Print this page

نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان 10 بنیادی فرق Featured

Rate this item
(0 votes)
نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان 10 بنیادی فرق

ایران کے سابق سفیر اور سینئر سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ نیابتی نہیں بلکہ ایک حقیقی مزاحمتی قوت ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے نمائندے کے مطابق، شہید سردار قاسم سلیمانی کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب بدھ کی شام تہران میں واقع شہید آوینی فیکلٹی میں منعقد ہوئی۔

اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سابق سفیر برائے ترکیہ اور سابق سفارت کار محمد فرازمند نے 12 روزہ جنگ اور محورِ مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے میں ایک منظم بیانیہ سازی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محورِ مزاحمت اور ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور امریکہ و صہیونی رژیم جب چاہیں ایران پر حملہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ محورِ مزاحمت اور نیابتی قوت میں اصل فرق کیا ہے، اور کہا کہ انہوں نے یہ بات رائج کرنے کی کوشش کی کہ حزب اللہ، الحشد الشعبی اور انصاراللہ ہماری نیابتی قوتیں ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں۔ یہ نیابتی نہیں بلکہ مزاحمتی قوتیں ہیں۔ اس سابق سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کم از کم 10 بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں:
1۔ مزاحمتی قوت کا بنیادی ہدف صہیونی قبضے اور امریکہ کے علاقائی منصوبے کے خلاف مزاحمت ہے، جبکہ نیابتی قوت کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔
2۔ مزاحمتی قوت کرائے کی نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی کرائے کے جنگجو تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کرائے کے جنگجو، جیسے ویگنر گروپ، صرف پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔
3۔ مزاحمتی قوت عدل، حق طلبی اور تسلط کے انکار پر مبنی بیانیہ رکھتی ہے۔
4۔ مزاحمتی قوت نظریاتی اور بامقصد ہوتی ہے، جبکہ نیابتی قوتیں جیسے داعش آرمان پسند نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے پاس انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔
5۔ مزاحمتی قوت اپنے سیاسی جغرافیے میں منصوبہ رکھتی ہے اور عوامی حمایت کی حامل ہوتی ہے۔
6۔ مزاحمتی قوت اپنے ہی ملک کی حکومت اور عوام کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتی، جبکہ نیابتی قوت ایسا کرتی ہے۔
7۔ نیابتی قوت کا اپنے بیرونی حامیوں سے رابطہ منقطع ہوتے ہی وجود ختم ہو جاتا ہے، لیکن مزاحمتی قوت ایسا نہیں ہوتی۔
8۔ مزاحمتی قوت علیحدگی پسند نہیں ہوتی بلکہ علیحدگی پسندی کے خلاف جدوجہد کرتی ہے؛ اس کی مثال عراقی کردستان میں ہونے والا علیحدگی کا ریفرنڈم ہے جس کے خلاف الحشد الشعبی نے کردار ادا کیا۔
9۔ مزاحمتی قوت فرقہ وارانہ یا نسلی نہیں ہوتی بلکہ ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہوتی ہے۔
10۔ مزاحمتی قوت کا کمانڈر خودمختار ہوتا ہے اور باہر سے احکامات نہیں لیتا۔

محمد فرازمند نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی برسی پر سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کریں اور جعلی روایات کا مؤثر جواب دیں۔ خطے کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ریاض، دوحہ اور مسقط سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو بے مثال ہیں۔ 2017 میں جب خلیجی ممالک نے قطر کا محاصرہ کیا اور یہ ملک ایران اور ترکیہ کی مدد سے بچ نکلا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سے لوگ منتظر تھے کہ امارات کوئی غلطی کرے تاکہ سعودی عرب اس کا جواب دے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، امارات کے القائی بیانیوں کے زیرِ اثر یمن کی جنگ، جمال خاشقجی کے معاملے اور دیگر کئی سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارا جنوبی ہمسایہ (امارات) خطے میں اسرائیل کے منصوبوں کا عملی آلہ بن چکا ہے، جس کی تازہ مثال صومالی لینڈ کا معاملہ ہے۔

Read 6 times