Print this page

ایران کی عاشورائی تہذیب کے مقابلے میں ٹرمپ کی شکست

Rate this item
(0 votes)
ایران کی عاشورائی تہذیب کے مقابلے میں ٹرمپ کی شکست

دشمن کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت شروع کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے دو چیزوں پر توجہ ضروری ہے: ایک ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور امریکہ اور دوسرا نیتن یاہو اور اسرائیل۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص اہداف رکھتا ہے۔ ٹرمپ غرور، تکبر اور جھوٹی خوداعتمادی کا شکار ہو چکا تھا جس کی بنیادی وجہ، طاقت کے حصول کے لیے امریکی حکومت کے مخصوص انداز میں پوشیدہ ہے۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کا وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو گذشتہ تقریباً 20 سال سے امریکہ میں ایسا احمق صدر تلاش کرنے میں مصروف تھا جو اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر فوجی جارحیت کا آغاز کرے۔ چونکہ وہ بہت اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایران، سیاسی ارادے کے ساتھ ساتھ فوجی اور اقتصادی طاقت کے لحاظ سے بھی اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
 
اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اپنے تمام تر دعووں کے باوجود براہ راست طور پر ایران سے دوبدو جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ لہذا بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے اندرونی حالات کی غلط تصویر پیش کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت ختم کر دی جائے تو آسانی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر راضی کر لیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی محاذ کھول کر عملی طور پر امریکہ کے قومی مفادات کو اسرائیل کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ البتہ یہ سوال بھی جنم لے چکا ہے کہ کیا "ایپسٹن جزیرے" نامی اسکینڈل میں ٹرمپ نے بھی کوئی غلط حرکتیں کر رکھی ہیں اور کیا اسرائیلی حکام کے پاس ٹرمپ کی بھی کوئی تصاویر یا ویڈیوز موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر صیہونی حکمرانوں نے ٹرمپ پر دباو ڈال رکھا ہے؟
 
امریکی اور صیہونی دشمن کے ایران سے متعلق غلط اندازے یہ تھے کہ وہ سوچ رہے تھے کہ چار دن کے اندر اندر ایران کا کام ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے لیکن جس حقیقت کا انہیں بعد میں علم ہوا، اور بہت سے سیاسی اور فوجی تجزیہ کاران اور ماہرین حتی مغربی ماہرین نے بھی اس کا اعتراف کیا، وہ یہ تھی کہ انہوں نے ایرانی قوم اور ایرانی تہذیب کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اس عظیم اور شیرین فتح کی بنیادی وجہ عوام کا مستحکم ارادہ اور قومی وحدت تھی جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے حوصلے بلند رکھے اور انہیں قوت قلب عطا کی۔ اس وحدت نے دشمنوں کو ایران کا طاقتور چہرہ دکھایا اور فتح کا حقیقی سبب بنا۔ امریکی اور صیہونی دشمن ابتدا سے ہی ایرانی قوم اور حکومت کے بارے میں شدید غلط فہمی کا شکار تھا۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع سے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اسے توقع ہے کہ ایران کی مسلح افواج، حکومت اور عوام بہت جلد خوف زدہ ہو کر ہتھیار پھینک دیں گے اور مجھ سے مذاکرات کے لیے منت سماجت شروع کر دیں گے۔ لیکن اسے یہ دکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ایرانی ہر گز خوف زدہ نہیں ہوئے۔ یہ درحقیقت دشمن کی ایران سے متعلق وہی لاعلمی اور جہالت ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے۔ دشمن، ایرانی قوم کے نظریات و افکار، حب الوطنی، اعلی اہداف، اور اس تہذیب سے لاعلم تھا جو گذشتہ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور اس سرزمین کی تہذیب و تمدن تشکیل دیتی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کر کے دنیا والوں پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ ایرانی قوم اور ایران کی مسلح افواج ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں اور ان کا موازنہ کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا۔
 
اس وقت دنیا والوں کے ساتھ ساتھ مغربی حکمران اور ماہرین بھی اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ ایرانی قوم کے نظریات اور عقائد اسلام کی بنیاد پر استوار ہیں۔ ایرانی قوم ایک عاشورائی تہذیب کی مالک قوم ہے جو دین کا دفاع کرنے اور اس مقصد کے لیے جان نچھاور کرنے کو اپنے لیے فخر سمجھتی ہے۔ یہ شہادت اور مزاحمت پر مبنی سوچ ہے جو جنگ کے میدان میں فتح اور کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ یہ سوچ اور عقائد، دشمن کے لیے ہر قسم کے اسلحے سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دو ماہ سے زائد عرصے تک ایرانی عوام مسلسل ملک کی حفاظت اور مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے ملک بھر میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان کی تعداد کروڑوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے استقامت، مزاحمت، شجاعت اور سیاسی بصیرت کی اعلی مثال قائم کر دی ہے۔
 
اس وقت مغربی حکمران سمجھ گئے ہیں کہ ایران سے اس زبان میں بات نہیں کی جا سکتی جس زبان میں وہ دنیا کے دیگر ممالک سے بات کرتے ہیں۔ امریکہ نامی ملک کی کل تاریخ 500 سال سے زیادہ پر محیط نہیں ہے جبکہ اس میں سے بھی 250 سال خانہ جنگی اور قتل و غارت میں بسر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی عظیم قوم ہے جس کی تاریخ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور یہ تاریخ تہذیب و تمدن، علم اور انسانیت سے بھری پڑی ہے۔ لہذا مغربی حکمران اب اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ وہ فوجی طاقت اور دھونس کی بنیاد پر ایرانی قوم کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی آخری تقریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور "مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا" ہمارا لائحہ عمل ہے۔

تحریر: حجت اللہ سلطانی (وینزویلا میں ایران کے سابق سفیر)

Read 27 times