Print this page

ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کا اعترافِ شکست

Rate this item
(0 votes)
ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کا اعترافِ شکست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کی منت سماجت کر کے رو سے 3 لاکھ ٹن ڈیزل خریدا ہے جبکہ نومبر کے مہینے کے لیے بھی 5 لاکھ ٹن ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت ایران کے خلاف جنگ میں اس کا واضح طور پر شکست کا اعتراف ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے سے تقریباً مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے۔ یہ شکست فوجی بھی ہے اور سفارتی بھی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام اس کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے دعوے کے جھوٹے ہونے کو بھی ثابت کر دیتا ہے جس میں وہ یہ اعلان کرتا پھرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول برقرار ہو چکا ہے اور روزانہ کئی لاکھ بیرل تیل کی ترسیل بھی انجام پا رہی ہے۔ ٹرمپ اب تک کئی باری یہ دعوی کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت اسی حد تک پہنچ چکی ہے جو جنگ سے پہلے تھی۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجبوری کے عالم میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو یہ بڑی مراعات دینا امریکی اراکین کانگریس کے لیے بڑا دھچکہ اور امریکہ کے اتحادیوں کی پشت میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف ہے۔ ٹرمپ نے ایک طرف روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ دوسری طرف اب وہ اسی سے ڈیزل خریداری کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی ذلت آمیز شکست ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی اراکین کانگریس اور امریکہ کے اتحادی ممالک دونوں کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت انجام پایا ہے جب ابھی گذشتہ مہینے ہی امریکی کانگریس میں ایک بل منظور کیا گیا جس میں ان ممالک پر شدید اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے جو روس سے تیل اور گیس خریداری کرتے ہیں۔ یہ بل منظور ہو کر قانون بھی بن چکا ہے۔
 
روس کے خلاف عائد کی گئی ان پابندیوں کا اصل مقصد اس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کم کر کے اس پر دباو بڑھانا تھا۔ اسی طرح یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مالی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ یاد رہے روس سعودی عرب کے بعد تیل اور گیس برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن اب خود امریکہ ہی روس سے ڈیزل خریدنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ٹرمپ کے اس غیر متوقع اقدام پر شدید غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی ممالک یوکرین جنگ میں پوری طرح یوکرین کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں اور روس کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ یورپی حکمرانوں کا یہ غصہ مختلف سرکاری بیانات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے۔
 
یورپی حکمران ٹرمپ پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس نے مڈٹرم الیکشن میں اپنی اور اپنی پارٹی کی تقریباً حتمی شکست سے بچنے کی مایوسانہ کوشش کرتے ہوئے یوکرین کو انتہائی سستے داموں روس کے ہاتھ بیچ ڈالا ہے۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ روس سے خریدے جانے والا ڈیزل ممکن ہے چند دن تک امریکہ میں ڈیزل کی قیمت کم رکھنے میں موثر ثابت ہو لیکن ہر گز اس ناراضگی اور غصے کو دور نہیں کر پائے گا جو اس وقت ٹرمپ حکومت کے خلاف امریکی عوام، اراکین کانگریس اور سینیٹ کے اراکین میں پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے روس سے اس غیر متوقع سودے بازی نے نیٹو، اس کے رکن ممالک اور یورپی ممالک کے لیے ثابت کر دیا ہے کہ جنگ میں ایران کو فتح حاصل ہو چکی ہے۔ اسی طرح اب وہ اپنی اس پالیسی کے درست ہونے کے بارے میں بھی مطمئن ہو گئے ہیں جو انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے متعلق غیرجانبدار رہ کر اختیار کی تھی۔
 
یورپی حکمران بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ حقیقت میں اسرائیلی جنگ تھی جبکہ دوسری طرف ایران بھی ایک علاقائی طاقت ہے۔ لہذا انہوں نے ماضی میں عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے کے برعکس اس بار غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل مقصد تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی کھربوں ڈالر کی آمدن کے ذریعے امریکہ کو ان قرضوں سے نجات دلا سکے جو امریکی معیشت کی کمر توڑتے جا رہے ہیں۔ یاد رہے اس وقت امریکہ پر قرضے کی سطح 41 کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ وہ بھاری اخراجات پر مشتمل احمقانہ جنگیں ہیں جو امریکہ گذشتہ کئی عشروں سے کرتا چلا آیا ہے۔
 
ٹرمپ کی وہ سب سے بڑی غلطی جس کی بھاری قیمت امریکہ کو عالمی سطح پر اپنی حیثیت گنوا دینے اور اپنے دوست اور اتحادی کھو دینے کی صورت میں چکانی پڑے گی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ وینزویلا سے بھی زیادہ آسانی سے ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قابض ہو سکتا ہے۔ میں اس موقع پر عرب حکمرانوں کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ٹرمپ، جس نے اپنی یورپی اور نیٹو اتحادیوں کو بھی چھوڑ دیا ہے، یوکرین اور اس کی عوام کو بیچ ڈالا ہے اور آئندہ الیکشن میں جیتنے کے لیے ولادیمیر پیوتن کے پاوں پڑ گیا ہے، یقین رکھیں کہ آپ کو بھی چھوڑ جائے گا اور بہت ہی کم قیمت پر آپ کو بیچ ڈالے گا۔ امریکہ خطے میں اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے اور اس کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ تیزی سے خطے سے بھاگ رہا ہے اور بہت جلد خطہ امریکہ کی فوجی موجودگی سے عاری ہو جائے گا۔

Read 20 times