Print this page

آبنائے ہرمز کھولنا محاصرے کے خاتمے اور ایران کے مطالبات کی تکمیل سے مشروط ہے، بقائی

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز کھولنا محاصرے کے خاتمے اور ایران کے مطالبات کی تکمیل سے مشروط ہے، بقائی

 ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف جاری محاصرہ ختم کیا جائے اور تہران کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شرائط کی تکمیل کی صورت میں مذاکرات کے آئندہ مراحل پر بات ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور مغربی ایشیا میں جاری بحران کا مرکزی محور مقبوضہ فلسطین ہے۔ ان کے مطابق خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ صہیونی حکومت ہے۔

انہوں نے فلسطینیوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دس سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جبکہ سرد موسم کی آمد کے پیش نظر بے گھر فلسطینیوں کے مسائل انتہائی سنگین ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو عارضی رہائش کے لیے کنٹینر تک لانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ عالمی برادری فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو محض اعداد و شمار سمجھنے کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور ان جرائم کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے۔

ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ جنگ پہلے ہی جاری ہے اور محاصرہ بھی ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ہر صورت حال اور ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔

ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی اور ایران اس کی منظوری بھی نہیں دے گا۔

علاقائی اجلاسوں کی بحالی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال شنگھائی اجلاس سمیت متعدد اہم علاقائی مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے اور ترکیہ و پاکستان کے ساتھ بھی اس سلسلے میں رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی صورت حال کے باوجود ایران علاقائی تعاون کے عمل کو نظرانداز نہیں کر رہا۔

ترکمانستان کے دورے سے متعلق بقائی نے بتایا کہ وزیر خارجہ کے ہمراہ وزارت کے اقتصادی امور کے نائب اور دیگر اقتصادی حکام بھی جائیں گے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جرمنی کے چانسلر کے بیانات اور ممکنہ جنگ کی صورت میں جرمن فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے ایران پر جنگ مسلط کرنے میں کسی بھی انداز سے تعاون کیا ہے، انہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ایران اپنے دفاع میں نرمی دکھائے گا۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی ملک کے خلاف فوجی جارحیت کی تیاری اور منصوبہ بندی میں شریک فریق بھی بین الاقوامی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے اس کے نتائج قبول کرنا ہوں گے۔

ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کے مطالبات پر بقائی نے کہا کہ حالیہ پندرہ برس کے واقعات کے بعد ایرانی عوام کے ذہنوں میں یہ ایک منطقی سوال پیدا ہوا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود مخالف فریق مسلسل بہانے تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے پر ہمیشہ زور دیا گیا ہے، تاہم اس وقت ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔

امریکا کی جانب سے ثالث ممالک کے ذریعے اقتصادی مراعات کی پیشکش کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں اور سعودی عرب سے کسی تجویز کی وصولی کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ انہیں ایسی کسی تجویز کا علم نہیں، تاہم معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

آخر میں ایران کو امریکا کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ہتھیار ڈالنا ایرانیوں کی فطرت میں شامل نہیں۔ ایرانی صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

 
Read 39 times