Print this page

جمہوریہ آذربائیجان کے مدارس کے دروازے باحجاب طالبات پر بند + ویڈیو

Rate this item
(0 votes)
جمہوریہ آذربائیجان کے مدارس کے دروازے باحجاب طالبات پر بند + ویڈیو

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں اسلامی لباس پر پابندیوں میں اضافے کے باعث طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ نے احتجاج کیا، جبکہ 37 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دوران اس فیصلے پر اختلافات آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی کے ساتھ تعلقات تک جا پہنچے ہیں۔ آذربائیجان کی حکمراں جماعت نے انقرہ پر ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں اسلامی لباس پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے نے ملک میں احتجاج کی ایک لہر پیدا کر دی ہے۔

اگرچہ نئے ضوابط میں واضح طور پر حجاب کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ایسے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جسے تعلیمی حکام کے نزدیک ’’سیکولرازم کے اصولوں‘‘ کے منافی قرار دیا جائے۔ عملی طور پر اس اقدام کے نتیجے میں بعض باحجاب طالبات اور معلمات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال ایسے ملک میں پیدا ہوئی ہے جہاں تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے، لیکن ملک کا آئین ریاست کے سیکولر ہونے پر زور دیتا ہے اور ساتھ ہی مذہبی آزادی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ اب حجاب کا تنازع حکومت کے اختیارات کی حدود، مذہبی آزادی اور سیکولرازم کے اصول پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق ایک وسیع تر بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔

نئے ضوابط اور پابندیوں کی تفصیلات

گزشتہ ماہ جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت نے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لباس سے متعلق نئے ضوابط منظور کیے۔

ان ضوابط کے مطابق ایسے لباس پہننے پر پابندی ہے جو اسکول یونیفارم کی یکسانیت کے خلاف ہوں یا سرکاری تعلیمی نظام میں سیکولرازم کے اصول سے متصادم ہوں۔

یہ فیصلہ قانونی اصلاحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے دستخط سے عوامی تعلیم کے قانون میں بعض ترامیم شامل کی گئی تھیں۔

نئی ترامیم کے تحت سیکولرازم اور قومی اقدار کو عوامی تعلیمی نظام کے اصولوں میں شامل کیا گیا، جبکہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لباس سے متعلق ضوابط طے کرنے کا اختیار بھی انتظامی اداروں کو دے دیا گیا۔

نئے ضوابط پر عمل درآمد کے نتیجے میں متعدد اسکولوں میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، باکو اور دیگر علاقوں میں بعض طلبہ نے اپنی باحجاب ہم جماعتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاجاً کلاسوں میں جانے سے انکار کر دیا۔

باکو کے علاقے بالاخانی میں ایک اسکول کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، جس پر لکھا تھا:

حجاب تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں بھی باحجاب طالبات اور معلمات کو دکھایا گیا ہے جنہیں اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

حجاب کا تنازع ترکی اور آذربائیجان کے تعلقات تک پہنچ گیا

جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب سے متعلق تنازع تیزی سے اسکولوں کی حدود سے نکل کر ترکی کے ساتھ ایک سیاسی اختلاف میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ترکی وہ ملک ہے جس کے باکو کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔

باحجاب طالبات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روکنے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد ترکی میں بھی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کے متعدد سیاست دانوں، جن میں صدر رجب طیب اردوان کے سینئر مشیر اوکتائے سارال اور حکمراں جماعت انصاف و ترقی (آق پارٹی) کے کئی ارکانِ پارلیمان شامل ہیں، نے نئی پابندیوں کی مذمت کی اور جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔/

 

 
Read 5 times

Media