سلمان رشدی ملعون کے ارتداد کا تاریخی فتوی

Rate this item
(0 votes)

سلمان رشدی ملعون کے ارتداد کا تاریخی فتوی

سلمان رشدی کے خلاف امام خمینی کا تاریخی فتوی اور مغرب کے پروپگینڈے خاص کر آزادی بیاں کے نام پر اسلام کے خلاف جاری پرویگینڈا مہم اور اسکے مذموم مقاصد کا جائزہ

٭٭٭٭٭

1988 میں برطانیہ میں مقیم ایک ہندوستانی نژاد سلمان رشدی نے رسول اکرمۖ کی توہین پر مبنی ایک کتاب تحریر کی جس میں رسول اکرمۖ کے توہیں کے علاوہ یہ ہرزہ سرائی بھی کی گئی کہ قران مجید اللہ کیطرف سے حضرت محمدۖ پر نازل نہیں ہوا بلکہ یہ خود انکے اپنے افکاروخیالات کا مجموعہ ہے۔ سلمان رشدی کی اس کتاب کے سامنے آتے ہی تمام عالم اسلام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ۔مغرب نے اس بات کا احساس کئے بغیر کہ اس سے دنیا بھر میں موجود ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے اسلام کے خلاف پروپگینڈے کا بازار گرم کردیا۔مغربی حکومتوں بالخصوص امریکہ نے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنے کی بجائے شیطانی آیات نامی اس کتاب کے مصنف پر انعامات کی بارش کردی اور برطانیہ کی ملکہ نے ملعون سلمان رشدی کو" سر" کا خطاب دے دیا۔مغربی ممالک کی طرف سے اس متنازعہ کتاب کی حمایت ایک عادی اور روزمرہ کی بات نہ تھی وہ اس حمایت کے ذریعے مسلمانوں کے تاثرات اور ردعمل کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اسلام کے مقدسات بالخصوص قران اور پیغامبر گرامی کے خلاف توہین کے مذموم منصوبے کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔امام خمینی رح نے ایک دور اندیش رھبر کی حیثیت سے مغرب کی اس سازش کو بھانپتے ہوئے 14 فروری 1988 کو قرآن وسنت کی روشنی میں سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا تاریخی فتوی صادر کیا۔اس فتوی کو تمام عالم اسلام میں زبردست پزیرائی ملی۔ امام خمینی رح کی رحلت کے بعد رھبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی اس فتوی پر تاکید کی اور اسے ناقابل واپسی قرار دیا۔

امام خمینی کے اس تاریخی فتوی پر مغربی ممالک کا ردعمل اس قدر شدید تھا کہ ایران میں تعینات گیارہ یورپی ملکوں نے تہران سے اپنے سفیر واپس بلا لئے اور ایرنی حکومت اور عوام کو شدید ترین سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دیں۔ ایرانی قوم اور اور حکومت کی استقامت اور پامردی اس بات کا باعث بنی کہ بارہ کے بارہ یورپی ممالک کے سفیر بغیر کسی شور شرابے کے تہران واپس آگئے۔غاصب صیہونی حکومت اور برطانیہ ملعون سلمان رشدی کی حفاظت پر خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں لیکن اسکے باوجود سلمان رشدی اس فتوی پر عمل درآمد کے خوف سے سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات میں زندگی گزار رہا ہے۔

مغرب کیطرف سے اسلامی مقدسات کی توہین کا جاری سلسلہ اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ امام خمینی کی دور اندیشی اس حوالے سے کسقدر صحیح اور حقیقی تھی۔ بحران میں گھرے مغربی تمدن کے پالیسی ساز اس بات کو اچھی طرح درک کر رہے تھے کہ اسلامی تمدن، بیداری اور عالمگیر ہونے کیطرف گامزن ہے اوریہ دین الہی اور آسمانی تعلیمات کا حامل ہونے کی وجہ سے مغرب کے مادیت پر مبنی نظریانی نظام کو تہس نہس کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔مغرب اسلام و مسلمیں کے مقدسات کی توہیں کرکے مسلمانوں کی غیرت وحمیت کو ختم کرنا چاہتا ہے اور آذادی بیان کے نام پر اس توہین کا دفاع کرکے مسلمانوں کی مخالفت کو نظر انداز کرتا ہے۔گذشتہ سالوں میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ۖ اور قران مجید کی شدید ترین توہین کی گئی ۔ رسول اکرمۖ کے توہین آمیز خاکے بنائے گئے ۔امریکی پادری کے ہاتھوں قران مجید کے نسخے جلائے گئے ۔صیہونی ادارے "شنکار" میں خواتین کے لباس پر قرانی آیات لکھ کر توہین کی گئی اسی طرح سویڈن کے اخبارات میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ۖکی توہین پر مبنی کارٹون شائع کئے گئے ۔مغرب کے مادہ پرستوں نے اس پر بس نہیں کی بلکہ اسلام اور اسلامی مقدسات کے خلاف فلمیں تک بنائیں۔ان فلموں میں "فتنہ" اور "برات ازمسلمیں" کا نام خصوصی طور پر لیا جاسکتا ہے۔اسلامی مقدسات کے خلاف اس شدید حملے کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ ان توہین آمیز اقدامات کے ذریعے نہ صرف اسلامی تقدسات کی توہین کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں کو ان مقدسات کے حوالے سے بے حس اور غیرجانبدار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے اندر دینی غیرت اور حمیت ختم ہوجائے اور وہ اسلام مخالف سامراجی طاقتوں کے خلاف کسی قسم کا خطرہ نہ بن سکیں۔وہ ان اقدامات کےذریعے اسلام کی طرف غیر مسلموں کی بڑھتی ہوئی توجہ کو بھی کم کرنا چاہتے ہیں۔

مسلمانوں نے ان مذموم اور انسان دشمن اقدامات پر ہرگز خاموشی اختیار نہ کی اور مظاہروں۔تنقیدوں اور احتجاجوں کے ذریعے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کیا۔ مسلمانوں نے دنیا کی مختلف عدالتوں میں ان جرائم کے خلاف مقدمات بھی دائر کئے لیکن ان عدالتوں نے آزادی اظہار کے نام پر ان مقدمات کو کسی طرح کی اہمیت دینے سے انکار کیا۔اور ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔امریکی وزیرخارجہ نے "برات از مسلمیں" نامی فلم پر مسلمانوں کے شدید اجتجاج پر یہاں تک کہا تھا کہ امریکہ مسلمانوں کے احتجاج کی وجہ سے اپنے شہریوں کو اپنے خیالات کے اظہار سے نہیں روک سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی اظہار کا عالمی کنونشن اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی ازادی اظہار کے نام پر ادیان اور مذاہب کی توہین کو جائز نہیں سمجھتے۔ان اداروں کے معاہدوں کا اگر سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارے بھی آذادی بیان کے حق کو بےحدوحساب نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان کو بہانہ بنا کر مذاہب اور ادیان کی توہین کو روا سمجھا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر شہری اور سیاسی حقوق کے عالمی ادارے کے آرٹیکل انیس کی تیسری شق میں آیا ہے کہ آذادی بیان کے حق کے نفاز کے لئے کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی عائد ہوتے ہیں اور ان ذمہ داریوں کی وجہ سے کـچھ پابندیوں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو کہ کچھ اسطرح ہیں۔

ا.دوسرے کے حقوق اور حیثیت کے احترام کے لئے

ب.قومی سلامتی کے تحفظ اور اجتماعی نظم وسلامتی کے لئے

پس آرٹیکل انیس کی تیسری شق کی روشنی میں آزادی اظہار کا حق اس وقت محدود ہو جاتا ہے جب اسکی وجہ سے کسی دوسرے کی حیثیت اور احترام متاثر ہو رہی ہو۔ شہری اور سیاسی حقوق کے عالمی ادارے کے اس چارٹر کی بیسویں شق کے مطابق کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت اور کینہ کی ترغیب ممنموع ہے۔ان شقوں کو امریکی اور یورپی انسانی حقوق کے معاہدوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں نے بھی آزادی بیان کی حق کومحدود کیا ہے خاص کرجب وہ کسی فرد یا گروہ کی حیثیت کو نقصان پہنچا رہا ہو۔ایک ایسے عالم میں جب مغرب اسلام کی توہین اور اسکے مقدسات کی اہانت کو آزادی بیان کے نام پر قبول کرتا ہے جبکہ دوسری طرف بعض مسائل منجملہ ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی طرح کی علمی تحقیق کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ہولوکاسٹ ان موضوعات میں سے ہے جسکے بارے میں غاصب اسرائیل سمیت سولہ ملکوں میں سخت پابندیاں ہیں اور ان ملکوں میں اسکا انکار ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ 1988 میں فرانس کی ایک عدالت نے معروف فلسفی اور سیاستدان راجر گارودی کو صرف اس وجہ سے چالیس ہزار ڈالر کا جرمانہ کیا کیونکہ انہوں نے ہولوکاسٹ کے بارے میں ایک علمی اور مدلل تنقید کی تھی۔مغرب کے اس رویے کو دیکھ کر بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ اہل مغرب آزادی بیان کے حوالے سے دوغلے رویوں اور دوہری پالیسیوں پر گامزن ہیں۔

٭٭٭٭٭

دنیا کے کسی بھی قانونی نظام میں ہر طرح کے عقیدے کے اظہار کی کھلی آزادی نہیں ہے ہرملک اپنی آئیڈیالوجی اور اخلاقی اصولوں کی روشنی میں آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے۔اور تمام عقلاے عالم کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر انسان اپنے تمام اعمال و کردار کے حوالے سے مکمل اور مطلقآ آزاد نہیں ہو سکتا۔

معروف برطانوی مفکر جان اسٹورٹ میل کے مطابق"کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ اعمال کوعقیدے کی طرح آزاد ہونا چاہیے خاص کر ایسے حالات میں جب عقیدے کا اظہار دوسروں کی مصلحت اور مفاد کے خلاف ہو۔ایسی صورت حال میں تو عقیدے کا اظہار بھی اپنی حیثیت کھو دیتا ہے"

اگرچہ آزادی اظہار انسانی اقدار میں سے ایک اہم قدر ہے لیکن آزادی اظہار کے نام پر انسانی عزت وکرامت کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح اس کائنات کے خالق اور اس کے پیامبران جوکہ انسانی سعادت کے لئے مشعل راہ ہیں کی عزت واحترام کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور آزادی اظہار کے نام پر ان اخلاقی حدود کو عبور نہیں کرناچاہیے۔لہذاآزادی اظہار کو افراد اور شخصیات کی توہین اور انکی شخصیت کشی کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسلام کے نقطہ نظر میں انسان کو آزاد خلق کیا گیا ہے اور آزادی خداوند عالم کی طرف سے ایک بہترین ھدیہ اور تحفہ ہے۔اسلام میں آزادی اظہار کو بھی آزادی کی ہی ایک قسم سمجھا جاتا ہے۔اسلام میں ایسے بہت سے افراد گزرے ہیں جنہوں نے توہین سے ہٹ کر اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے اسلام کے خلاف اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے اور اسلام نے کبھی اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل اور قانع کنندہ دین ہے وہ اعتراض کرنے والوں کے سوالات کا منطقی اور مدلل جواب دیتاہے اور سب کو تعقل ،تفکر، غور وفکر اور بحث ومباحثہ کی دعوت دیتا ہے۔ البتہ اسلام میں بھی عقل سلیم کے تحت آزادی اظہار کے حوالے سے کچھ پابندیاں موجود ہیں۔یہ پابندیاں حقیقت میں آزادی کے تحفظ اور اخلاقی اور نفسیاتی شرائط کے لئے ضمانت کا کردار ادا کرتی ہیء کیونکہ کسی بھی معاشرے میں نظریانی اور فکری آزادی تک پہنچنے کے لئے ان پابندیوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اسلامی مقدسات کی توہین اور اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے پیش کرنا مغرب کا ایک ہتھکنڈہ اور وہ اس عمل کے ذریعے اسلام و فوبیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے وہ ان اقدامات سے معاشرے کی اخلاقی اور نفسیاتی صورت حال کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے کیونکہ ایسی صورت حال میں ایک عام انسان صحیح اور سالم راہ کا انتخاب آسانی سے نہیں کرسکتا اور یہی کیفیت مغرب کی مطلوبہ کیفیت ہے۔مغرب نے مشرق میں اسلامی بیداری اور مغرب میں اسلام پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لئے اس روش کا انتخاب کیا ہے یہی وجہ ہے کہ مغرب ان عناصر کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جو آزادی اظہار کے پردے میں اسلام و فوبیا کے ایجنڈے پر کارفرما ہیں۔

Read 1403 times

Add comment


Security code
Refresh