Print this page

علم و عمل؛ کامیابی کا اصل راستہ

Rate this item
(0 votes)
علم و عمل؛ کامیابی کا اصل راستہ

 رہبرِ شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے ارشادات نوجوان نسل کے لئے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحتوں کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی زندگی کے اس قیمتی دور کو سنجیدگی کے ساتھ علم حاصل کرنے، کردار سازی اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں صرف کریں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کو کبھی معمولی نہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ فرمایا: "صرف خوبصورت گفتگو یا اچھے خیالات اس بات کی دلیل نہیں کہ انسان نے صحیح معنوں میں علم حاصل کر لیا ہے۔ اصل معیار مسلسل محنت، باقاعدہ مطالعہ اور گہری علمی بنیاد ہے۔ بغیر علم کے انسان معاشرے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔"

آپ اس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ علم انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم کے ذریعہ اپنی شخصیت کو استوار کریں اور دل لگا کر تعلیم حاصل کریں۔ اگر انسان اپنے افکار اور صلاحیتوں کو معاشرے میں مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے علمی پختگی ناگزیر ہے۔

اسی طرح آپ کی تعلیمات میں اخلاقی پہلو بھی نہایت نمایاں ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے مطابق تعلیم کے ساتھ پاکدامنی، فضول اور بے فائدہ مشاغل سے اجتناب بھی نوجوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک طالبِ علم کا وقت قیمتی سرمایہ ہے، جسے بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح آپ خاص طور پر دینی طلبہ کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص روحانیت کا لباس پہن لے مگر علم حاصل نہ کرے تو یہ ایک بے معنی عمل ہے، بلکہ ایسا ہے جیسے کوئی کسی چیز پر ناجائز قبضہ کر لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی منصب ایک بڑی امانت ہے، جسے صرف وہی شخص سنبھال سکتا ہے جو علمی طور پر اہل ہو۔

اسی تناظر میں آپ نے ابتدائی علوم جیسے نحو، صرف اور منطق کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور فرمایا: "یہ سب علمی عمارت کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر اعلیٰ علمی مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح فقہ اور اصول کی گہری سمجھ انسان کو ایک مؤثر عالمِ دین بناتی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی کی ان نصیحتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ نوجوان علم کو سنجیدگی سے لیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ جو نوجوان علم اور عمل دونوں میں مضبوط ہوگا، وہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے اور ایک بامقصد زندگی گزار سکتا ہے۔

رہبر شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ اور دیگر بزرگان دین کے ارشادات اور نصیحتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ عمل جو تعلیمی نظام کو متاثر کرے، نوجوانوں خاص طور سے طلبہ کی تعلیم و تربیت میں رکاوٹ بنے وہ کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔

جیسا کہ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے شب قدر کے سلسلہ میں فرمایا: "مَن أحیا هاتَینِ اللَّیلَتَینِ بِمُذاکَرَهِ العِلمِ فَهُوَ أفضلُ" یعنی جو شخص ان دونوں راتوں کو علمی گفتگو اور سیکھنے سکھانے میں گزارے، وہ زیادہ افضل ہے۔ (امالی شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ، مجلس 93)

اسی طرح مفسر قرآن فقیہ اہل بیت علیہم السلام آیۃ اللہ العظمیٰ جوادی آملی دام ظلہ نے فرمایا: شبِ قدر میں الٰہی علوم اور دینی معارف کو سیکھنے، بیان کرنے اور سننے سے بہتر کوئی کام نہیں۔ تفسیر، حدیث یا احکام کی محفلوں کا انعقاد کرنا یا ان میں شرکت کرنا خود ایک سعادت اور توفیق ہے۔ اگر ایسی کوئی مجلس میسر نہ ہو تو انسان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہیے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔

آپ نے مزید فرمایا: تیئیسویں شب، جو ماہِ مبارک رمضان کی تمام راتوں بلکہ انیسویں اور اکیسویں شب سے بھی افضل ہے، اس میں سب سے بہتر کام علم حاصل کرنا اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہی علم انسان کو عقل تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے، اور جو انسان عاقل ہو جائے وہ سکون میں رہتا ہے اور کبھی عذاب میں مبتلا نہیں ہوتا۔

مذکورہ مطالب سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جب شب قدر کا افضل ترین عمل تعلیم و تعلم ہے تو عام حالات میں اس سلسلہ میں غفلت، فراموشی یا کوتاہی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالی کے ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی یعنی سید الاولیاء وسید الاوصیاء امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا: “مواقع بادلوں کی طرح تیزی سے گزر جاتے ہیں، پس نیکی کے مواقع کو غنیمت جانو اور انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو۔”

Read 4 times