Print this page

ایران کی شرائط تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، ترجمان ایرانی فوج

Rate this item
(0 votes)
ایران کی شرائط تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، ترجمان ایرانی فوج

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت کے باعث دشمن نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ اسے مختلف شعبوں میں بھاری اخراجات اور نقصانات بھی برداشت کرنا پڑے۔

جنگ میں شہید ہونے والے کمانڈروں، جرنیلوں اور پائلٹوں کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے جنگ کے براہ راست اخراجات 48 ارب ڈالر سے زیادہ بتائے ہیں، جبکہ اس کے بالواسطہ اخراجات کا تخمینہ آنے والے کئی برسوں تک لگانا ممکن نہیں ہوگا۔ یورپی ممالک کو بھی اس جنگ کے نتیجے میں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر فوجی حملے کی حمایت کرنے والے ممالک اب اس کے اقتصادی نتائج بھگت رہے ہیں۔ دشمن کا خیال تھا کہ اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور محاصرے کے ذریعے ایرانی عوام کو سڑکوں پر لا کر ملک میں نئی بدامنی پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے برعکس فرانس، یونان، اٹلی اور پولینڈ سمیت بعض یورپی ممالک میں اقتصادی مسائل کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا ذکر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکی حکام بتدریج یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ ان کی انتخابی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس نے نہیں بلکہ ایرانی عوام کی مزاحمت اور استقامت نے سیاسی میدان میں شکست دی۔

انہوں نے حالیہ جنگ کے دیگر نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 251 راتوں کے دوران قومی اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوا اور عوام نے ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کا جذبہ دکھایا۔ دشمن ملک کے اندر اختلافات اور انتشار پیدا کرنا چاہتا تھا، لیکن آج ایرانی عوام پہلے سے زیادہ اپنے ملک اور اسلامی نظام کا دفاع کر رہے ہیں۔

جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا کہ اس جنگ کے بعد ایرانی عوام عالمی سطح پر زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ مختلف موسمی حالات کے باوجود عوام کی مسلسل سڑکوں پر موجودگی اور قومی پرچم لہرا کر ملک کی حمایت نے عوامی مزاحمت کی ایک منفرد مثال قائم کی۔

مسلح افواج کی صلاحیتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج، سپاہ پاسداران اور پولیس فورس سمیت تمام مسلح ادارے جنگ کے آغاز کے مقابلے میں آج زیادہ مضبوط ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے تجربے سے انہیں اہم فوجی اسباق حاصل ہوئے ہیں، جبکہ عوامی حمایت سے ان کے حوصلے، عزم اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

 

ایرانی فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنگ سے قبل روزانہ اوسطاً 130 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے، جبکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کے علاوہ جیٹ فیول اور کیمیائی کھادوں کا ایک حصہ بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر تزویراتی کنٹرول کی صلاحیت ایران کے پاس ہے اور جب تک اسلامی جمہوریہ ایران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں، یہ آبی گزرگاہ نہیں کھولی جائے گی۔

جنرل اکرمی نیا نے امریکہ کی جانب سے دوبارہ ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکی بحری جہاز علاقے سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، تاہم امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی مشکلات اور بے بسی کے باعث امریکہ کوئی نیا اقدام کر سکتا ہے، لیکن ایسی کسی بھی جارحیت کا ایران کی قوم اور مسلح افواج کی جانب سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کے حکم کے مطابق، دشمن کی ممکنہ جارحیت کا جواب فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد ہونا چاہیے اور مسلح افواج اسی ہدایت کے مطابق اپنی کارروائیاں انجام دیں گی۔

ترجمان ایرانی فوج نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا اور خلیج فارس سے باہر بھی امریکی اڈے اور مفادات ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں ہیں اور امریکہ کی جانب سے دوبارہ کسی شرارت یا جارحیت کی صورت میں ان اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

Read 5 times