Print this page

روزہ: روح کی پاکیزگی، جسمانی صحت اور ذہنی سکون کا سرچشمہ Featured

Rate this item
(0 votes)
روزہ: روح کی پاکیزگی، جسمانی صحت اور ذہنی سکون کا سرچشمہ

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اندر بے شمار روحانی، اخلاقی اور جسمانی برکتیں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی باطنی اصلاح، نفس کی تربیت اور دل کی پاکیزگی کا جامع نظام ہے۔ رمضان میں رکھا جانے والا روزہ انسان کو صبر، شکر اور تقویٰ کی عملی مشق کراتا ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔

روح کی پاکیزگی

روزہ سب سے پہلے انسان کے باطن کو جِلا بخشتا ہے۔ جب کوئی شخص طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اللہ کی رضا کے لیے حلال چیزوں سے بھی پرہیز کرتا ہے تو اس کے دل میں خشیت اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔ حسد، بغض، کینہ اور نفرت جیسے منفی جذبات آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں۔

روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ یہی ضبطِ نفس روحانی بلندی کا زینہ بنتا ہے۔ عبادت، تلاوتِ قرآن اور دعا کے ذریعے انسان اپنے رب سے قریب ہوتا ہے اور یہ قرب ہی روح کی اصل غذا ہے۔

جسمانی صحت

جدید سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ متوازن انداز میں رکھا گیا روزہ جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ روزہ نظامِ ہاضمہ کو آرام دیتا ہے، جسم سے فاسد مادّوں کے اخراج میں مددگار بنتا ہے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

آج کل "انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ" کو صحت کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے، جو دراصل روزے کے اصولوں سے مشابہ ہے۔ تاہم اسلامی روزے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض جسمانی ڈائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی و اخلاقی تربیت بھی ہے۔ اعتدال کے ساتھ سحری اور افطار کرنے سے جسم توانائی بھی حاصل کرتا ہے اور توازن بھی برقرار رہتا ہے۔

ذہنی سکون

روزہ ذہنی طور پر بھی انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ جب انسان خواہشات پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے تو اس کی قوتِ ارادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

عبادت، ذکر اور دعا دل کو اطمینان بخشتے ہیں۔ روزہ دار کا دل ایک خاص طمانیت محسوس کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا کے لیے ایک مقدس فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہی احساسِ قربت ذہنی دباؤ کو کم کرتا اور دل کو سکون عطا کرتا ہے۔

معاشرتی رواداری

روزہ ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس بھی دلاتا ہے۔ جب انسان خود بھوک اور پیاس کا تجربہ کرتا ہے تو وہ ضرورت مندوں کی تکلیف کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔ یہی احساس سخاوت، ہمدردی اور ایثار کو جنم دیتا ہے۔ افطار کی اجتماعی محفلیں اور باہمی روابط معاشرے میں محبت اور اخوت کو فروغ دیتے ہیں۔

لہذا روزہ ایک ہمہ جہت عبادت ہے جو انسان کی روح کو پاکیزہ، جسم کو صحت مند اور ذہن کو پرسکون بناتی ہے۔ یہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کو بہتر فرد اور ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ اگر ہم روزے کی اصل روح کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

روزہ دراصل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل کامی

ابی نفس پر قابو پانے، دل کو صاف رکھنے اور رب کی رضا کو مقدم جاننے میں ہے۔ یہی پیغام رمضان کا حسن ہے اور یہی اس کی اصل برکت۔

تحریر : فدا حسین ساجدی

Read 4 times