Print this page

سپاہ پاسداران کا اہم اعلان

Rate this item
(0 votes)
سپاہ پاسداران کا اہم اعلان

سپاہ پاسداران انقلاب نے عرب ممالک کے عوام سے درخواست کی ہے کہ امریکی غاصب فوجیوں کے خفیہ ٹھکانوں یا ان کی نقل و حرکت سے اطلاع کی صورت میں ٹیلیگرام سوشل میڈیا میں @sepahnewsiradmin کے ایڈرس پر اس کی اطلاع دے دیں یا پھر Sepahnews.ir میں Contact Us پر جا کر یہ معلومات فراہم کریں۔ دراین اثناء اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے دہشتگرد امریکی فوج کی جارحیتوں کے جواب میں علاقے کے مختلف علاقوں میں امریکی فوجی اڈوں کو کامیاب حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ صاعقہ آپریشن کے چوبیسویں مرحلے میں بحرین کی شیخ عیسی ایئر بیس میں امریکی فوج کے ایندھن کے ٹینکوں، سنگين اشیاء کے گوداموں اور فوجی بیرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی فوج نے صاعقہ آپریسن کے پچیسویں مرحلے میں کویت میں امریکی فوج کے اڈوں پر ڈرون حملے کئے اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے تباہ کن ڈرونز نے العدیری کیمپ میں دہشت گرد امریکی فوج کے ساز و سامان کے ڈپو، دوحہ بیرکوں میں "امریکی فوجیوں کی جائے رہائش اور عرفجان کیمپ میں مغرور دشمن قوتوں کے ٹھکانے کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے دشمن کے مذموم عزائم کے جواب میں مزید شدید ڈرون اور میزائلی کارروائيوں کے جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود فریبی کے شکار امریکی صدر کی دھمکیاں جارحین کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام اور مسلح افواج کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط بنائيں گی۔ ایران کی فوج نے اپنے ڈرون آپریشن کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اردن اور بحرین میں بھی جارح امریکی فوج کے اہم مراکز کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ دراین اثناء فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اپنے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صاعقہ آپریشن کے چوبیسویں مرحلے میں، جمعہ کی صبح بحرین کی شیخ عیسیٰ ایئر بیس میں امریکی فوج کے ایندھن کے ٹینکوں، سنگين اشیاء کے گوداموں، شیڈوں اور ان کی بیرکوں کو نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج نے صاعقہ آپریشن کے اس مرحلے کو جاری رکھتے ہوئے، اردن میں الازرق بیس پر دہشتگرد امریکی فوج کے ایئر کرافٹ ہینگرز، ایئر کرافٹ مینٹیننس ہینگرز اور ان کی بیرکوں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ قوم کے جائز اور قانونی مفادات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے خلاف کوئی بھی اقدام، خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی اور ان کے اقتصادی مفادات سے بھی محرومی کا باعث بنے گا۔ اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت صحت کے شعبہ رابطہ عامہ اور انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ستائیس جون سے تیئس جولائی تک کی  امریکی جارحیت میں ایران کے پچپن افراد شہید اور چھے سو انتیس زخمی ہوچکے ہیں۔ ادھر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے امریکی وحشیانہ حملے جاری رہنے کے مدنظر عرب ممالک کے شہریوں کو فوری طور پر امریکی فوج اور سی آئی اے کے خفیہ ٹھکانوں اور رہائشگاہوں سے دور ہو جانے کی ہدایت دی ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے بیان میں آیا ہے کہ بچوں کی قاتل امریکی حکومت نے برجستہ ترین دینی محقق اور سیاسی رہبر اور ساتھ ساتھ 168 معصوم بچوں کو شہید کرکے، ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس بیان میں آیا ہے کہ حالانکہ ایران 40 دن کے بعد بھی پوری طاقت اور کامیابی کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتا تھا، لیکن خطے میں امن کی بحالی کی خاطر مجرم پیشہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوگیا، لیکن امریکہ کی مجرم اور درندہ حکومت نے سمجھوتے کے ابتدائی دنوں سے ہی اسے پاؤں تلے روند ڈالا اور 12 جولائی کو اسے منسوخ اور جنگ کا سلسلہ بحال کر دیا۔

13 دن بعد امریکی شکست کے آثار ایک بار پھر رونما ہوگئے اور دشمن کو سمجھ میں آگیا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ہماری مسلح افواج کو شکست دے نہیں سکتا، لیکن اس بند راستے سے نکلنے کے لیے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے، امریکہ نے جنگی جرائم کا سہارا لینا اور پلوں، ماہیگیروں کے جہازوں، سول بندرگاہوں، عام شہریوں کی گاڑیوں اور ریلوے کو نشانہ بنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ایران اور عراق کی سرحدی گزرگاہ پر حملہ کرکے اربعین امام حسین (ع) کے زائرین کو شہید اور زخمی کر دیا اور اپنے یزیدی چہرے پر سے نقاب ہٹا دی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے انتباہ دیا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم جاری رہنے کی صورت میں مجرموں کو سزا دینا ہمارا پہلا ایجنڈا بن جائے گا۔ اس بیان میں لکھا ہے کہ امریکی جارح فوج کے افسروں اور فوجیوں کی بڑی تعداد، سپاہ اسلام کے حملوں کے خوف سے اپنے اڈوں اور چھاؤنیوں کو چھوڑ کر عرب ممالک کے شہروں اور گنجان آبادیوں سے اپنے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، لہذا ان عرب شہریوں کو جن کے ممالک امریکی فوجیوں کا مرکز بنے ہیں، خبردار کیا جاتا ہے کہ امریکی خفیہ مراکز، کمانڈ سینٹروں اور رہائشگاہوں سے فوری طور پر 500 میٹر دور ہوجائیں، تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔

Read 7 times