Print this page

مذاکرات کی بجائے جنگ کیوں ہوئی؟

Rate this item
(0 votes)
مذاکرات کی بجائے جنگ کیوں ہوئی؟

- روایات میں آیا ہے کہ قرآن کریم "یجری مجری الشمس" ہے، یعنی قرآن سورج کی طرح ہے جو ہر روز ایک نئے انداز سے طلوع ہوتا ہے۔ آج کے حالات کے تجزیے میں قرآن کی آیات میں سب سے قریب مثال جنگِ احزاب اور اس سے پہلے جنگِ بدر کے واقعات میں ملتی ہے۔

جب مسلمانوں کا لشکر روانہ ہوا تو ان کے سامنے دو قافلے تھے: ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا قریش کا مسلح لشکر۔ قرآن فرماتا ہے:

وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال: 7)

مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تھی اور ان کے پاس زیادہ جنگی ساز و سامان بھی نہیں تھا۔ فطری طور پر مسلمان چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگ جائے، لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے لشکر کے سامنے آئیں، تاکہ حق کو اپنی ہدایات کے ذریعے مضبوط کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے:

وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (الأنفال: 7)

لفظ "يُرِيدُ اللَّهُ" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر تھی، تاکہ فیصلہ کن مرحلہ آئے اور دشمن کی جڑ کاٹ دی جائے" وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ"۔

آج کے ایران کے حالات میں بھی دو راستے موجود تھے مذاکرات یا جنگ۔ عقل اور جنگ کے منفی نتائج کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ ایران اور پورے خطے کے لیے زیادہ پسندیدہ تھا، لیکن اللہ کی تقدیر یہ بنی کہ دشمن نے عقل کے خلاف مذاکرات کی میز کو الٹ دیا اور انقلاب اسلامی کے رہبر، ایرانی کمانڈروں، بچوں اور خواتین کو شہید کرنے کا اقدام کیا۔

حالانکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ عزت اور سربلندی اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتی ہے اور بالآخر دشمنوں اور بچوں کے قاتل صہیونی نظام کی عسکری قوت اور اس کے تمام سہارے ختم و نابود ہو جاتے ہیں۔

Read 3 times