Print this page

یمن کے شہر مخا میں مذہبی مقامات اور مساجد کی تباہی میں سعودی عرب کے جرائم

Rate this item
(0 votes)
یمن کے شہر مخا میں مذہبی مقامات اور مساجد کی تباہی میں سعودی عرب کے جرائم

 المَسیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان تاریخی عمارتوں میں نمایاں مقام صوفی عالم مولا علی شاذلی کی مسجد اور مزار کو حاصل ہے۔ یہ یمن کے شہر مخا (Mocha) کی تاریخی مساجد میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے متولی کے مطابق، اس مسجد کی بنیاد نویں صدی ہجری میں رکھی گئی تھی۔ تعمیر اور توسیع کے مختلف مراحل سے گزرنے والا یہ مجموعہ آج بھی یمن کے اندرون و بیرونِ ملک سے آنے والے طلبۂ علم اور زائرین کی میزبانی کرتا ہے۔

مسجد اور مزارِ شاذلی کے متولی نصر نویس وضاحت کرتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر تین مراحل میں مکمل ہوئی۔

پہلا مرحلہ نویں صدی ہجری میں شروع ہوا، جس میں نو گنبد تعمیر کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں 1260 ہجری میں مسجد کا مینار تعمیر کیا گیا، جبکہ تیسرے مرحلے میں مسجد کی توسیع عمل میں آئی، جو 1359 ہجری میں امام احمد یحییٰ حمیدالدین کے دورِ حکومت میں مکمل ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ امام احمد نے مسجد شاذلی کی توسیع کے لیے مخا کی جامع مسجد کی لکڑی کی شہتیروں کے علاوہ ایک دوسری مسجد، جسے مسجد النور کہا جاتا تھا، کی لکڑی بھی استعمال کی۔ یہ مسجد اس سے پہلے پرتگالیوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکی تھی۔ اس وقت ان شہتیروں میں سے سترہ ستون مسجد کی عمارت کے اندر نصب ہیں، جبکہ باقی ستون بیرونی احاطے میں مغربی جانب رکھے گئے ہیں۔

امام شاذلی کے مزار کے حوالے سے متولی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے معروف عالم اور دینی علوم کے ممتاز استاد تھے۔ یمن کے اندرون اور بیرونِ ملک سے طلبہ ان سے دینی علوم اور شریعت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔

اس مسجد کے قریب کبھی امام شاذلی کا گنبد اور مزار بھی موجود تھا، لیکن 2017 کے وسط میں یہ عمارتیں تکفیری عناصر کی جانب سے مسماری کا نشانہ بن گئیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز نے بلڈوزروں کے ذریعے مزار کو منہدم کرکے زمین بوس کر دیا۔ اس اقدام پر مقامی باشندوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا، کیونکہ انہوں نے اس تاریخی مقام کے باقی ماندہ آثار کو مٹنے سے بچانے کی کوشش کی تھی۔

اسی سلسلے میں تعز کے نائب گورنر فؤاد سنان وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، امام شاذلی کا مزار کبھی اسی جگہ موجود تھا اور ایک گنبد والی عمارت میں واقع تھا، جو مسجد سے مشابہ تھی۔ سعودی جارحیت کے عناصر نے بھاری مشینری، یعنی کھدائی کرنے والی مشینوں اور بلڈوزروں کے ذریعے اسے مسمار کردیا اور ہر چیز کو تباہ کر دیا۔ شہر کے باشندے اس وقت بھی احتجاج اور اپنی مخالفت کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے، جب یہ مقام مکمل طور پر زمین بوس ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹایا نہیں گیا تھا۔/

Read 6 times