Print this page

شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ای

Rate this item
(0 votes)
شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ای

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام جاری۔ پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

مَا نَنسَخْ مِنْ ءَآیَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِها.

اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا داعِیَ‌اللهِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا بابَ‌اللهِ وَ دَیّانَ دینِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا خَلیفَةَ‌اللهِ و ناصِرَ حَقِّهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا حُجَّةَ‌اللهِ وَ دَلیلَ اِرادَتِه؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ اَیُّهَا المُقَدَّمُ المَأمُول؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ بِجَوامِعِ السَّلام؛ اَلسّلامُ‌عَلیکَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.

آغاز گفتگو میں، سب سے پہلے اپنے آقا و سرور (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی خدمت میں، عظیم رہبرِ انقلاب، خامنہ ای عزیز و حکیم کی دلخراش شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور آپ سے پوری ایرانی قوم، بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں، اسلام اور انقلاب کے تمام خدمت گزاروں، ایثار کرنے والوں، شہداء کی جدوجہد میں شریک ہونے والوں خصوصا حالیہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور خود اپنی حقیر ذات کے لیے دعائے خیر کا طلبگار ہوں۔

دوسری بات میری ملتِ عظیم ایران سے ہے۔ سب سے پہلے لازمی سمجھتا ہوں کہ محترم مجلسِ خبرگان کی رائے کے بارے میں اپنی رائے اور موقف مختصر طور پر بیان کروں۔  

آپ کا یہ خادم، سید مجتبی حسینی خامنہ ای آپ سب کے ساتھ اور اسلامی جمہوری کے ٹیلی وژن کے ذریعے مجلسِ خبرگان کے فیصلے سے مطلع ہوا۔  

میرے لیے اس منصب پر بیٹھنا، جہاں دو عظیم پیشوا یعنی امام خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای تشریف فرما ہوچکے ہیں، بہت دشوار کام ہے۔  

کیونکہ یہ کرسی اس شخصیت کی نشست گاہ رہی ہے، کہ جس نے 60 سال سے زائد خدا کی راہ میں جدوجہد کی، ہر طرح کی لذت اور آرام کو چھوڑا اور نہ صرف اپنے دور بلکہ اس ملک کی تاریخ کے حکمرانوں میں ایک منفرد و تابناک ہستی کے طور پر ابھرے۔ ان کی زندگی بھی اور ان کی شہادت بھی شکوہ اور عزت کے ساتھ وابستہ تھی، جو صرف اللہ تعالی پر توکل اور حق کے سہارے ممکن ہوئی۔

مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم کی زیارت کروں۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ استقامت کا پہاڑ تھا اور جو سنا، وہ یہ تھا کہ ان کے صحیح ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔  

ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم کو طویل مدت تک گفتگو کرنی ہوگی۔  

اس موقع پر میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو موزوں مواقع کے لیے چھوڑتا ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ اس منصب پر بیٹھنا میرے لیے بھاری ہے، اور اس عظیم ہستی کے بعد اس خلاء کو صرف خدا کے سہارے اور آپ عوام کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے نکتے پر زور دوں جس کا میری اصل گفتگو سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیشرو کے نمایاں کارناموں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے عوام کو ہر میدان میں شریک کیا، مسلسل انہیں بصیرت اور آگاہی دی اور عملی طور پر ان کی قوت پر اعتماد کیا۔ اسی طرح انہوں نے حقیقت میں “عوام” اور “جمہوریت” کے مفہوم کو عملی شکل دی، اور دل کی گہرائی سے اس پر ایمان رکھتے تھے۔

اس حقیقت کا واضح اثر ان چند دنوں میں نظر آیا جب ملک رہبر اور بغیر سپریم لیڈر کے بغیر تھا۔ حالیہ واقعے میں عظیم ایرانی قوم کی بصیرت اور دانائی، ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں بھرپور موجودگی نے دوستوں کو تحسین پر مجبور اور دشمنوں کو حیران کر دیا۔ یہ آپ ہی لوگ تھے جنہوں نے ملک کی رہنمائی کی اور اس کے اقتدار کو یقینی بنایا۔

وہ آیت جسے میں نے اس تحریر کے آغاز میں ذکر کیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا جو فراموش کر دی جائے، مگر یہ کہ اللہ جلّ و علا اس کے بدلے اس جیسی یا اس سے بہتر نشانی عطا فرما دیتا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کے ذکر کی مناسبت یہ ہرگز نہیں کہ یہ بندہ خود کو شہید رہبر کے برابر سمجھے، چہ جائے کہ خود کو ان سے برتر تصور کرے؛ بلکہ اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد آپ عزیز ملت کے بروقت اور نمایاں کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے سلب ہوگئی، تو اس کے بدلے ایک بار پھر ملت عمار یاسر کی طرح ایران کی میدان میں موجودگی اس نظام کو عطا ہوئی۔

یہ بات جان لیجیے کہ اگر میدان میں آپ کی قوت اور موجودگی ظاہر نہ ہو تو نہ قیادت اور نہ ہی مختلف ادارے، جن کی حقیقی شان عوام کی خدمت ہے، اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھاسکیں گے۔

تاکہ یہ حقیقت بہتر طور پر عملی شکل اختیار کرے، سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد، ان پر توکل، اور انوارطیبہ معصومین علیہم الصلوٰۃ والسلام سے توسل کو ایسا اکسیرِ اعظم اور کبریت احمر سمجھنا چاہیے جو ہر قسم کی کشادگی اور دشمن پر یقینی فتح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایک عظیم برتری ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے دشمن اس سے محروم ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ قوم کے تمام افراد اور طبقات کے درمیان اتحاد کو کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ عام طور پر مشکل حالات میں یہی اتحاد زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کیا جائے۔

تیسری بات یہ ہے کہ میدان میں عوام کی مؤثر موجودگی برقرار رہنی چاہیے؛ چاہے وہ اسی طرح ہو جیسے آپ نے ان جنگی دنوں اور راتوں میں ثابت قدمی دکھائی، یا پھر سماجی، سیاسی، تعلیمی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سکیورٹی کے میدانوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنا درست کردار سمجھے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر اسے عملی طور پر ادا کرے۔

قیادت اور بعض دوسرے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے مختلف افراد اور طبقات کو ان ذمہ داریوں اور کرداروں کی طرف متوجہ کریں۔ اسی لیے میں یوم القدس کی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اہمیت یاد دلانا چاہتا ہوں، اور اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس میں دشمن کے خلاف مضبوط پیغام سب کے سامنے نمایاں ہونا چاہیے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے غفلت نہ کریں۔ الحمدللہ اکثر ایرانیوں کی ہمیشہ یہی عادت رہی ہے، اور توقع ہے کہ ان خاص دنوں میں جب قدرتی طور پر قوم کے کچھ افراد دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، یہ جذبہ اور بھی زیادہ نمایاں ہو۔

اسی موقع پر میں خدمات انجام دینے والے سرکاری اداروں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ قوم کے ان عزیز افراد اور عوامی امدادی تنظیموں کی ہر ممکن مدد اور تعاون کریں اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔

اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو آپ عزیز ملت کے لیے عظمت اور سربلندی تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اس کی سب سے قریب مثال، ان شاء اللہ، حالیہ جنگ میں دشمن پر کامیابی ہوسکتی ہے۔

میری بات کے تیسرے حصے میں، میں دل سے اپنے بہادر مجاہدوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایسے وقت میں جب ہماری قوم اور ہمارا پیارا وطن بڑی طاقتوں کے سرغنوں کی طرف سے ناحق حملوں کا سامنا کر رہا ہے، ہمارے مجاہدین نے مضبوط اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ انہوں نے دشمن کو یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی کہ وہ ایران پر قابو پا سکتا ہے یا اسے تقسیم کرسکتا ہے۔

عزیز مجاہد بھائیو! عوام کی صاف اور واضح خواہش یہ ہے کہ دشمن کو روکنے والا اور اسے پشیمان کرنے والا دفاع جاری رکھا جائے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا دباؤ بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے۔  

کچھ دوسرے محاذوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا ہے جہاں دشمن کمزور ہے اور زیادہ نقصان اٹھا سکتا ہے۔ اگر جنگی حالات جاری رہیں اور مصلحت کا تقاضا ہوا تو ان محاذوں کو بھی فعال کیا جائے گا۔

میں محاذ مزاحمت کے تمام مجاہدوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مقاومتی محاذ کے ملکوں کو اپنے قریبی اور مخلص دوست سمجھتے ہیں۔ مزاحمت اور مقاومتی محاذ، اسلامی انقلاب کی بنیادی اقدار کا لازمی حصہ ہیں اور ان سے الگ نہیں ہوسکتے۔ یقینا اگر اس محاذ کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں تو صیہونی فتنہ سے نجات کا راستہ مزید آسان ہوجائے گا۔  

ہم نے دیکھا کہ یمن کے بہادر مؤمنین نے غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع ترک نہیں کیا، جانثار حزب اللہ نے تمام مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا ساتھ دیا، اور عراق کی مزاحمتی قوتیں بھی اسی راستے پر دلیری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

چوتھے حصے میں میری بات ان لوگوں سے ہے جو ان چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں؛ چاہے وہ لوگ ہوں جنہوں نے اپنے کسی عزیز کی شہادت کا دکھ سہا ہو، یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں، یا وہ افراد جن کے گھروں یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔

سب سے پہلے میں شہداء کے معزز خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں یہ احساس اس لیے بھی سمجھتا ہوں کیونکہ اس درد کا ذاتی تجربہ میرے پاس بھی ہے۔ میرے والد کی شہادت کا غم تو ایک قومی غم بن چکا ہے، لیکن اس کے علاوہ میں نے اپنی عزیز اور وفادار اہلیہ کو بھی کھویا جن سے مجھے بڑی امیدیں تھیں، اپنی فداکار بہن کو کھویا جو اپنی زندگی والدین کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھی اور آخرکار شہادت کا مقام پایا، اسی طرح اس کے چھوٹے بچے کو بھی، اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو بھی جو ایک عالم اور شریف انسان تھے۔ میں نے ان سب کو شہداء کے قافلے کے سپرد کیا ہے۔

لیکن جو چیز انسان کو ان مصیبتوں پر صبر کرنے کے قابل بناتی ہے، بلکہ کبھی کبھی اسے آسان بھی کر دیتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا وہ یقینی وعدہ ہے کہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اس لیے صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت پر امید اور بھروسا رکھنا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ بدلہ صرف رہبر معظم انقلاب کی شہادت تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ ہماری قوم کا ہر وہ فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوا ہے، اس کے خون کا بدلہ بھی ہمارے ذمے ہے۔

اب تک اس انتقام کا ایک محدود حصہ عملی طور پر لیا جاچکا ہے، لیکن جب تک مکمل طور پر پورا نہیں ہوجاتا، یہ معاملہ ہمارے سامنے باقی رہے گا۔ خاص طور پر ہمارے بچوں اور معصوموں کے خون کے معاملے میں ہماری حساسیت اور بھی زیادہ ہوگی۔ اسی لیے دشمن نے میناب کے شجرہ طیّبہ اسکول اور اسی طرح کے کچھ دوسرے مقامات پر جو جان بوجھ کر جرائم کیے ہیں، ان کی خصوصی طور پر تحقیق اور حساب لیا جائے گا۔

تیسری بات یہ کہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو لازماً مناسب اور مفت طبی سہولیات دی جائیں اور انہیں کچھ دوسری ضروری سہولتیں اور مراعات بھی فراہم کی جائیں۔

چوتھی بات یہ کہ جہاں تک موجودہ حالات اجازت دیں، لوگوں کی ذاتی جائیداد اور املاک کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ دونوں امور متعلقہ ذمہ داران کے لیے لازمی ذمہ داری ہیں، جنہیں پورا کرکے اس کی رپورٹ مجھے پیش کی جائے۔

میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہر حال میں دشمن سے اس نقصان کا ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو جتنا ہم مناسب سمجھیں گے اتنی مالیت اس کی املاک سے لے لیں گے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو اتنی ہی مقدار میں اس کی املاک کو تباہ کر دیں گے۔

Read 5 times