Print this page

دشمن ایران کو ماضی کی ذلت و وابستگی کی طرف واپس نہیں لے جا سکتا

Rate this item
(0 votes)
دشمن ایران کو ماضی کی ذلت و وابستگی کی طرف واپس نہیں لے جا سکتا

 رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایران پر مسلط کی گئی پہلی جنگ کے ابتدائی ایام اور ایرانی قوم کے آٹھ سالہ اور لازوال دفاع کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تسلط پسند طاقتوں نے انقلاب کی پہلی دہائی میں جنگ مسلط کرکے ایران کو پسماندگی، ’’ذلت و خواری‘‘، وابستگی اور بدنامی کے دور میں واپس لے جانے کی کوشش کی، تاہم ان کی وسیع کوششوں کے باوجود، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہو کر، زیادہ بلند آواز اور بلند پرواز کے ساتھ ققنوس کی طرح دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے بعد کے واقعات میں بھی اس نظام کی یہی مستقل خصوصیت برقرار رہی اور اب دشمن کے دباؤ، بالخصوص حالیہ مسلط کردہ دونوں جنگوں کے نتیجے میں یہ ققنوس اس قدر بڑا ہوچکا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے عرب دنیا کے عظیم مجاہد اور مزاحمتی محاذ کی بڑی علامت، شہید سید حسن نصر اللہ کی دوسری برسی اور حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم اور مجاہدین کی عاشورائی مزاحمت و مجاہدت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے یہ ایام تمام مزاحمتی مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعثِ افتخار دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر شرمندگی کا باعث ہیں جنہوں نے صیہونی دشمن کے مقابلے میں اپنی امیدیں تسلط پسند طاقتوں اور اپنے بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

وَ لَقَدْ اَرسَلنْا موسى بِایاتِنا اَنْ اَخرِجْ قَومَکَ مِنَ الظُّلُماتِ اِلی‌ النّورِ وَ ذَکِّرْهُم بِاَیّامِ الله

مہر مہینے کے ابتدائی دن، ایام اللّٰہ اور ایرانی قوم کے پہلی مسلط کردہ جنگ میں آٹھ سالہ شجاعانہ اور لازوال دفاع کے عظیم واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔ ان دنوں ایران کی سرزمین پر انقلاب کے سورج کی گرم کرنیں قومی یکجہتی اور انقلاب اسلامی کے مکتب و نظریے سے وفاداری کا خوشگوار احساس پھیلا رہی تھیں، جس کے نتیجے میں پرانی اور نئی تسلط پسندی و استعمار کی برف پگھل رہی تھی۔

ان دنوں ایران کے بعض لوگوں کو اس سے بیس سے زائد سال قبل استعمار گروں کی بدخواہی، تیل کی صنعت کو قومیت سے جوڑنے کے واقعات اور امریکی حمایت یافتہ بغاوت کی یادیں تھیں۔ بعض نے ان واقعات کی خبریں سنی تھیں اور بہت سے لوگ اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کرچکے تھے کہ غیر ملکی تسلط نے ہمارے ملک کے معاملات کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کے دن تاریک تھے؛ استکباری حکومتوں کے سفیر ایران کے بادشاہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس کے احکامات دیتے تھے اور وہ خواہش یا بے دلی سے ان پر عمل کرتا تھا، یہاں تک کہ حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں ایرانی قوم کے عظیم انقلاب نے اس نظام کو تہس نہس کردیا۔

انقلاب کے نتیجے میں وہ تاریک دن اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے روشن دنوں میں بدل گئے۔ یہ امر ان تسلط پسندوں کے لیے بہت گراں تھا جنہوں نے اس سرزمین کی دولت پر نظریں جما رکھی تھیں اور اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے برسوں اس کے عوام کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں کی تھیں۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایرانی انقلابی قوم کے تیز بہتے دھارے کو دوبارہ سابقہ سمت میں موڑنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں اور پہلی مسلط کردہ جنگ، اسلامی جمہوریہ کی مبارک حیات کی پہلی دہائی میں ان کی سب سے اہم کارروائی تھی۔

اس جنگ کی آگ سے، جو عوام دشمن بعث پارٹی نے چند روزہ جنگ اور آسان فتح کے وہم میں بھڑکائی تھی، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ توانا اور مضبوط ہوکر ققنوس کی مانند بلند ہوا؛ ایسی آواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند اور ایسی پرواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند تھی اور دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے بعد کے واقعات میں بھی اس نظام کی یہی مستقل خصوصیت برقرار رہی۔

وہ دن جب دشمن نے اس قوم پر اپنے نوکروں کو مسلط کرکے استعمار کی ایک نئی شکل نافذ کر رکھی تھی، انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلام و جہاد کا پرچم بلند کرنے کی برکت سے ایسے باافتخار دنوں میں بدل گئے کہ آج 38 سال گزرنے کے بعد بھی ان واقعات کی ایک ایک تفصیل اور ان کے بچ جانے والے افراد کی سچی روایات کا جائزہ لینے سے ایسے نمونے سامنے آتے ہیں جو عبادت، شجاعت، مزاحمت، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتے ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ کے ماتھے پر روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں۔

وہ دن جب تسلط پسند نظام کے پیروکاروں کی جارحیت کے آغاز میں ہمارا ملک اپنے دفاع کے لیے بہت سے خطرات کے مقابلے میں طاغوتی نظام سے خالی ہاتھ ورثے میں پائی جانے والی حالت کے ساتھ کھڑا تھا، حق کے قیام اور الٰہی مدد کی برکت سے اب ایسے دنوں تک پہنچ چکا ہے کہ خود تسلط پسند جارح قوتیں، نہ کہ ان کے پیروکار، اسلام کے مجاہدین کے حملوں کے مقابلے میں پناہ گاہ تلاش کرتی اور جنگ ختم کرنے کے لیے دستِ التجا بلند کرتی ہیں۔

وہ دن جن کی طرف وہ ہمارے ملک کو واپس لے جانا چاہتے ہیں، پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور عالم اسلام میں ایران کی بدنامی سے بھرے ہوئے تھے؛ جبکہ آج کے یہ دن ترقی، عزت، خودمختاری اور عالم اسلام، بلکہ پوری دنیا میں بلند ترین اعتبار سے بھرپور ہیں۔ آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں۔ البتہ وہ دنیاوی حساب کتاب کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں، جبکہ الٰہی حساب کے مطابق وہ ملک جو خود کو عترتِ طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہے، جس کے بیشتر عوام ان بزرگ ہستیوں سے دلبستہ ہیں اور حق کے قیام سے خوفزدہ نہیں ہوتے، دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

وہ دن تھے جب ایران کے جنوبی سمندر دشمن کی افواج کی جولان گاہ تھے، لیکن آج وہ بہادر مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کی جانب سے لگنے والی دردناک ضربوں کے باعث بحیرۂ عرب سے آگے نہیں بڑھتے اور جب بھی انہوں نے یہ خطرہ مول لیا ہے، خود کو نقصان پہنچایا ہے اور جلد ہی بحیرۂ عرب بھی خود کو ان سے خالی کرلے گا۔

وہ دن تھے جب تسلط پسند طاقتوں نے نفسیاتی کارروائیوں اور خوف کی فضا پیدا کرکے دارالحکومت کی سڑکیں سنسان کردیں اور اس قوم کی آزادی پسندی کے خلاف بغاوت برپا کی، جس کے بعد 25 سال تک اس ملک کی دولت لوٹی؛ لیکن آج سات ماہ سے ہمارے ہم وطنوں نے پورے ملک کے میدانوں اور سڑکوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پُرجوش موجودگی سے سجایا ہوا ہے، تاکہ اسلام کے مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف میں مبتلا ہو۔

اسی طرح 3 کروڑ سے زائد ایرانیوں نے اپنی جان قربان کرنے کی مہم کا اعلان کیا اور جب ان کی دوبارہ موجودگی کے اعلان کے تحت کسی قسم کی تنظیم سازی کے لیے رجسٹریشن کی گئی تو صرف ابتدائی 100 منٹ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مطلوبہ گنجائش مکمل کردی۔ اس وقت پورے اسلامی ایران میں، جہاں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے ایرانی موجود ہیں، مختلف نوعیت کی آمادگیوں، بالخصوص مسلح آمادگی کا اعلان موجود ہے، تاکہ ایسا میدان تیار ہو جس میں ان کے حصے میں نام اور دشمن کے حصے میں ننگ آئے۔

وہ دن تھے جب اس سرزمین کے لوگوں کی بہادری کا عنصر اس کے مردوں سے پہچانا جاتا تھا، لیکن آج ہم ایسے دنوں میں ہیں کہ بعض بہادرانہ میدانوں میں خواتین مردوں سے بھی آگے نکل رہی ہیں۔

وہ دن تھے جب دشمن نے نظام کے سماجی پشت پناہ کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج مختلف اور نمایاں اختلافات رکھنے والے معاشرے کے مختلف طبقات اپنے جائز مؤقف کے تحفظ، بالخصوص بابرکت آبنائے ہرمز کی حفاظت پر زور دے رہے ہیں۔

ماضی اور حال کے دنوں کے درمیان اس تقابل کو مزید بھی بیان اور واضح کیا جاسکتا ہے، لیکن مختصر یہ کہ میں ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دن، جن کی طرف ہمارا دشمن واپسی کی آرزو رکھتا ہے، گزر چکے ہیں اور اب کبھی دوبارہ نہیں آئیں گے۔

البتہ مجھے درد و غم کے ساتھ یاد دلانا چاہیے کہ ان دنوں امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف کی جگہ بہت خالی ہے، جن کی قیادت کی بدولت آج ملک کو عزت حاصل ہے۔ لیکن ان کی کارکردگی اور درخشاں و رہنمائی کرنے والے کلمات سے اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑا گیا قیمتی خزانہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے دن موجودہ دنوں سے کہیں زیادہ شاندار ہوں گے۔ کیونکہ وہ ققنوس جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آگ سے نکلا تھا، اب دشمن کے دباؤ اور بالخصوص حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس قدر بڑا ہوگیا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

اس موقع پر مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت اور عرب دنیا کے بہادر امیر، عظیم المرتبت شہید سید حسن نصر اللہ قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی یاد منانا بالکل بجا ہے۔ وہ اپنی قوم اور اپنے مکتب کے سچے خیرخواہ تھے۔ ان کے مخلصانہ اور شیریں خطبات اور بہادرانہ اقدامات ان کی قوم، بلکہ دنیا کے آزاد لوگوں کے دلوں کو مضبوط کرتے تھے۔

وہ شخصیت جنہوں نے لبنان جیسے چھوٹے ملک کا نام، جو برسوں بعض طاقتوں کا پسِ پردہ اڈہ بنا رہا تھا، عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ شخصیت جن کے مستقل ساتھی نصرت اور فتح تھے اور بلاشبہ شامات کی پوری تاریخ میں، انبیاء و اوصیاء کے بعد، آج تک اس قدیم خطے میں ان جیسی عظمت کا کوئی شخص سر بلند نہیں ہوا۔

اور اب ان کا باافتخار پرچم جناب شیخ نعیم قاسم کے ہاتھوں میں ہے، جو دلیری کے ساتھ حزب اللہ کی مضبوط اور عاشورائی صفوں کے اگلے محاذ پر ان کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبنان کے یہ موجودہ دن تاریخ کے سامنے بلکہ اسی وقت بھی ان (شہید نصرالله) کے لیے اور تمام مزاحمتی مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعثِ افتخار دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر شرمندگی کا باعث ہیں جنہوں نے صیہونی دشمن کے مقابلے میں اپنی امیدیں تسلط پسند طاقتوں اور اپنے بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

شہید سیدِ مقاومت، سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مزاحمتی مجاہدین جو زمانے کے تسلسل میں روشن ستاروں کی مانند روشنی بکھیرتے رہیں گے اور حیرت و سرگردانی میں رہ جانے والوں کے لیے راہنما ہوں گے اور ان کے بر خلاف عمل کرنے والے لوگ تاریخ کے صفحات کے پہلے ہی ورق میں بہت جلد دفن اور فراموش ہوجائیں گے اور جب مستقبل میں کبھی ان کا ذکر ہوگا تو وہ برائی، بدتدبیری اور حتیٰ کہ شاید خیانت کی یاد دلائیں گے۔

آخر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضل و کرم، ہمارے سرور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ارواحنا فداہ، کی خصوصی دعا کے طفیل ایرانی قوم اور تمام مزاحمتی ساتھیوں کو فتح، نصرت اور عزت کے سوا کچھ نہ ملے، جبکہ ان کے دشمنوں کا سامنا شکست اور خواری کے سوا کسی چیز سے نہ ہو۔ بمنِّ‌الله و کرَمه.

Read 17 times