Print this page

امام حسین علیہ السلام بطورِ سیدالشہداء ؑ

Rate this item
(0 votes)
امام حسین علیہ السلام بطورِ سیدالشہداء ؑ


اسلام میں سیدالشہداء کا لقب کئی شخصیات کے لیے استعمال ہوا ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو شخصیات کو بعد از شہادت یہ لقب دیا۔ پہلی شخصیت حضور ؐ کے پیارے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ جنگ ِ احد میں شہادت کے بعد ان کے بارے میں آپ ؐ نے فرمایا "سیدالشہداء عنداللہ یوم القیامۃ حمزۃ" یعنی "اللہ کے ہاں قیامت کے دن حمزہ بن عبدالمطلب شہیدوں کے سردار (سیدالشہداء) ہیں۔" (مستدرک علی الصحیحین کتاب الجہاد حدیث نمبر ۷۵۵۲)۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حمزہ ؓ کے جنازے کے ساتھ دوسرے شہداء کے جنازے رکھے گئے اور ہر شہید کے ساتھ حضور ؐ نے حضرت حمزہ ؓ کا جنازہ بھی پڑھایا، اس طرح حضرت حمزہ ؓ کا جنازہ ستر مرتبہ پڑھا گیا۔(طبقات ابن سعد)

ایک اور مقام پر دوسری شخصیت حضرت جعفر ابن ابی طالب ؑ کو بھی سیدالشہداء کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ قال رسول اللہﷺ "سیدالشہداء جعفر بن ابی طالب" رسول اللہ نے فرمایا کہ "جعفر ابن ابی طالب شہیدوں کے سردار ہیں۔"(کنزالعمال ۷۳۹۶۳)۔ اسی طرح مسند امام ابی حنیفہ میں عکرمہ مولی ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا: "سیدالشہداء یوم القیامۃ حمزۃ بن عبدالمطلب و رجل قام الی امام جائر فامرہ و نھاہ فقتلہ"یعنی "پر وہ شخص جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے قتل کیا جائے، وہ سیدالشہداء کہلا سکتا ہے۔"

نبی اکرم ؐ کی اس حدیث نے ایک اصول اور فارمولا طے کر دیا۔ حدیث ِرسول ؐ کی حقیقت و ماہیت اور اس کا حقیقی معانی و مفاہیم صرف وہی جان سکتا ہے، جو رسول ؐ کا حقیقی جانشین بھی ہو اور معصوم عن الخطا امام بھی ہو۔ نبی اکرم ؐ کے بعد سیدالشہداء جیسے منصب کی وضاحت بھی یہی امام کرے گا اور اس لقب کی وضاحت یہی امام دے گا، جبکہ اس لقب کے صحیح مصداق کے بارے میں یہی امام طے کرے گا۔ واقعہ کربلا کے بعد جب یہ سوال اٹھا کہ اب سیدالشہداء کون قرار پائے گا۔؟ اس کا جواب جانشین ِ رسول ؐ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرما دیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس جواب کی طرف جائیں، ہم پہلے امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور شہادت کو  قرآنی حکم کے آئینے میں دیکھ لیتے ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالےٰ نے سورہ الصفت آیت ۷۰۱ اور ۸۰۱ میں جس ذبح عظیم کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے مصداق کے حوالے سے آئمہ اہل بیت ؑ اور فقہاء و علماء نے تشریح و تفاسیر کی ہیں۔ خصال صدوق، بحارالانوار اور عیون اخبار الرضا کی روایات اس امر کی شہادت دے رہی ہیں کہ حضرت امام حسین ؑ ہی اس ذبح عظیم کے مصداق ہیں۔ انسانی عقل و شعور اور فہم و علم کے معیار بھی یہی دلیل قبول کرتے ہیں کہ ذبح عظیم کا اشارہ کسی جانور کی طرف تو ہو ہی نہیں سکتا۔ کسی بکرے یا دنبے یا مینڈھے کو ہم کبھی بھی ذبح عظیم کا مصداق نہیں کہہ سکتے۔ حتی کہ کسی انسان یا چند انسانوں کی انفرادی قربانی یا جنگ کی حالت میں شہید ہونے کو بھی ذبح عظیم کا مصداق نہیں کہا جا سکتا۔

اگر ایسا ہوتا تو شہدائے بدر، شہدائے احد  اور دیگر جنگوں کے شہداء کے بارے میں خود رسول اکرم ؐ فرما دیتے کہ یہ شہداء ہی ذبح عظیم کے مصداق ہیں۔ رسول اکرم ؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کائنات میں سب سے افضل ترین انسان ہیں اور وہ بھی پوری زندگی جہاد میں گزار کر بالآخر محراب مسجد یعنی اللہ کے گھر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے، لیکن کسی امام یا کسی صحابی نے امیرالمومنین ؑ کو ذبح عظیم کا مصداق قرار نہیں دیا۔ ان کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام بھی ساری زندگی امتحان اور مصیبت کے ساتھ بسر کرکے دشمن کی سازش کے تحت زہرِ قاتل سے شہید ہوئے، لیکن کسی نے انہیں ذبح عظیم کا مصداق قرار نہیں دیا۔

اسلام کے تمام شہداء کے خون سے اگرچہ اسلام کو تقویت حاصل ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا، لیکن جب حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے اقرباء و اصحاب کے ساتھ میدان کربلا میں تین دن کی پیاس کے بعد چھ ماہ کے اصغر سے لے کر خود تک درجہ شہادت پر فائز ہوئے تو ان قربانیوں کے طفیل اسلام قیامت تک اور رہتی دنیا تک قائم و دائم اور مضبوط و مستحکم ہوگیا۔ کیونکہ ان قربانیوں کی نوعیت ہی اس قسم کی تھی کہ جس کی نظیر چودہ صدیاں گذرنے کے بعد بھی نہیں ملی اور لاکھوں صدیاں گذرنے کے بعد قیامت تک نہیں ملے گی۔ کیونکہ دوبارہ کسی حسین ؑ نے نہیں آنا، جو نواسہ رسول ؐ بھی ہو۔ فرزند ِعلی ؑ و بتول ؑ بھی ہو اور اس کے ساتھ رسول ؐ کے خاندان کے لوگ اور رسول ؐ کے اصحاب بھی شریک ہوں۔ اس سطح کی با وزن قربانیاں اب کبھی ہو ہی نہیں سکتیں۔ لہذا اب تا قیام ِقیامت صرف حسین ؑ کی ذات ہے، جو ذبح عظیم کا مصداق رہے گی۔

جب یہ طے ہوگیا کہ حضرت امام حسین ؑ کی ذات ذبح عظیم کا اولین اور تنہاء مصداق ہیں تو دنیا میں جتنے بھی شہداء یا سیدالشہدا ہوں گے، وہ امام حسین ؑ کے مقام کو نہیں چھو سکتے، کیونکہ حسین ؑ صرف سیدالشہداء ؑ نہیں بلکہ ذبح عظیم کے مصداق بھی ہیں۔ انہیں سیدالشہداء کہنا خود شہادت کے لیے باعث ِفخر ہے۔ عالم ِاسلام اس بات پر متفق ہے کہ جس بڑی قربانی کا اللہ تعالےٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے، اس سے یقینی مراد حضرت امام حسین ؑ کی ذات ہے۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ تعالےٰ نے فقط صبر سے آزمایا، یعنی حقیقت میں نہ ابراہیم نے بیٹا ذبح کیا یا کرایا اور اسی طرح حقیقت میں حضرت اسماعیل بھی ذبح نہیں ہوئے، اللہ تعالےٰ نے خواب کے ذریعے انہیں آزمایا۔ اگرچہ صبر کے معاملے میں وہ پورا اترے، لیکن نہ ابراہیم نے بیٹا ذبح کیا اور نہ اسماعیل خود ذبح ہوئے، لیکن کربلا میں تو منظر ہی مختلف ہے کہ جہاں حقیقت میں امام حسین ؑ نہ صرف بیٹے، بھتیجے، بھانجے، بھائی، رشتہ دار اور اصحاب و انصار کو ذبح کرا رہے ہیں، بلکہ آخر میں خود بھی ذبح ہوگئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ذبح عظیم کو مصداق کون ہوگا۔؟

امام حسین ؑ نے اسلام کے دفاع اور دین کے استحکام کے لیے جو جدوجہد اور جہاد کیا، اس کے اثرات چودہ صدیوں سے مرتب چلے آرہے ہیں اور قیامت تک چلے جائیں گے۔ شہدائے کربلا نے اپنے خون سے جہاں 61 ھجری میں یزید کے ناپاک ارادوں کے سامنے بند باندھا، وہاں قیامت تک ہر یزید کے سامنے کلمہ حق کہنے اور اس کے نتیجے میں شہادت پانے کا حوصلہ عطاء کر دیا۔ ویسے بھی حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت امام حسین ؑ باہم متصل ہیں، ایک ہی ذریت اور ایک ہی نسل سے ہیں۔ منصب اور ذمہ داریاں بھی ایک جیسی ہیں۔ لہذا اسماعیل کا قرض ہو یا فدیہ سب حضرت امام حسین ؑ کے ذریعے اگر ادا ہو تو اس میں کسی حیرت کے بات نہیں۔ چودہ سو سال سے کربلا کی یاد کی شکل میں اسلام کے استحکام کی جدوجہد جاری ہے اور ساری دنیا کے انسان حضرت امام حسین ؑ کو بلحاظِ سیدالشہداء ؑ یاد کرتے ہیں۔ چودہ صدیوں کی یہ تازگی ہی بذاتِ خود حضرت امام حسین ؑ کے سیدالشہداء ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالےٰ ہمیں سیدالشہداء کے ساتھ متصل فرما کر انہیں کے ساتھ ہی محشور فرمائے اور ہم دامن ِحسین ؑ سے وابستہ ہو کر دنیا سے اٹھیں اور اگلی دنیا میں پہنچیں۔

تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان

Read 180 times