں امن کے بغیر مغربی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹم بم اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن ایران سے معائنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ انسانوں کو اسرائیل قتل کر رہا ہے، لیکن پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں؛ یہ بات اگر کسی کو بتائی جائے تو وہ اس پر ہنسے گا۔ ایران کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ مساوی حقوق چاہتا ہے۔ اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوست اور حریف، دونوں کا جائزہ ایک ہی معیار کے تحت لیا جانا چاہیے۔

Read 28 times