Print this page

خطے میں امریکی موجودگی نے عدم تحفظ اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں دیا، ایران

Rate this item
(0 votes)
خطے میں امریکی موجودگی نے عدم تحفظ اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں دیا، ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی تشدد، عدم تحفظ اور دہشت گردی کے فروغ کے سوا کچھ نہیں لائی۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں عراق کے عوام اور حکومت کو دو دہائیوں پر محیط تباہ کن فوجی موجودگی کے بعد امریکی قابض افواج اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے عراق سے انخلا پر مبارکباد پیش کی۔ بیان میں اس پیش رفت کو عراق کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم اور ضروری قدم قرار دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عراق میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی 23 سالہ فوجی موجودگی کا المیہ 20 مارچ 2003 کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے جھوٹے دعوے کے تحت عراق پر امریکی فوجی حملے کے بعد شروع ہوا، جس کے عراق اور پورے خطے کے لیے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوئے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان نتائج میں 10 لاکھ سے زیادہ عراقیوں کی ہلاکت، جن میں دسیوں ہزار بے گناہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے، عراق کے بنیادی ڈھانچے، سکیورٹی اور حکومتی ڈھانچے کو پہنچنے والے سیکڑوں ارب ڈالر کے نقصانات، ماحولیاتی تباہی اور ابو غریب جیل میں عراقی مردوں اور خواتین پر تشدد جیسے سنگین جنگی جرائم شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوجی موجودگی نے عراق اور خطے میں تکفیری دہشت گردی اور داعش کے قیام کے لیے بھی زمین ہموار کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے قبضے، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف عراقی عوام کی مزاحمت اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوجی موجودگی نے تشدد، عدم تحفظ، تقسیم اور دہشت گردی کے فروغ کے سوا کچھ نہیں دیا۔

بیان میں قبضے اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جانیں قربان کرنے والے لاکھوں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بالخصوص ابو مہدی المہندس اور قاسم سلیمانی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ امریکی حکومت کو عراق اور دیگر ممالک پر قبضے کے دوران کیے گئے جرائم اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور اس سے ان جرائم کے بارے میں بازپرس کی جانی چاہیے۔

Read 21 times