Print this page

حدیثِ سلسلۃ الذہب، شہادتِ رہبر معظم انقلاب اور استکبار کے خلاف مزاحمتی جدوجہد

Rate this item
(0 votes)
حدیثِ سلسلۃ الذہب، شہادتِ رہبر معظم انقلاب اور استکبار کے خلاف مزاحمتی جدوجہد

 حدیثِ سلسلۃ الذہب وہ عظیم روایت ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے شہر نیشاپور میں ارشاد فرمائی۔ یہ حدیث صرف ایک اعتقادی بیان نہیں بلکہ فکری، سیاسی اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا:(کلمَةُ لا إلهَ إلَّا اللَّهُ حِصْنِي فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أمِنَ مِنْ عَذابِي)کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) میرا قلعہ ہے، جو اس قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو جائے گا۔پھر آپ نے فوراً اس کی شرط واضح فرمائی:(بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَ)اس قلعے میں داخل ہونے کی شرطیں ہیں، اور میں خود ان شرطوں میں سے ہوں۔

اس حدیث شریف میں توحید کو خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ائمہ کی ولایت کو توحید کے میدان میں داخل ہونے کی شرط بتایا گیا ہے۔ یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے جو ائمہ اطهار علیہم السلام سے لے کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے، "سلسلۃ الذہب" یعنی "سنہری زنجیر" کے نام سے مشہور ہے۔

یہ حدیث، شیعہ اور اہل سنت دونوں کی حدیث کی کتابوں میں مختلف سندوں اور مضامین کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ ان میں سے شیخ صدوق( رہ ) نے اپنی تین کتابوں التوحید، معانی الاخبار اور عیون اخبار الرضا میں یوں بیان کیا ہے:

اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب حضرت رضا علیہ السلام نیشاپور پہنچے تو محدثین آپ کے گرد جمع ہو گئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول خدا! کیا آپ ہمارے پاس سے تشریف لے جا رہے ہیں اور ہمارے لیے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے جس سے ہم فائدہ اٹھائیں؟امام علیہ السلام کجاوے میں تشریف فرما تھے، آپ نے اپنا سرِ مبارک باہر نکالا اور فرمایا:

(حَدَّثَنِی أَبِی مُوسَی الْکَاظِمُ عَنْ أَبِیهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَنْ أَبِیهِ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ عَنْ أَبِیهِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ عَنْ أَبِیهِ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیهِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ حَدَّثَنِی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ قَالَ حَدَّثَنِی جَبْرَئِیلُ قَالَ سَمِعْتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَی یَقُولُ: کَلِمَةُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی)

میرے والد موسیٰ بن جعفر نے مجھ سے بیان فرمایا، انہوں نے اپنے والد جعفر بن محمد صادق سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن علی باقر سے، انہوں نے اپنے والد علی بن حسین زین العابدین سے، انہوں نے اپنے والد حسین بن علی سے، انہوں نے اپنے والد علی بن ابی طالب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا، آپ نے فرمایا: مجھ سے جبرئیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے خداوند متعال سے سنا:(لا الٰہ الا اللہ) میرا مضبوط قلعہ ہے، جو میرے قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ جب قافلہ چلنے لگا تو امام علیہ السلام نے آواز دی: (بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا) اس کے شرطوں کے ساتھ، اور میں خود اس کی شرطوں میں سے ہوں۔۱۔

اہل سنت کے بہت سے بڑے محدثین نے بھی اس حدیث کو مختلف سندوں اور متون کے ساتھ نقل کیا ہے، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ حدیث کا آخری حصہ جو امام نے فرمایا (بشرطها و انا من شروطها)، وہ اہل سنت کے کسی بھی منبع میں بیان نہیں ہوا۔ ۲۔صرف قندوزی نے ینابیع المودّہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔۳۔

اس حدیث کو شیعہ اور سنی محدثین نے مختلف سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے اور سند کے بارے میں ایسے الفاظ بیان کیے ہیں جو اس کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حدیث کا مضمون بہت سی دوسری آیات اور روایات میں بھی آیا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اسے لفظی طور پر متواتر نہ بھی کہیں تو یقیناً معنوی طور پر متواتر ہے۔۷۔

ابن صباغ لکھتے ہیں: قلم اور دوات رکھنے والے محدثین کی تعداد جنہوں نے حدیثِ سلسلۃ الذہب کو تحریر کیا، بیس ہزار سے زیادہ شمار کی گئی۔۸۔

حافظ ابونعیم لکھتے ہیں: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ پاکیزہ انسانوں سے ان کے پاکیزہ باپ دادا تک پہنچی ہے، اور ایک بڑے محدثِ قدیم نے جب یہ حدیث اسی سند کے ساتھ روایت کی تو کہا: اگر یہ سند کسی دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔۹۔

اس حدیث کے شارحین اور مفسرین کے مطابق، کلمہ (لا الٰہ الا اللہ) کا اقرار کرنا اور اس پر عمل کرنا سعادت کا سبب ہے۔ یہ کلمہ درحقیقت قرآن کے اسی اصل معنی اور تصور کو ظاہر کرتا ہے جو قیامت تک بشری معاشرے کے لیے سعادت کا ذریعہ ہے، لیکن یہی کلمہ ولایت کے بغیر ادھورا بلکہ بے حقیقت ہے۔

مجموعی طور پر یہ حدیث دو اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے:

۱۔ توحید کے مقام تک پہنچنا انسان کو ایسی پناہ گاہ میں داخل کرتا ہے جس کا نتیجہ خدائی عذاب سے امن ہے۔

۲۔ اس مقام تک پہنچنا اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور ولایت پر ایمان لیے بغیر ممکن نہیں۔ درحقیقت امام جو ظاہری اور باطنی ولایت کا حامل ہے، وہ انسان کامل ہے جس کی پناہ میں لوگ توحید کی پناہ گاہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔۱۰۔

اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف زبانی اقرارِ توحید کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ولایت کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ یوں اطاعتِ امام کو توحیدی قلعے میں داخلے کی بنیادی کنجی قرار دیا گیا۔"شرط" اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بغیر مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکے۔ یہاں مطلوب حصنِ الٰہی میں داخل ہونا ہےاور اس کی شرط ولایتِ اہل بیتؑ کو قبول کرنا ہے۔جب امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی ذات کو ان شرطوں میں شامل فرمایا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام ائمہ اہل بیتؑ اسی سنہری زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اس تصور کے مطابق توحید محض الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ اطاعت اور عملی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ ولایتِ اہل بیت (علیہم السلام) توحیدِ عملی کے حصول اور حصنِ الٰہی میں داخلے کی شرط ہے۔ یہ حدیث اسلامی تشخص اور عبودیت و اخلاص کے اظہار کی عقیدتی بنیاد ہیں۔ ولایت کو قبول کرنا صرف دل کی محبت نہیں، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ انسان معصومین علیہم السلام کے سیاسی، ثقافتی اور سماجی خطِ مشی کی پیروی کرے اور غیبتِ کبریٰ کے دور میں، ان کے حقیقی نائبین (ولایتِ فقیہ) کی اطاعت کرے۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق تکبر اور طغیان ہمیشہ توحید کے مقابل رہے ہیں۔تاریخ میں فرعون، نمرود اور دیگر طاغوتی قوتیں اسی رویے کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ولایتِ اہل بیتؑ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظلم، جبر اور ناانصافی کے نظاموں سے بیزاری اختیار کرے۔اسی لیے:تبرّی (دشمنانِ حق سے بیزاری) کو ولایت کا حصہ سمجھا گیا۔ظلم اور جبر کے خلاف کھڑا ہونا، ایک دینی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا۔امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنے زمانے میں عباسی اقتدار کے دباؤ کے باوجود اپنے موقف کو واضح رکھا۔ ان کی زندگی کو صبر، استقامت اور اصولی موقف کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

توحید کا حقیقی مفہوم صرف اعتقاد نہیں بلکہ عملی وفاداری ہے۔ولایت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہے۔ظلم کے سامنے جھک جانا، دینی اصولوں سے انحراف کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔رهبر معظم انقلاب شہید امت سید علی خامنہ ای(ره) کی زندگی بھی اسی فکری تسلسل کا ایک عملی نمونہ ہیں۔شہید رہبر معظم ،ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور امام حسین علیہ السلام کی اس فرمان پر کہ(مثلی لا یبایع مثل یزید)وقت کے یزیدوں کے ہاتھوں بیعت نہیں کی بلکہ مقاومت کا اعلی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کی جدوجہد نے مزاحمت کے تصور کو ایک فکری بنیاد فراہم کی اور اسے عالمی سطح پر ایک نظریہ کے طور پر پیش کیا۔

اگر کوئی توحید کا اقرار کرے مگر ظلم کے سامنے سر جھکا دے، تو اس کی وفاداری کمزور تصور کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ولایت کو تسلیم کیا جائے مگر عملی جدوجہد سے اجتناب کیا جائے، تو شرط مکمل نہیں ہوتی۔موجودہ دور میں جدوجہد کے طریقے صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی سمجھے جاتے ہیں، جیسے:

۱۔فکری شبہات اور نظریاتی حملے

۲۔معاشی دباؤ اور پابندیاں

۳۔ثقافتی اثرات اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں

شہید رہبر معظم انقلاب کے فکری نظام میں مقاومت (لا الہ الا اللہ) کا عملی تسلسل اور ولایت میں اخلاص کی علامت ہے، اور مقاومتی محاذ کی حفاظت، شیاطینِ جن و انس کے شر سے اسی حصنِ رحمانی کی حفاظت کرنے کے مترادف ہے۔رہبر شہیدکی نقطۂ نظر سے مقاومت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی مختلف جہتیں ہیں:

۱۔ اقتصادی مقاومت (ظالمانہ پابندیوں کے خلاف) جو حصنِ ولایت میں قومی عزت اور آزادی کی حفاظت ہے۔

۲۔ ثقافتی مقاومت (نرم جنگی حملوں اور ثقافتی یلغار کے خلاف) جو حصنِ توحید کے اندر توحیدی شناخت کی نگہبانی ہے۔

۳۔ سیاسی مقاومت (علاقے میں مقاومتی محاذ کی حمایت، جیسے حزب اللہ لبنان، حماس، اسلامی جہاد، انصار اللہ یمن) جو ایمان کی سرحدوں سے دشمن کو دفع کرنے کا عملی اظہار ہے۔

رہبر شہید امریکہ کے بارے میں فرماتے تھے:امریکہ ہر اعتبار سے ایک استکباری طاقت ہے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ساری دنیا کا مسئلہ ہے، دنیائے اسلام کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے بارے میں امریکیوں کا رویہ استکباری ہے۔ دنیا میں استکبار اور جابر قوتوں کے عزائم یہ ہیں کہ تمام حکومتوں اور ان کے ساتھ ساتھ تمام اقوام کو اپنے موقف، مظالم اور نا انصافیوں کو تسلیم کرنے اور اسی راہ پر چلنے پر مجبور کریں۔استکبار قوموں کے حقوق کو بھی نہیں مانتا۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ قوموں کو انتخاب کا حق ہے، قوموں کو اپنی مرضی کے مطابق اقدامات انجام دینے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق معاشی ماڈل چننے کا حق ہے، اپنی مرضی کے مطابق پالیسیاں اور سیاست وضع کرنے کا حق ہے۔ وہ قوموں کے اس حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔

اسی لیے اہلِ فکر مزاحمت کو صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی رویہ قرار دیتے ہیں۔اس فکری تناظر میں مسلمانوں پر چند بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

۱۔توحید کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھنا بلکہ اس کے تقاضوں کو سمجھنا ۔

۲۔ولایتِ اہل بیتؑ کو عملی زندگی میں شامل کرنا۔

۳۔ظلم اور ناانصافی کے خلاف شعوری موقف اختیار کرنا۔

۴۔علمی، اخلاقی اور سماجی میدانوں میں بھی استقامت اپنانا۔

۵۔استکبار کے خلاف مزاحمت جاری رکھنا۔

شہید رہبر نے مختلف معاملات پر بہت بلند نظر رکھی تھی اور آج ان کی جدائی کے بعد یہی نظر اور حکمت عملی اپنی افادیت ثابت کر رہی ہے۔ ان میں فیصلہ سازی میں عوام الناس کو شامل کرنے پر ان کی توجہ، نیز مذہبی اور حتیٰ کہ غیر مذہبی دانشوروں کے کردار پر زور دینا، اور سب سے اہم ایران کی دفاعی طاقتِ پر ان کا اصرار شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہید رہبر کی جدائی کے وقت متعدد عوامل نے مل کر ایک قومی یکجہتی اور اتحاد کو جنم دیا، جس میں قوم کے تمام طبقے چاہے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، چادر والے ہوں یا بے چادر، اور مختلف اقوام میدان میں آئے اور عالمی طاقت (امریکہ) اور اس کے علاقائی اتحادی اسرائیل کے سامنے موجودگی کی شاندار داستان تخلیق کی۔ حقیقت یہ ہے کہ شہید رہبر اپنی تدبیروں سے 37 سال میں اس ملک کے ایسے فرزند پروان چڑھانے میں کامیاب رہے جنہوں نے صیہونی دشمن اور امریکہ جیسی عالمی طاقت کے خلاف جنگ میں ایرانی صلاحیتوں اور تخلیقی قوت کا مظاہرہ کیا۔

شہید رہبر نے امریکہ، صیہونی حکومت اور یورپی ممالک کی زیادتیوں اور ناجائز مطالبات کے مقابلے میں مضبوطی سے قدم جمائے رکھا، اور ان کا آخری کلام یہ تھا:(میرے جیسا شخص یزید جیسے سے بیعت نہیں کرتا)جبکہ اس قیمتی قول کو انہوں نے پوری ایرانی قوم کے لیے عام کیا اور فرمایا: اِسی طرح ایک قوم جو ایران کی قوم ہے، وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کرے گی۔

شہید رہبر کی اہم خصوصیات میں سے ایک بہادری اور اللہ کی نصرت پر گہرا یقین تھا۔ یہ کہ آپ عالمی کفر کے محاذ کے خلاف جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کریں، جبکہ شاید ساز و سامان، تعداد، قوتِ عمل اور اس کے جلووں کی حیرت انگیزی کے لحاظ سے یہ محاذ آپ کی آنکھیں خیرہ کر دے، یہ ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ جب کوئی شخص اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھتا ہو اور اللہ کے اس وعدے پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ مومنوں کی ضرور مدد کرے گا، تو وہ کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا اور ابرقوتوں کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہو سکتا ہے۔

ایران کا تمدن سازی کے مرحلے میں قدم رکھنا باعث بنا ہے کہ عرب دنیا کے بہت سے دانشور اپنے حاکموں کو حقیر جاننے لگے ہیں اور ایران کو مغرب کے مقابلے میں مزاحمت کی وجہ سے سراہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خلیج فارس کے ممالک کے باشندے ایران کا موازنہ اپنی صورتِ حال سے کرتے ہیں، کیونکہ 47 سالہ مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی قوم نظام سازی اور تمدن سازی کی طرف گامزن ہیں۔یہ علاقہ 200 سال سے استعمار کے مسئلے میں جکڑا ہوا ہے۔ان تمام سالوں میں استعماری طاقتوں نے جو جرائم کیے، ان کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ ایک ایسے ہیرو کے منتظر تھے جو ان زیادتیوں کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اسی لیےمشاہدہ کرتے ہیں کہ جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو علاقائی ممالک کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دو ایٹمی اور استعماری طاقتوں کے ساتھ کامیاب جھڑپوں نے دنیا اور خطے کے لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کر دی ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی جنگ اسلامی انقلاب کے ثقافتی ابعاد اور اس کے انسانی پہلوؤں کا اعلان ہے، اور ہر ایک میزائل کی مانند ایک بیج ہے جو دو سو سالہ مسلمانوں کی تذلیل کے پس منظر میں پڑ چکا ہے، اور جو استکبارِ عالمی کے خلاف مزاحمت کی بہار پیدا کر سکتا ہے۔

حوالہ جات:

1. ابن بابویه، محمد بن على، التوحید، جامعه مدرسین، ایران ؛ قم، چاپ: اول، ۱۳۹۸ق.

2. محمدمحسن طبسی، سلسله الذهب به روایت اهل سنت، مجله فرهنگ کوثر ۱۳۸۵ شماره ۶۷.

3. محمد رحمانى، بررسى حدیث (سلسلة الذّهب)، مجله علوم حدیث ۱۳۷۵.

4. حافظ ابونعیم احمدبن عبدالله اصفهانى، حلیةالأولیاء وطبقات الأصفیاء، دارالکتب العلمیّة.

5. الامام ابن الصّبّاغ، الفصول المهمّة فى معرفة احوال الائمّة، منشورات دارالحدیث.

6. قاسم ترخان، رابطه توحید و ولایت (با تاکید بر حدیث سلسله الذهب)، قبسات، ۱۳۹۰ شماره ۶۲.

7. سلیمان بن ابراهیم القندوزى، ینابیع المودّة لذوى القربى، دارالاسوة، ج۳، ص۱۲۲.

8. ابن بابویه، محمد بن على، عیون أخبار الرضا علیه السلام، نشر جهان، تهران، چاپ: اول، ۱۳۷۸ق.

9. اربلى، على بن عیسى، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، بنى هاشمى،تبریز، چاپ:اول، ۱۳۸۱ق.

10. طوسى، الأمالی، ۱جلد، دار الثقافة،قم، چاپ: اول، ۱۴۱۴ق.

 

 تحریر: مولانا ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

Read 3 times