Print this page

جوہری ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن سلامتی کونسل کو ایران میں معائنہ کاروں کی عدم موجودگی پر تشویش ہے: ایرانی مندوب

Rate this item
(0 votes)
جوہری ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن سلامتی کونسل کو ایران میں معائنہ کاروں کی عدم موجودگی پر تشویش ہے: ایرانی مندوب

 اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶ کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کے حوالے سے مغربی ممالک کے کردار پر کڑی نکتہ چینی کی۔

 انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے جارحیت، وسیع پیمانے پر تباہی کی دھمکیوں، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ایران کے مندوب کا کہنا تھا کہ" ہولناک جرائم پر خاموشی کے بجائے جواب دہی اور مجرموں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔ سلامتی کونسل کے مغربی ارکان خاموش کیوں ہیں؟ اس کا جواب سادہ ہے، کیونکہ ان جرائم کے مرتکب اور جارحیت کرنے والے ان کے اتحادی ہیں، اور سیاسی وفاداری کو مواخذے اور انصاف پر ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ سلامتی کونسل کے مغربی ارکان مکمل طور پر خاموش نہیں رہے۔ چونکہ اسرائیل عموماً ان کے ناپسندیدہ اقدامات پر عمل درآمد کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، اس لیے انہوں نے نسل پرست اسرائیلی حکومت یا امریکہ کے بجائے ایران پر الزامات عائد کرنے کو ترجیح دی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے آج کے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بارے میں کہا کہ یہ اجلاس اس دوہرے معیار کی ایک اور مثال ہے جو ان ممالک کی خارجہ پالیسی کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس سیاسی اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بہانہ تلاش کرنا، حقائق کو مسخ کرنا اور ایران کے خلاف کی جانے والی جارحیت سے توجہ ہٹانا ہے۔

ایران کے مندوب  نے زور دے کر کہا کہ سلامتی کونسل کے مغربی ارکان کم از کم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام کبھی بھی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت اور بنیادی حیثیت ہمیشہ پُرامن رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی سیاسی مراعات حاصل کرنے اور جغرافیائی- سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں غیر جانب داری سے ادا کرے، ایران کے خلاف دھمکیوں اور جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرے اور اقوام متحدہ کے منشور کا تحفظ کرے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ سلامتی کونسل کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے، یا تو وہ بین الاقوامی قانون کا یکساں اور بلاامتیاز دفاع کرے، یا پھر اس بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کو مزید کمزور کرنے کے عمل کو جاری رکھے، جس کے تحفظ کے لیے یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا۔

Read 32 times