Print this page

مسجدِ سلیمانیہ کے پوشیدہ راز؛ گنبد میں مٹی کے برتنوں سے لے کر قدیم دھاتی کتبوں تک

Rate this item
(0 votes)
مسجدِ سلیمانیہ کے پوشیدہ راز؛ گنبد میں مٹی کے برتنوں سے لے کر قدیم دھاتی کتبوں تک

 ڈیلی صباح کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ مسجدِ سلیمانیہ سلطان سلیمان قانونی کے حکم پر معروف عثمانی معمار سنان کے ڈیزائن کے مطابق تعمیر کی گئی اور 15 اکتوبر 1557ء کو اس کا افتتاح ہوا۔ اس وقت سے یہ استنبول کی نمایاں ترین تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اپنے شاندار گنبد، انجینئرنگ کے لحاظ سے منفرد ڈیزائن اور گرد و نواح کے تعمیراتی مجموعے کے ساتھ ہم آہنگی کی بدولت یہ مسجد صرف عبادت گاہ ہی نہیں، بلکہ سلطنتِ عثمانیہ کے ثقافتی اور سماجی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔

مسجدِ سلیمانیہ کے مجموعے میں مسجد کے علاوہ دینی مدارس، اسپتال، عوامی باورچی خانہ، حمام اور دیگر عمارتیں بھی شامل ہیں، جو عثمانی دور میں شہری منصوبہ بندی اور سماجی خدمات کے نظام کی عکاسی کرتی ہیں۔ اب اس مجموعے کی مرمت کے عمل نے تقریباً پانچ صدیوں بعد اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے فنی اور فنکارانہ علم کے بعض پہلوؤں کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

گنبد کی صوتی خصوصیات کا راز کھولنے والے مٹی کے برتن

مرمت کے دوران سامنے آنے والی اہم ترین دریافتوں میں مسجد کے گنبد کی اینٹوں کے درمیان رکھے گئے مٹی کے برتن شامل ہیں۔ ان برتنوں کا ذکر کئی برسوں سے اس عمارت کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات میں موجود تھا، لیکن اس سے پہلے ان کی موجودگی کے براہِ راست شواہد دستیاب نہیں تھے۔

روایت رازهای پنهان مسجد سلیمانیه پس از مرمت

معمار سنان یونیورسٹی آف فائن آرٹس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کایا اوچر، جو مرمت کے منصوبے سے وابستہ ہیں، بتاتے ہیں کہ اندرونی حصوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مرمتی ٹیم نے تقریباً 20 ہزار مکعب میٹر حجم کے برابر مچان نصب کیے۔ گنبد میں پڑنے والی دراڑوں کا معائنہ کرتے ہوئے ماہرین کو اینٹوں کی ساخت میں نصب مٹی کے برتن ملے۔

ان کے مطابق، یہ برتن عمودی حالت میں، باقاعدہ فاصلے کے ساتھ اور زیگ زیگ انداز میں نصب کیے گئے تھے۔ ہر برتن کی بنیاد میں ایک سوراخ بھی موجود تھا۔ ماہرین کے معائنے اور صوتی تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ عناصر آواز کو متوازن رکھنے اور اندرونی حصے میں اس کی بازگشت کم کرنے میں کردار ادا کرتے تھے۔

روایت رازهای پنهان مسجد سلیمانیه پس از مرمت

 

رنگوں کی تہیں؛ معمار سنان کے دور کے فن کی ایک جھلک

مرمت کے کام کا ایک اور حصہ گنبد کی آرائش کا جائزہ لینے اور مسجد کی تعمیر کے زمانے سے تعلق رکھنے والے باقی ماندہ آثار کی شناخت کے لیے مختص تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ گنبد کی سطح پر رنگوں اور نئی آرائش کی متعدد تہیں چڑھ چکی تھیں۔ ماہرین یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان تہوں کے نیچے اصل دور کے آثار کس حد تک محفوظ ہیں۔

اوچر کے مطابق، مرمتی ٹیم نے گنبد کے وسیع حصوں کا بالائے بنفشی روشنی میں معائنہ کیا اور رنگوں کی تہیں ہٹا کر معمار سنان کے زمانے کی آرائشی علامات تلاش کیں۔ اس عمل کے دوران باروک طرز کے نقش و نگار بھی شناخت کیے گئے، تاہم یہ نقش گنبد کے صرف بعض حصوں میں موجود تھے۔

دھاتی ساخت اور کم معروف تفصیلات پر مشتمل خطاطی کا کتبہ

گنبد پر موجود خطاطی کا کتبہ بھی مرمت کے دوران تفصیلی معائنے کے مراحل سے گزرا۔ روایتی طور پر یہ کتبہ احمد قرہ حصاری سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم تاریخی دستاویزات میں ان کے شاگرد حسن چلبی کا نام بھی اس کتبے کے خطاط کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہونے والی مرمت کے دوران عبدالفتاح افندی نے اس کتبے کی تجدیدِ آرائش کی تھی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کتبے کی پشت پر موجود سطح زنک سے بنی ہوئی ہے اور یہ سنہری تہہ چڑھے لکڑی کے ایک فریم میں نصب ہے۔ کتبے کے حروف بھی ایسے دھاتی ورقوں پر بنائے گئے ہیں جو زنگ اور خوردگی کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ ان ورقوں کو بڑے کیلوں کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا ہے۔ اس طریقے سے فن پارے کو وقت کے ساتھ پیدا ہونے والے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اوچر نے اس طریقۂ کار کو اپنے پیشہ ورانہ تجربے میں ایک غیر معمولی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق، کتبے کی تیاری کا انداز دھات پر آرائشی مصوری سے مشابہت رکھتا ہے۔

ایک تاریخی ٹکڑا جو عجائب گھر میں ملا

مسجدِ سلیمانیہ کی مرمت صرف گنبد اور آرائشی عناصر تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس میں عمارت کے بعض تعمیراتی اجزا اور پرانے نظاموں کو بھی شامل کیا گیا۔

ان میں ایک اہم چیز وضو کی جگہ کے قریب پانی کی سطح ظاہر کرنے والا نشان تھا۔ ماہرین نے محسوس کیا کہ اس نشان کے اوپری حصے کے کچھ اجزا ضائع ہو چکے ہیں۔ بعدازاں اوچر نے استنبول کے علاقے فاتح میں واقع ترکی کے محکمہ اوقاف کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے عجائب گھر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ایک ایسا ٹکڑا نظر آیا جس کے بارے میں انہیں شبہ ہوا کہ یہ مسجد کے اسی حصے سے تعلق رکھتا ہے۔

جانچ اور پیمائش کے بعد معلوم ہوا کہ اس ٹکڑے کے نقش و نگار اصل نمونے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ صفائی کے بعد اسے دوبارہ مسجد میں منتقل کر دیا گیا اور اوچر کے مطابق، اسے بالکل درست طریقے سے عمارت کے اس حصے میں نصب کر دیا گیا جہاں نقصان پہنچا تھا۔/

 

Read 4 times