Print this page

بقائی: جنگ میں مال غنیمت کا دعوی کرنے والے کو پہلے جنگ جیتنی ہوتی ہے

Rate this item
(0 votes)
بقائی: جنگ میں مال غنیمت کا دعوی کرنے والے کو پہلے جنگ جیتنی ہوتی ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: "امریکی صدر نے کہا ہے کہ 'مال غنیمت فاتحین کا حق ہے۔"انہوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ "ہم وینزویلا سے بہت زیادہ تیل لے رہے ہیں؛ اربوں اور اربوں بیرل تیل... اور ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بھی یہی کریں گے۔'"

بقائی نے مزید کہا: "یہ باتیں انسان کو جوزف ہیلر کے ناول 'کیچ-22' کی یاد دلاتی ہیں، وہی ناول جس میں 'میلو میندربائنڈر'، ایک موقع پرست کردار، جنگ کو منافع کمانے کا موقع بنا لیتا ہے۔ جوزف ہیلر ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتا ہے جس میں 'جنگ' اور 'مفادات' اس طرح  سے ایک دوسرے میں گھل گئے ہیں کہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ ذاتی سرمایہ اور مفادات کے لیے لڑ رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا: "ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت اس تخیل کو افسانوی اور مجازی دنیا سے نکال کر امریکہ کی  خارجہ پالیسی کا محور بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"

بقائی نے مزید لکھا: "وہ ایران  کے سلسلے میں وعدہ کرتے ہیں کہ وینزویلا والا راستہ اپنائیں گے۔ لیکن یہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے؛ اس سے پہلے کہ کوئی جنگ کا مال غنیمت تقسیم کرے، اسے جنگ جیتنی ہوگی ، نہ یہ  کہ ایک آبی گزر گاہ میں پھنس کر ہاتھ پیر مارے، اس کے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہ ہو، اسے اسلحے کی کمی کا سامنا ہو اور آخر کار اس پر کوئی کوئی اعتبار بھی نہ کرے۔ "

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ "ایسی صورت حال میں، 'ایران کا مال غنیمت' اس فتح کے لیے ایک کاغذی نشان سے زیادہ نہیں جو کبھی حاصل نہیں ہوگی۔"

بقائی نے مزید کہا: "میلو کم از کم جنگ سے دولت کمانے کا طریقہ جانتا تھا، لیکن یہ لوگ بغیر مال غنیمت کو ہاتھ لگائے، کیمروں کے سامنے خیالی مال غنیمت تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔"

Read 30 times