Print this page

ایران فاتح ہے، مگر کیسے؟ مغربی حلقوں کے اعترافات

Rate this item
(0 votes)
ایران فاتح ہے، مگر کیسے؟ مغربی حلقوں کے اعترافات
نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل وسلے کلارک نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس ٹوماہاک میزائلوں کا 50 فیصد سے بھی کم ذخیرہ رہ گیا ہے۔ ایرانی حملوں میں ہم نے ایسے ریڈار کھو دیئے ہیں جن کی جگہ لینا مشکل ہے۔ اسی طرح تھاڈ انٹرسپٹرز کا نصف ذخیرہ استعمال کر لیا ہے۔ ان میزائلوں کو پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس سے پہلے پنٹاگون حکام نے امریکی کانفرنس کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ ایران جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ کیے۔ تاہم سی این این نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جنگ کی حقیقی لاگت 40 سے 50 ارب ڈالر ہے۔ سی این این کے مطابق، 25 بلین ڈالر کا یہ سرکاری تخمینہ ایک "کم تر تخمینہ" ہے، جس میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی مرمت کی لاگت شامل نہیں ہے۔ اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ جب امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیر نو اور تباہ شدہ اثاثوں کی تبدیلی کی لاگت کو شامل کیا جائے تو اس جنگ کی اصل لاگت کا تخمینہ 40 سے 50 بلین ڈالر کے قریب ہے۔

ایران غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، این بی سی نیوز
چند روز پہلے امریکی چینل این بی سی نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کو معاہدے کی کوئی جلدی نہیں، وہ غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔ این بی سی نیوز نے ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ صورتحال پر اپنی رپورٹ میں مغربی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ایران موجودہ حالات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن امریکی اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فضائی حملوں میں شدت لائی، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا اور بحری ناکہ بندی کا حکم دیا۔ اس کے باوجود تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ این بی سی کے مطابق: “ایران کے رہنماؤں کے قتل اور متعدد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود، ایک مغربی سفارتکار اور انٹیلی جنس جائزوں سے آگاہ پانچ مغربی حکام کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں سے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے۔

ان حکام نے کہا کہ یہ حکومت غیر متوقع طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہو گئی ہے اور حتیٰ کہ کچھ حد تک زیادہ سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کر چکی ہے۔مغربی ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران میں اصلاح پسند سیاسی دھڑا اب پس منظر میں چلا گیا ہے، کیونکہ امریکہ کی شدید بمباری اور ٹرمپ کے بار بار الٹی میٹم نے ان کے اس مؤقف کو کمزور کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ نرم رویہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ میں بھی سیاسی اخراجات بڑھ رہے ہیں؛ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، ٹرمپ اور چینی صدر کی اہم ملاقات متوقع ہے، اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئی رائے شماری کے مطابق، زیادہ تر ووٹرز ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایک مغربی عہدیدار نے این بی سی نیوز کو بتایا: “ایسا نہیں لگتا کہ ایرانی مذاکرات کے لیے جلدی میں ہیں۔”

ادھر امریکہ میں جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹرمپ کی حکمت عملی اور اس کے معاشی اثرات پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ این بی سی نیوز کے ایک نئے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ٹرمپ کے جنگی انتظام سے متفق نہیں جبکہ صرف ایک تہائی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح فوکس نیوز کے حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور معیشت کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کالج آف فارن سروس کے پروفیسر ڈینیل بیمن کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنما سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت اور امریکی عوام طویل جنگ برداشت نہیں کر سکتے اور معاشی و سیاسی اخراجات بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، بایمن نے Center for Strategic and International Studies (CSIS) کے لیے اپنے تجزیے میں لکھا: “ایرانی حکومت کے لیے یہ تصادم وجودی نوعیت کا ہے، جبکہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے بہتر ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے اور اسے بھلا دیا جائے، اس امید کے ساتھ کہ ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔”

“Mowing the Grass” حکمت عملی بھی ناکام ہو گی۔ امریکی تھینک ٹینک کا تجزیہ
 Mona Yacoubian واشنگٹن میں قائم Center for Strategic and International Studies کے مشرقِ وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر اور سینئر مشیر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک تجزیئے میں اشارہ دیا کہ براہ راست جنگ میں مکمل ناکامی کے بعد اسرائیل پیٹ پیچھے حملہ کرنے کیلئے امریکہ کو راغب کر سکتا ہے، اس حکمت عملی کو Moving the Grass کا نام دیا جاتا ہے، یہ اصطلاح خود صیہونیوں کا متعارف کردہ ہے جسے حماس کیخلاف استعمال کیا گیا۔ 2013ء میں دو اسرائیلی ماہرینِ تعلیم نے اس اصطلاح کو متعارف کروایا، اس کا مطلب ہے آہستہ آہستہ دشمن کے اہم اہداف کو ٹارگٹ کرتے رہنا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے اور وقتی طور پر تنازع کو قابو میں رکھا جا سکے (ماضی میں ایرانی جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اسی حکمت عملی ایک مثال ہے) لیکن مونا لکھتی ہیں کہ غیر ریاستی مخالفین کے خلاف اس حکمت عملی کی خامیوں کے علاوہ، یہ طریقہ کار کبھی بھی ریاستی سطح کے حریفوں کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اگر غیر ریاستی عناصر ریاست جیسی خصوصیات یا زیادہ طاقتور صلاحیتیں حاصل کر لیں تو “Mowing the Grass” ایک پرانی حکمت عملی بن جائے گی۔

مونا لکھتی ہیں "آج کی صورتحال میں آئیں تو ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ مکمل جنگ کی طرف واپس جانے کے بجائے، امریکہ یا اسرائیل کو یہ لالچ ہو سکتا ہے کہ وہ “Mowing the Grass” اپنائیں، یعنی جب بھی اندازہ ہو کہ ایران اپنی طاقت دوبارہ بحال کر رہا ہے تو وقفے وقفے سے حملے کریں۔ اس منطق کے تحت وہ ایران کے خطرے کو صرف “manage” کرنے کی کوشش کریں گے، بغیر اس تنازع کے سیاسی مسائل حل کیے بغیر یہ ایک لامتناہی تھکا دینے والی حکمت عملی ہو گی جس کا کوئی انجام نہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو گا۔ ایران حماس نہیں ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی 9 کروڑ سے زیادہ ہے؛ اس کے پاس 400 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے اور اب وہ عملاً آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اسے خطرہ محسوس ہوا تو ایران اپنی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کے ذریعے دوبارہ خلل پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے، تہران یہ دکھا چکا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ میں خلل ڈالنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔"

اس سے پہلے اسی تھینک ٹینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف سات ہفتوں کی جنگ کے دوران اہم میزائلوں کے اپنے ذخائر خطرناک حد تک کھو دیئے ہیں، جس سے ایک “قریب المدتی خطرہ” پیدا ہو گیا ہے اور آئندہ کسی بھی جنگ میں اس کی کمزوری ظاہر ہو سکتی ہے۔ Center for Strategic and International Studies (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق شدید جنگی کارروائیوں نے امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں کا بڑا حصہ ختم کر دیا ہے، جن میں کم از کم 45 فیصد Precision Strike Missiles (PrSM)، تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے انٹرسیپٹرز، اور آدھے سے زیادہ تھاڈ میزائل شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار پینٹاگون کے خفیہ اندازوں سے بھی کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ کمی صرف فضائی دفاعی نظام تک محدود نہیں ہے۔ تجزیے کے مطابق اس مہم کے دوران امریکہ نے اپنے ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 30 فیصد، طویل فاصلے تک مار کرنے والے Joint Air-to-Surface Standoff Missiles (JASSM) کا 20 فیصد سے زیادہ، اور SM-3 اور SM-6 انٹرسیپٹرز کا بھی لگ بھگ 20 فیصد استعمال کر لیا ہے۔

 CSIS کی رپورٹ کے مطابق اس کمی نے امریکہ کی کسی اور بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بنیادی طور پر کمزور کر دیا ہے، خاص طور پر چین جیسے طاقتور حریف کے خلاف۔ رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ ان ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا ایک سست اور مہنگا عمل ہو گا۔ ایک ماہر نے سی این این کو بتایا کہ “ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں ایک سے چار سال لگ سکتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں مطلوبہ سطح تک بڑھانے میں مزید کئی سال درکار ہوں گے۔” اسی ماہ کے آغاز میں وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون نے بڑی امریکی کار ساز کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ شہری فیکٹریوں کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ٹرمپ کے ایک کے بعد ایک غلط دعوے
جنگ میں بدترین ناکامی اور شکست کو چھپانے کیلئے ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت تو پوری دنیا جانتی ہے تاہم امریکی چینل سی این این نے ٹائم لائن کے ساتھ ٹرمپ کے بے بنیاد دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: “پوپ نے بیان دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔” حالانکہ پوپ لیو، جو جوہری ہتھیاروں کے واضح مخالف ہیں، نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ گزشتہ بدھ کو نشر ہونے والے Fox Business کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کی توقع نہیں تھی، جبکہ حقیقت میں ایران کی جوابی کارروائیوں کا خدشہ پہلے سے موجود تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: “ان (ایران) کی فوج ختم ہو چکی ہے، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔” حالانکہ ایران کی فوج واضح طور پر اب بھی موجود تھی اور تباہ کن صلاحیت رکھتی تھی، اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے اسے کچھ حد تک کمزور کیا تھا۔ 6 اپریل کی ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا ایک بیان اس بات کی واضح مثال تھا کہ جنگ کے بارے میں ان کے کئی دعوے حقیقت سے کس قدر دور تھے۔ انہوں نے کہا: “اصل میں ہم نے جو جہاز کھوئے، وہ صرف ‘فرینڈلی فائر’ (اپنی ہی فوج کی فائرنگ) کی وجہ سے تھے۔” حالانکہ اسی تقریب میں وہ پہلے یہ بھی بیان کر چکے تھے کہ ایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔ سی این این نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں وہ مختلف موضوعات پر غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔ چاہے انہوں نے جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کیا ہو یا وہ خود غلط معلومات کا شکار رہے ہوں۔

ان کے بیانات کی کثرت نے یہ مشکل بنا دیا ہے کہ ایران کے بارے میں ان کے دعوؤں پر اعتماد کیا جائے۔ گزشتہ ہفتے صحافیوں سے فون پر گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ بڑی رعایتوں کے بارے میں کئی دعوے کیے، جب سی بی ایس نیوز کی نامہ نگار Weijia Jiang نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ایران نے مستقل طور پر یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: “انہوں نے ہر چیز پر اتفاق کر لیا ہے۔” ماہرین نے ان دعوؤں پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ جلد ہی ایرانی حکام نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات تسلیم کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: “افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔" ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا: "امریکہ کے صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، اور ساتوں غلط تھے۔”
 
"زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے"
 یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ECFR) کی سینئر فیلو، ایلی گیرانمائی نے امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے سی این این پر اپنا تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی وہی پرانی امریکی پالیسی ہے جو 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ آج کی تباہ کن جنگ ہے جس کے معاشی اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ دباؤ کے جواب میں وہ مزاحمت کرے گا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایران  کیا ایران کی اندرونی قیادت میں الجھن اور تضاد راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ  میرے لیے تو امریکہ کی جانب سے آنے والے متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس زیادہ الجھن کا باعث ہیں۔
 
فارن افیئرز میگزین کا تجزیہ: ایران فتح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
امریکی جریدہ فارن افیئرز نے ایک تجزیے وضح کیا کہ امریکہ کے پاس فتح کے اعلان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ تجزیئے کے مطابق "امریکہ نے شاید عسکری طور پر ایران پر غلبہ حاصل کیا ہو، اس کی مسلح افواج کو شدید نقصان پہنچایا ہو اور اس کے بدلے میں خود نسبتاً کم جانی نقصان اٹھایا ہو۔ لیکن امریکی اپنی فوج سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں، اور محض اسلامی جمہوریہ کو لہولہان کر دینا انہیں زیادہ متاثر نہیں کر سکے گا۔ امریکی کسی جنگ کو واضح فتح اسی صورت میں تسلیم کرتے ہیں جب امریکہ نے مخالف حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں اپنی پسندیدہ حکومت قائم کر دی ہو۔ ایران کو پہنچنے والی تمام تر تباہی کے باوجود، اس کی حکومت اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ لہٰذا، امریکی اس جنگ کو وسائل کا ضیاع سمجھیں گے، خاص طور پر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ بمباری ایران کے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" پر ختم ہو گی۔

اس کے برعکس، تہران بیانیے پر قبضہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ ایک کمزور طاقت کے طور پر، جس نے جنگ شروع نہیں کی تھی، وہ بڑے فوجی نقصانات کے باوجود محض اپنی بقا کو فتح قرار دے سکتا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے 8 اپریل کے بیان میں کہا، "ایران کے مجرم دشمنوں نے جب یہ جابرانہ جنگ شروع کی تھی، تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ قلیل وقت میں ایران پر مکمل فوجی غلبہ حاصل کر لیں گے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن ایران کے بھرپور جواب نے ان کے خواب چکنا چور کر دیے۔" واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ شاید ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن اگر امریکی ناکامی اور ایرانی کامیابی کا یہ تاثر پختہ ہو گیا، تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں یہ بیانیے ریپبلکن پارٹی کو کمزور کر سکتے ہیں، جبکہ ایران میں یہ حکومت کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

 جنگ کا عوامی تاثر پھر بھی واشنگٹن کے حق میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی محض جنگی غلبے کو فتح نہیں مانتے۔ امریکیوں کے نزدیک جیت کا مطلب فیصلہ کن کامیابی ہے، دشمن کو مکمل شکست دینا، اس کا نظامِ حکومت ختم کرنا اور وہاں ایک دوست حکومت قائم کرنا۔ امریکی ماڈل دوسری جنگِ عظیم ہے، جو نازی جرمنی اور جاپان کی مکمل شکست پر ختم ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی خود کو فاتح کے طور پر نہیں دیکھ رہے کیونکہ نتائج ان کے معیار سے بہت پیچھے ہیں۔ ایرانی حکومت نہ صرف بچ گئی ہے بلکہ اس نے سر بھی نہیں جھکایا۔ امریکہ اور اسرائیل نے رہبرِ معظم علی خامنہ ای کو قتل کیا، لیکن ان کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ نے لے لی۔ جوہری ڈھانچے پر حملے ہوئے لیکن تہران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ہیڈ کوارٹر تباہ ہوا، لیکن اب اس کا ملک پر کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ کو ایک غیر ضروری ناکامی سمجھ رہے ہیں۔

 ایران کا جنگی تجربہ امریکہ کے برعکس رہا ہے۔ ایرانیوں نے چوبیس گھنٹے فضائی حملے سہے، اپنی بحریہ اور فضائیہ کا بڑا حصہ کھو دیا اور ہزاروں فوجی و شہری جانیں گنوائیں۔ لیکن اس کے باوجود تہران کے لیے فتح کا اعلان کرنا آسان ہو گا۔ ایران کے لیے محض بقا ہی ایک فتح ہے، اس بات کا ثبوت کہ بڑی امریکی اور اسرائیلی افواج بھی اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکیں۔ ایران اپنی فتح کا اعلان اس لیے بھی کر سکتا ہے کیونکہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک مادی فائدہ بھی ہے: رپورٹس کے مطابق ایران ہر جہاز سے 20 لاکھ ڈالر وصول کر رہا ہے۔ بہت سے مبصرین کے لیے ہزاروں امریکی فضائی حملے بے معنی ہو گئے ہیں کیونکہ واشنگٹن اس آبی گزرگاہ کو نہیں کھلوا سکا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخذ
https://edition.cnn.com/2026/04/20/tv/video/ellie-geranmayeh-iran-war-pakistan-talks-amanpour
https://us.cnn.com/2026/04/20/politics/analysis-trump-claims-iran-war
https://www.rt.com/news/638914-us-missile-stockpiles-depelting/
https://www.csis.org/analysis/why-mowing-grass-wont-work-iran
https://www.foreignaffairs.com/iran/iran-war-expectations-game
https://www.nbcnews.com/politics/white-house/trump-facing-increasingly-patient-iran-rcna341592
ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم

 
 
 
 
Read 26 times