Print this page

ٹرمپ، اندھا باکسر

Rate this item
(0 votes)
ٹرمپ، اندھا باکسر


اسرائیلی اخبار ہارٹز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے سامنے کوئی واضح راستہ موجود نہیں اور وقت ایران کے حق میں جا رہا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے گروپ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں امریکا کو درپیش تعطل کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی حلقوں کے تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی اخبار ہارٹز نے معروف اسرائیلی تجزیہ کار زوی بارئیل کے قلم سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنے کے لیے وقت درکار ہے، لیکن ایران اس وقت کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیلی اخبار نے مزید لکھا کہ اسلام آباد مذاکرات میں طے کردہ 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے، اگرچہ عملی طور پر اس پورے عرصے کے دوران کوئی حقیقی جنگ بندی موجود نہیں رہی۔ ہارٹز کے مطابق، اس عرصے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو متاثر کرنا جاری رکھا اور امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اخبار نے مزید لکھا کہ دوسری جانب حوثی (یمنی) فورسز بحیرۂ احمر کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سعودی عرب سے سامان لے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ نے باب المندب کے قریب واقع بندرگاہ المخا کی جانب بھی بحری دباؤ برقرار رکھا ہے۔ ہارٹز کے اس تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ جتنا فیصلہ کرنے میں وقت لیتے ہیں، ایران اور اس کے اتحادی اسی عرصے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے وقت حاصل کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے نقطۂ نظر سے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور کئی ہفتے گزرنے کے باوجود کسی مذاکرات کا آغاز نہ ہونے کے بعد 60 روزہ جنگ بندی اب قابلِ عمل نہیں رہی۔ دوسری جانب ٹرمپ کے پاس کوئی حقیقی حل موجود نہیں اور وہ ایک نابینا باکسر کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔

اس اسرائیلی میڈیا ادارے نے زور دے کر کہا کہ جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر مسقط ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مداخلت کرے گا تو عمان پر بمباری کی جائے گی، یا جب انہوں نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ ایران کے ساتھ تنازع کے اگلے مرحلے کو اقتصادی جنگ قرار دیا، تو وہ ایک ایسے نابینا باکسر کی طرح دکھائی دیے جو محض اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس مضمون کے مطابق، عالمی میڈیا جن نئے جنگی منظرناموں کی بات کر رہا ہے، ایسا نہیں لگتا کہ ٹرمپ فی الحال ان پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نہ پہلی بار ہے اور نہ آخری بار کہ انہوں نے اس نوعیت کی بات کی ہے۔ ہارٹز نے نشاندہی کی کہ اس سے قبل امریکی شہریوں کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اس خوفناک اقتصادی جنگ کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ وقت کو ایک اسٹریٹجک عنصر میں تبدیل کر رہے ہیں، جو بظاہر جنگ کے انجام کا تعین کرے گا۔ وہ یہ فرض کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس اقتصادی طور پر امریکا یا دنیا کے مقابلے میں کم وقت ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وقت صرف انہی کے ہاتھ میں ہے۔

اس اسرائیلی میڈیا ادارے نے زور دیا کہ اس دوران عمان کے خلاف ٹرمپ کی دھمکی بظاہر اس خوف کی وجہ سے سامنے آئی ہے کہ ایران اور عمان ایک ایسا بحری معاہدہ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کو وہ مراعات حاصل ہو جائیں گی جو ٹرمپ کے منصوبے میں شامل نہیں ہیں۔ ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر خلیج فارس کے دیگر ممالک بھی اس معاہدے کی حمایت کریں، تو اسے ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پر رعایت دینے پر مجبور ہوں۔ مضمون کے آخر میں زور دیا گیا ہے کہ دوسری جانب ایران، جو بظاہر ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے، مسلسل وقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے اور اپنے اتحادیوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

Read 17 times