ایران میں سب سے طاقتور ادارے کا نام مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) ہے۔ یہ درحقیقت ریاستی قیادت کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے ایک علمی و مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری مختلف کمیشنوں اور انتظامی شعبوں کے ذریعے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی ذمہ داری اسلامی نظام میں اعلیٰ ترین قائد (سُپریم لیڈر) یعنی رہبر کا انتخاب کرنا، اس کی شرعی و قانونی شرائط کی نگرانی کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے منصب سے معزول کرنے کا اختیار رکھنا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ایران میں قیادت علم سے جنم لیتی ہے اور حکمت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ادارہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت ایسے افراد کے انتخاب کے ذریعے ہونی چاہیئے جو علم اور بصیرت کے حامل ہوں۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مجلس خبرگانِ رہبری وہ منتخب آئینی مجلس ہے جو ریاست کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس کا تاریخچہ کچھ یوں ہے کہ 10 دسمبر 1982ء کو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مجموعی طور پر 83 افراد منتخب ہوئے، اور ان منتخب اراکین نے 15 اگست 1983ء کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ مجلس اس سیاسی و فکری روایت کی نمائندہ تھی جس میں اقتدار کو محض قوت کا مظہر سمجھنے کے بجائے ذمہ داری اور امانت سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس کا قیام اس تصور کی عملی تعبیر تھا کہ قیادت عقل، دیانت داری اور بصیرت کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیئے۔ سن 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت کی عوامی قبولیت کے بعد آئین کے معماروں نے طویل غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ریاستی ڈھانچے میں ایک ایسا منصب قائم کیا جائے جو مقامِ رہبری (اعلیٰ منصبِ قیادت) کہلائے اور ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جو اس منصب کے انتخاب اور نگرانی کی ذمہ دار ہو، جسے مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کہا گیا۔
دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مجلس اس نظریے پر تشکیل پائی ہے کہ اقتدار و اختیارات کا ہتھیار اس کے سُپرد کرنا چاہیئے کہ جو علم و حکمت کا امین ہو۔ اسی لئے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنے والے ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مجلس تدبیر کرنے والے، زندہ ضمیر، باشعور، تجربہ کار اور اپنی ذمہ داری نبھانے والوں کی مجلس ہے۔ اس کے مختلف کمیشن اور انتظامی شعبے ماہرین کے زیرِ نگرانی مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور ریاستی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مجلس ریاست کو ایک زندہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے نزدیک ریاست کے مختلف ادارے اس کے اعضا کی مانند ہوتے ہیں۔ جب ہر عضو اپنا کام دیانت اور مہارت سے انجام دے رہا ہو تو پورا نظام متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔
اس مجلس کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر دو اہم ستون ہیں: مجلس کی صدارت یعنی ہیئتِ رئیسه (انتظامی قیادت) اور اس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (مجالسِ تحقیق و جائزہ)۔ اس مجلس کے ہر دور کے آغاز میں ایک عارضی صدارت قائم کی جاتی ہے جسے ہیئتِ رئیسهٔ سنی (عارضی عمر کی بنیاد پر منتخب صدارت) کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معمر رکن صدر بنتا ہے اور دیگر ارکان مجلس کے انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔ یہ عارضی صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلاتی ہے اور پھر مستقل صدارت کے انتخاب کا انتظام کرتی ہے۔ اس انتظام میں ایک خاص نظم اور وقار نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں جہاں قانون کی روشنی ہو وہاں فیصلہ معتبر ہوتا ہے اور جہاں نظم کی فضا ہو وہاں اجتماع مضبوط ہوتا ہے۔
مستقل صدارت جسے ہیئتِ رئیسهٔ دائم (مستقل مجلسِ انتظام) کہا جاتا ہے خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اس میں ایک صدر، دو نائب صدر، دو منشی اور دو منتظم شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف مجلس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں بلکہ مجلس کے انتظامی، مالی اور تنظیمی امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اس منصب کی ذمہ داری اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت محض اختیار کا نام نہیں بلکہ احتساب کا بھی نام ہے۔ مجلس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (تحقیقی و مشاورتی مجالس) اس کے فکری اور عملی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں آئین کی دفعہ 108 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 108 (قانون سازی سے متعلق مجلس)، مالی و انتظامی کمیشن یعنی کمیسیون امور مالی و اداری (مجلسِ مالی و انتظامی امور)، اور آئین کی دفعات 107 اور 109 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 107 و 109 (اہلیتِ قیادت کے جائزے کی مجلس) شامل ہیں۔ ان کمیشنوں کی فعالیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے جذبات کے بجائے تحقیق اور تدبر سے کیے جاتے ہیں۔
مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کی بنیادی ذمہ داریاں تین اہم امور کے گرد گھومتی ہیں: انتخابِ رہبر (اعلیٰ قائد کا انتخاب)، عزلِ رہبر (قائد کو منصب سے ہٹانے کا اختیار) اور نظارت بر رہبر (قائد کی نگرانی)۔ رہبر کا انتخاب ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ ترین منصب کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم، تقویٰ اور بصیرت کا حامل ہو۔ اسی طرح آئین کے مطابق اگر رہبر اپنی مقررہ شرائط کھو دے تو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے عزل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ مجلس خبرگان رہبری کے وجہ سے ایران میں اقتدار کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے احتساب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب بلند ضرور ہے لیکن قانون اس سے بلند تر ہے، اور سُپریم کمانڈر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں لیکن اس منصب کی ذمہ داری اس سے بھی وسیع تر ہے۔
مجلس خبرگان رہبر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی بھی کرتی ہے، جسے نظارت بر رہبر (قیادت پر نگرانی) کہا جاتا ہے، تاکہ ریاستی نظام اپنی اصل روح کے مطابق چلتا رہے۔ یہاں نگرانی کا عمل کسی مخالفت یا جاسوسی کی علامت کے بجائے استحکام، احتساب اور اعتماد کی ضمانت ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خبرگان کے نمائندوں کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں جن میں فقاہت (دینی قانون میں مہارت)، سیاسی و سماجی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور اخلاقی شائستگی شامل ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ اس مجلس میں ایسے افراد شامل ہوں جو علم اور کردار دونوں میں نمایاں ہوں۔ بطورِ خلاصہ اس مجلس کا تعارف یہ ہے کہ اس میں فیصلے کھوکھلی رائے کے بجائے گہری غور و فکر، عمیق بحث و مباحثے اور تدبر سے کئے جاتے ہیں، اس میں اختیار اخلاق سے جڑا ہوتا ہے، اور یہاں قیادت صرف ایک الہی و عوامی امانت ہوتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی