Print this page

درست فرمایا رہبر انقلاب اسلامی نے Featured

Rate this item
(0 votes)
درست فرمایا رہبر انقلاب اسلامی نے


برطانوی تجزیہ کار نے امریکی بحری بیڑے کے خلاف ایرانی میزائل نظام کو ایک بڑے  خطرے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ سابق برطانوی سفارت کار نے ایران کی میزائل، دفاعی اور بحری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکی بحری بیڑے کے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری دفاعی طاقت نہیں ہے۔ ججنگ فریڈم پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور ریٹائرڈ برطانوی سفارت کار نے امریکی بحری بیڑے کے ایران کی فائرنگ رینج سے دور ہونے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ الیسٹر کروک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو خطرے سے باہر نکلنے کے لیے ایران کی ساحلی پٹی سے مزید دور جانے پر مجبور کیا گیا ہے، کیونکہ یہ (بحری بیڑہ) کافی فضائی دفاعی میزائلوں سے لیس نہیں ہے۔ اس طرح کے ہر ڈسٹرائر کے پاس تقریباً 50 سے 100 میزائل ہوتے ہیں، لیکن آپ ایک وقت میں صرف دو یا تین میزائل استعمال کرسکتے ہیں۔"

تجزیہ کار نے مزید کہا کہ "اگر ڈرونز کے ایک غول، مثال کے طور پر 300 ایرانی ڈرونز بیک وقت فائر کئے جاتے ہیں تو انہیں امریکی بحری بیڑے کو اپنے تقریباً تمام فضائی دفاع کو استعمال کرنا پڑے گا، جس سے وہ دفاعی حوالے سے کمزور ہو جائے گا۔ الیسٹر نے مزید کہا البتہ یہ صرف زمینی حملوں کا معاملہ نہیں ہے اور یہ کہ "ایران کے پاس ایک آبدوز کا بیڑا ہے، جو 25 سے 30 چھوٹی آبدوزوں سے لیس ہے، جن میں سے ہر ایک اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ تیز رفتار کشتیاں بھی ہیں، جن کو نشانہ بنانا مشکل ہے اور وہ اینٹی شپ میزائلوں سے بھی لیس ہیں۔ برطانوی ماہر کے مطابق "لہذا یہ پورا بحری بیڑہ مکمل طور پر ایرانی فائر رینج میں ہے۔اسی طرح العدید اور امریکہ کے دیگر اڈے بھی ایران کی میزائل رینج میں ہیں۔

حالیہ مہینوں میں، امریکی فوج نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی مہم جوئی کا خطے میں فیصلہ کن ایرانی جواب دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں، اگرچہ یہ بحری بیڑہ خطرناک ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک ہمارے وہ ہتھیار ہیں، جو ان کو سمندر میں غرق کر دیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سترہ فروری انیس سو اناسی میں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے عوام کے قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے مختلف طبقات سے خطاب کیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ امریکہ کے صدر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے، لیکن دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی کبھی ایسا تھپڑ کھا سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہوسکے۔ وہ مسلسل کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں۔ ٹھیک ہے، بحری بیڑا یقیناً ایک خطرناک چیز ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے، جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ میں غرق کرسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی صدر نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ سینتالیس برس سے امریکہ، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کرسکا اور اس بات کی شکایت انہوں نے اپنے عوام سے کی۔ سینتالیس برس سے اسلامی جمہوریہ کو ختم نہ کرسکنے کا ٹرمپ یہ اعتراف ایک اہم اعتراف ہے اور میں کہتا ہوں کہ تم بھی یہ کام نہیں کرسکو گے۔

تحریر: محمد رضا جعفری

Read 5 times