Print this page

انقلابِ اسلامی کا نور

Rate this item
(0 votes)
انقلابِ اسلامی کا نور


گیارہ فروری 1979ء کو جب ایران میں انقلابِ اسلامی کامیابی سے ہمکنار ہوا تو دنیا کے اکثر دانشور حضرات یہ کہتے نظر آئے کہ اس انقلاب کو امریکہ بس چند دنوں میں کچل دے گا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نواب اکبر خان بگٹی مرحوم سے کسی نے ایران کے اسلامی انقلاب کے بارے میں بات کی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے  سوال کیا کہ شیعہ کتنے اماموں کو مانتے ہیں؟ جواب ملا  "بارہ" تو بگٹی صاحب نے کہا یہ انقلاب بارہ مہینے بھی نہیں رہ پاِئے گا۔ لیکن پھر نواب اکبر بگٹی سمیت دنیا بھر کے دانشوروں نے دیکھا کہ 11 فروری 1979ء کو انقلابِ اسلامی کا ایسا نور چمکا، جس نے آج تک دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ انقلابِ اسلامی نے اسلام کا پرچم تھاما اور دنیا بھر کے مظلوموں کو اس کی چھاوں میں پناہ دی، استکبارِ جہانی کی مشکلات کا آغاز ٹھیک اسی وقت سے شروع ہوا۔ مستضعفینِ جہان کا حامی یہ انقلاب امریکہ و اسرائیل کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگیا، امریکہ اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ صدام کے ذریعے انقلابِ اسلامی پہ حملہ آور ہوا، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، لیکن امریکہ کے یہ تمام حربے مٹی میں مل گئے۔

گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ حقیقی انقلاب یوں راتوں رات سب کچھ تبدیل نہیں کر دیتے، یہ تو بس معاشرے پر چھائے جمود کو توڑتے ہیں اور پھر ارتقاء کا سفر شروع کرتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی مخصوص لابی یا تنگ نظر گروہ حقیقی انقلاب لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی انقلاب تو صرف اور صرف عوام کی امنگوں اور معاشرے کی گہرائی سے نکلتے ہیں اور دنیا پر چھا جاتے ہیں۔ بانی ِ انقلابِ اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ امام خمینیرح کی سیاسی علنی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز اکتوبر 1962ء میں ہوا، جب شاہ کی کابینہ نے ایک بل پاس کیا، جس میں امیدواران اور رائے دہندگان میں غیر مسلموں کی شمولیت اور قرآن کریم کی بجائے دوسری آسمانی کتب پر حلف اٹھانے جیسے امور شامل تھے۔ امامرح کو جیسے ہی اس کی اطلاع ملی امامرح  شاہ  کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، جس کا اثر یہ ہوا کہ بل پہ عملدرآمد روک دیا گیا۔

انقلاب کے لئے اگلا پیش خیمہ 1963ء میں یوم عاشور کے موقع پر امام کا وہ خطاب ثابت ہوا، جس میں انہوں نے شاہ کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کا پردہ چاک کیا۔ قم مرگ بر شاہ کے نعروں سے گونجنے لگا، امام کو گرفتار کر لیا گیا، لوگوں میں اشتعال مزید بڑھا تو حکومت نے مارشل لاء نافذ کر دیا، لیکن عوام اپنے رہبر کے بغیر رہنے پہ آمادہ نہ تھے۔ عوامی دباو پر امام کو رہا کر دیا گیا، لیکن اب دیر ہوچکی تھی، امام کی انقلابی فکر شاہ کی ظلم سہتی ایرانی عوام کو اپنا گرویدہ بنا چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں 1964ء میں ایک اور بل منظور کیا گیا، جس میں ایران کے اندر امریکی فورسز کی تعیناتی کے لئے تمام رکاوٹوں کا خاتمہ شامل تھا۔ امام خمینیرح نے ایک طاغوت شکن خطاب کے ذریعے اس بل کی زبردست مخالفت کی۔ شاہ کی حکومت امام کی اس مزاحمت سے سخت تذبذب کا شکار تھی، امام کی گرفتاری کا تجربہ ناکام ہوچکا تھا، شاہ کے پاس اب ایک ہی رستہ بچا تھا، سو اس نے وہ آزما دیا۔

4 اکتوبر 1964ء کو امام کو جلا وطن کر دیا گیا، جلا وطنی کے دوران امامرح ترکی، نجف اشرف اور پیرس میں قیام پذیر رہے، لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود امام اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹے۔ اس دوران امام کے فرزند کو شہید کر دیا گیا۔ امام کا عزم و حوصلہ دیدنی تھا، پائے استقلال میں ذرا برابر بھی لغزش لائے بغیر اپنے مشن کو آگے بڑھاتے رہے۔ بالآخر 14 سال کی جلا وطنی کے بعد یکم فروری 1979ء کو امام تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ پہ اترے تو مناظر دیدنی تھے، عوام اپنے محبوب لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ بختیار کی حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اپنے رہبر کی آواز پہ لبیک کہتی ایران کی انقلابی عوام نے شاہی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا۔ 11 فروری کا سورج انقلابِ اسلامی کی نوید لے کر طلوع ہوا اور آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ امام خمینی رح کی فکر اور ان کے راہنما اصولوں پر گامزن امام راحل کے نظریاتی و معنوی فرزند آیت۔۔۔ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ کی بابرکت قیادت میں ایران تیزی سے ترقی کے زینے طے کرتا دنیا بھر میں اپنا مقام بنا چکا ہے۔

انقلابِ اسلامی نے جہاں دنیا بھر میں اسلام و مسلمین کو سربلند رکھا، وہیں اہلِ اسلام کو ایسے فرزند بھی عطا کئے جنہوں نے سرفرازی کا درس کربلا سے حاصل کیا تھا۔ آج جب انقلابِ اسلامی اپنی 41ویں بہار دیکھ رہا ہے، ہمارے درمیان وہ دلوں کا سردار موجود نہیں، جس نے اپنی جان اس خطے کے امن و امان پہ قربان کر دی۔ درحقیقت فرزندِ انقلاب، مدافعِ اسلام و مسلمین شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ آج دنیا تکفیری فتنے داعش سے چھٹکارے کو شہید سلیمانی کی فدا کاریوں کا مرہون منت سمجھتی ہے۔ نیا مشرقِ وسطی بنانے کے ناپاک و منحوس امریکی و صیہونی عزائم کو خاک میں ملانے والے سردار قاسم سلیمانی کو ایک بزدلانہ حملے میں شہید کرکے امریکہ یہ سمجھ رہا تھا کہ انقلابِ اسلامی اب اپنے پاوں پہ کھڑا نہیں رہ پائے گا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ 11 فروری 1979ء کو اسلامی انقلاب کا جو نور چمکا تھا، شہید قاسم نے 3 جنوری 2020ء کی صبح بغداد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اسے جلا بخش دی ہے۔
پھونکوں سے یہ چراغ  بجھایا نہ جائے گا

Read 82 times