Print this page

دشمنوں کے مقابلے میں شیعوں کے چار اہم فرائض؛ دشمن زیادہ طاقتور ہے یا خدا؟

Rate this item
(0 votes)
دشمنوں کے مقابلے میں شیعوں کے چار اہم فرائض؛ دشمن زیادہ طاقتور ہے یا خدا؟

 حجت الاسلام والمسلمین حجت سروری نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سطح پر امامِ عصرؑ کی حکومت کے قیام اور اس کے فروغ کے لیے، حتیٰ کہ حضرتؑ کے ظہور کے بعد بھی، اخلاص، قربانی، سختیاں برداشت کرنا اور بہت سی مشکلات و رنج و غم سہنا ضروری ہوگا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عالمی موعود حکومت کے قیام کے لیے جنگی اور عسکری مہارتوں کے علاوہ دیگر مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ تربیت یافتہ جنگی سپہ سالاروں کی شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ دانا اور پاکیزہ علماء کی حکمت و بصیرت بھی ضروری ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ امامِ زمانہؑ کا ایک اہم ترین مسئلہ اُن لوگوں کے ساتھ علمی اور ثقافتی جہاد ہے جو دین کی نئی نئی تشریحات پیش کرکے لوگوں کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں عسکری میدان میں ماہر بہادر مجاہدین کے ساتھ ایسے پاکیزہ اور باصلاحیت علماء کی بھی ضرورت ہے جو ان انسانی شکل میں موجود شیطانوں کے ساتھ علمی جہاد میں امامِ زمانہؑ کی مدد کر سکیں۔
البتہ ہمیں خود کو اس حد تک تیار کرنا چاہیے کہ حضرتؑ کے ظہور کے فوراً بعد ہم ان کے رکاب میں تلوار لے کر جہاد کر سکیں اور جدید ترین جنگی ہتھیاروں کا استعمال بھی جانتے ہوں۔ لیکن اب جب ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ امامِ زمانہؑ کی ایک اور اہم ذمہ داری بھی ہے، جس کا رنج و غم شاید ہر دوسری چیز سے زیادہ تکلیف دہ ہے، تو ہمیں ان کی مدد کے لیے خود کو علم و آگاہی کے ہتھیار سے مسلح کرنا چاہیے اور پوری قوت کے ساتھ ان شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ حضرتؑ کے دوستوں اور شیعوں کو گمراہ کن شبہات پھیلانے والے شیاطین کے جال سے نجات دلا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ شیعیانِ امامِ عصرؑ کے دلوں کی حفاظت علمائے ربانی کی ذمہ داری ہے۔
روایت میں ہے:«عُلَمَاءُ شِيعَتِنَا مُرَابِطُونَ بِالثَّغْرِ الَّذِي يَلِي إِبْلِيسُ وَعَفَارِيتُهُ...»
یعنی: ہمارے شیعوں کے علماء ان سرحدوں پر محافظ اور نگہبان ہیں جہاں سے ابلیس اور اس کے جنّی و انسانی پیروکار حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے کمزور شیعوں کو ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہیں۔
آگاہ رہو! ہمارے شیعوں میں سے جو شخص اس عظیم ذمہ داری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس کا اجر و فضیلت ان تمام دشمنانِ اسلام کے ساتھ جہاد کرنے والے شخص سے لاکھوں گنا زیادہ ہے؛ کیونکہ وہ ہمارے محبین کے دین کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ دوسرا ان کے جسموں کی حفاظت کرتا ہے۔

استادِ حوزہ نے بیان کیا کہ ہر زمانے میں ہمارے لیے نمونہ اور اسوہ انبیاء اور ائمہؑ کی سیرت ہے، جن کی ہدایت بھری زندگی کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نمونۂ زندگی قرار دیا ہے:﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾
"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، پس آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔"
کتاب «شوقِ وصال؛ شرحی بر دعای ندبہ» کے

دینی مصنف نے کہا کہ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اسلام کے دشمنوں، یعنی کفار اور منافقین کے مقابلے میں قرآن نے ہمارے لیے کس شخصیت کو اسوہ اور نمونہ قرار دیا ہے؟ اور آخرالزمان کے اس انتہائی حساس دور میں دشمنوں کی فتنہ انگیزی اور منافقین کی جانب سے پیدا کیے جانے والے شبہات کے مقابل ہمیں کس طرح ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

دشمنوں کے مقابلے میں شیعوں کی چار ذمہ داریاں

1۔ فتنوں اور کفریہ شبہات سے دوری

حجت الاسلام والمسلمین سروری نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴾

ترجمہ:اور اللہ نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں؛ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بے شک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں ایک ساتھ جمع کرنے والا ہے۔

2۔ دشمنوں سے برائت اور دشمنی کا اظہار

انہوں نے مزید کہا کہ سورۂ ممتحنہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ﴾

ترجمہ:اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس کا انکار کر چکے ہیں، اور رسولؐ اور تمہیں تمہارے وطن سے نکالتے ہیں۔

یہ آیت مؤمنین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہے:اے ایمان والو! اگر تم واقعی اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی اور دوستانہ تعلقات قائم نہ کرو۔

3۔ سازش قبول نا کرنا

انہوں نے وضاحت کی کہ دوسروں کے افکار اور ان کے مقدسات کا احترام کریں، لیکن قرآن کہتا ہے کہ واضح طور پر اعلان کرو کہ ہم کافروں سے بیزار ہیں:﴿كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ﴾
ترجمہ:ہم تم سے بیزار ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے، یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لے آؤ۔

اپنی تعداد کم ہونے سے خوف زدہ نہ ہوں۔ اس بات سے بھی نہ ڈریں کہ ان کے پاس دولت، علم، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتیں موجود ہیں۔ آپ کے پاس اللہ ہے۔ اگر آپ استقامت اور ثابت قدمی اختیار کریں گے تو اللہ آپ کی مدد کرے گا۔

4۔ اللہ کی قدرت، نصرت اور مدد پر ایمان

کتاب «چشم بہ راہِ مُنتَظَر» کے مصنف نے کہا کہ
ہمیں رسولِ اکرم (ص) کی پیروی کرنی چاہیے، جنہوں نے احزاب کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ذرّہ بھر بھی کمزوری نہیں دکھائی؛ اسی طرح مؤمنین نے بھی آپ (ص) کی پیروی کی:﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾
پس ان میں سے کچھ نے اپنی نذر پوری کر دی (شہادت پا گئے) اور کچھ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔

استادِ حوزہ نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس بات سے خوفزدہ نہ ہوں کہ دشمن نے تمہیں گھیر رکھا ہے، وہ طاقتور ہے اور ہم کمزور ہیں۔ دشمن زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ کیا اللہ ہی نہیں تھا جس نے تمہاری مدد کی؟
﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ﴾
اور یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جبکہ تم کمزور اور بے سروسامان تھے۔
اللہ نے تمہاری مدد کی اور تمہیں کامیابی عطا کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر تم وہی بسیجی بن جاؤ جنہوں نے بہادری کے ساتھ دشمن کو اسلامی وطن سے نکالا، جہاد کے لیے اپنی جان کی پروا نہ کی اور اللہ کی راہ میں عشق و اخلاص کے ساتھ جنگ کی، تو اللہ بھی وہی اللہ ہے۔
اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو، تو پھر ڈرتے کیوں ہو؟
یا تو دنیا کی فتح تمہارا مقدر ہوگی، یا آخرت کی سعادت؛ اور ممکن ہے کہ دونوں ہی تمہیں نصیب ہوں۔

Read 7 times