Print this page

ایران کے پاس عسکری میدان میں بہت سے سرپرائز ہیں/ دوسرے ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات ہندوستان کے خلاف نہیں ہیں۔

Rate this item
(0 votes)
ایران کے پاس عسکری میدان میں بہت سے سرپرائز ہیں/ دوسرے ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات ہندوستان کے خلاف نہیں ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب دوسرے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعلقات کی بات آتی ہے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی ہندوستان کے خلاف نہیں رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے کہ کسی بھی دو طرفہ تعلقات کو تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔

 ایران امریکہ مذاکرات کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ پچھلے سال جون میں کیا ہوا تھا؟ مذاکرات کے درمیان انہوں نے مذاکرات کی میز کو اڑا دیا۔جنگ ہوئی اور پھر 28 فروری کو انہوں نے دوبارہ حملہ کردیا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ہم نے یہ سفارتی عمل دوبارہ شروع کیا اور کچھ متن کا تبادلہ ہوا جس میں نے مسئلہ کے بنیادی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ سب سے پہلے اس مسئلے پر توجہ دی جو  پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ جس میں جنگ کا خاتمہ، جہازرانی آزادی اور امریکی بحری قزاقی کی روک تھا سب سے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں جبکہ دوسری جانب ہماری سمندری ناکہ بندی جاری جو  بین الاقوامی قانون کے تحت بذات خود ایک جنگ ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اسما‏عیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے والی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور مذاکرات کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور فریق مقابل کے تحفظات اور مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا مطلب ہے کہ ایک فریق 100 فیصد مقاصد حاصل کرلے  تو یہ مذاکرات نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرناہے کم از کم ایران اسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔

انہوں خطے کے ممالک میں پیش آنے والے معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس سے خوش نہیں ہیں لیکن یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل نے پیدا کی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے استفسار کیا کہ  کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ایران آبنائے ہرمز کی سلامتی پر کسی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ انحصار کرتا ہے؟ کیونکہ ہم ایک ساحلی ملک ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ میں سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس جارحانہ جنگ کا آغاز کیا اور ان نتائج کو پوری عالمی معیشت کو بھگتنا پڑ  رہے ہیں۔  

 انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے اصل ذمہ داروں کو عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔

ملک کی دفاعی تیاریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے پاس سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور ہم نے یہ گزشتہ سال جون اور حالیہ جنگ میں اپنی توانائی کو ثابت کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری میدان میں ہمارے پاس بہت سے سرپرائز ہیں جبکہ ایرانی عوام متحدہ ہیں اپنی سرزمیں چپے چپے کا دفاع کرنے کی توانائي رکھتے ہیں۔ 

Read 4 times