حق امام علي عليہ السلام كي نظر ميں

Rate this item
(0 votes)

دينداري كا دعويٰ كرنے والے بہت زيادہ ہيں ليكن وہ لوگ غير شرعي امور كي انجام دہي اور لوگوں كے حقوق پر زيادتي كركے اپنے اهداف تك پہونچنے ميں نہيں ہچكچاتے۔ چنانچہ ايسے ہي بعض افراد امام (ع) كو مشورہ ديتے تهے كہ اب تو اسلامي حكومت آپ كے ہاته ميں ہے لهذا اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے كسي بهي راستہ كا انتخاب كرنے ميں كيا عيب ہے؟

 

دوسروں كے حقوق كو ادا كرنے كي ايك خاص اہميت ہے۔ اور مسلمانوں كي سماجي زندگي كے تمام حالات ميں اس كا ايك خاص مقام ہے۔حضرت علي عليہ السلام ان شخصيات ميں سے ہيں جنهوں نے اس مسئلہ كو خاص اہميت دي ہے اور مختلف حقوق كے سلسلہ ميں آپ كا خاص نظريہ ہے۔

علماء اسلام معتقد ہيں كہ اسلام ميں توحيد كے بعد حق و انصاف كے برابر كسي بهي مسئلہ كو اهميت نہيں دي گئي ہے۔ ويسے ہي جيسے مسئلہ توحيد مسلمانوں كے تمام ديني اور اخلاقي اعتقادات ميں بنيادي حيثيت ركهتا ہے۔ اس سلسلہ ميں حضرت علي عليہ السلام كے نظريات كا مرور ايك خاص اہميت ركهتا ہے۔

 

حق الناس

حضرت علي عليہ السلام لوگوں كے حقوق كي اہميت كے بارے ميں فرماتے ہيں: خدا گواہ ہے كہ ميرے لئے سعدان كي خاردار جهاڑي پر جاگ كر رات گذار لينا يا زنجيروں ميں قيد ہوكر كهينچا جانا اس امر سے زيادہ عزيز ہے كہ ميں روز قيامت پروردگار سے اس عالم ميں ملاقات كروں كہ كسي بندہ پر ظلم كرچكا ہوں، يا دنيا كے كسي معمولي مال كو غصب كيا ہو۔

دينداري كا دعويٰ كرنے والے بہت زيادہ ہيں ليكن وہ لوگ غير شرعي امور كي انجام دہي اور لوگوں كے حقوق پر زيادتي كركے اپنے اهداف تك پہونچنے ميں نہيں ہچكچاتے۔ چنانچہ ايسے ہي بعض افراد امام (ع) كو مشورہ ديتے تهے كہ اب تو اسلامي حكومت آپ كے ہاته ميں ہے لهذا اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے كسي بهي راستہ كا انتخاب كرنے ميں كيا عيب ہے؟ ليكن امام (ع) ان كے جواب ميں فرماتے ہيں: خدا كي قسم جب تك ميري زندگي ہے اور شب و روز آرہے ہيں ستارے ايك بعد دوسرے طلوع و غروب كررہے ہيں۔ ميں ہرگز كوئي اس طرح كا كام انجام نہيں دوں گا۔

 

لوگوں كے حقوق كا احترام

حضرت علي عليہ السلام نے سن ۳۶ ه ميں اسلامي حكومت كي باگ ڈور اپنے ہاتهوں ميں سنبهالي۔ نہج البلاغہ ميں آيا ہے كہ آپ نے وجوہات شرعيہ كو جمع كرنے والے شخص سے لوگوں كے حقوق كا احترام كرنے كے سلسلہ ميں اس طرح سے فرمايا: اور خبردار نہ كسي مسلمان كو خوف زدہ كرنا اور نہ كسي كي زمين پر جبرا اپنا گذر كرنا۔ مال ميں سے حق خدا سے ذرہ برابر زيادہ مت لينا اور جب كسي قبيلہ پر وارد ہونا تو ان كے گهروں ميں گهسنے كے بجاۓ چشمہ اور كنويں پر وارد ہونا۔ اس كے بعد سكون و وقار كے ساته ان كي طرف جانا اور ان كے درميان كهڑے ہوكر سلام كرنا اور سلام كرنے ميں بخل سے كام نہ لينا۔ اور اس كے بعد ان سے كہنا بندگان خدا مجهے تمهاري طرف خدا كے ولي اور جانشين نے بهيجا ہے تاكہ ميں تمهارے اموال ميں سے خدا كا حق لے لوں تو كيا تمهارے اموال ميں كوئي حق اللہ ہے جسے ميرے حوالہ كرسكو؟ اگر كوئي شخص انكار كردے تو اس سے دوبارہ تكرار نہ كرنا اور اگر كوئي شخص اقرار كرے تو اس كے ساته اس انداز سے جانا كہ نہ كسي كو خوف زدہ كرنا، نہ دهمكي دينا۔ نہ سختي كا برتاؤ كرنا نہ بيجا دباؤ ڈالنا۔

 

دوستوں كے حقوق

بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ دو دوست برسوں تك ايك ساته مهرباني اور صميميت كے ساته زندگي گذارتے ہيں اور مشكلات ميں ايك دوسرے كا ساته ديتے ہيں ليكن بعد ميں بعض چهوٹي باتوں كي وجہ سے ايك دوسرے سے ناراض ہوكر الگ ہوجاتے ہيں۔

اميرالمومنين عليہ السلام دو دوست كے درميان رابطہ برقرار كرنے كے سلسلہ ميں اپنے نوراني بيان ميں اپنے بيٹے امام حسن عليہ السلام سے فرماتے ہيں: اپنے نفس كو اپنے بهائي كے بارے ميں قطع تعلق كے مقابلہ ميں تعلقات، اعراض كے مقابلہ ميں مهرباني۔ بخل كے مقابلہ ميں عطا، دوري كے مقابلہ ميں قربت، شدت كے مقابلہ ميں نرمي اور جرم كے موقع پر معذرت كے لئے آمادہ كرو گويا كہ تم اس كے بندے ہو اور اس نے تم پر كوئي احسان كيا ہے۔

 

دوستي كےحدود اور حقوق كي رعايت

اميرالمومنين عليہ السلام نہج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: خداوند متعال نے بندوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے۔ لهذا اگر كوئي شخص بندگان خدا كے حقوق كو ادا كرنے كے لئے قيام كرے در واقع اس نے خدا كے حقوق كو ادا كيا ہے۔

اسي وجہ سے اميرالمومنين عليہ السلام نےدوستوں كے حقوق كي رعايت كرنے كے سلسلہ ميں امام حسن عليہ السلام كو سفارش كرنے كے بعد برادران ديني اور دوستوں كے درميان محبت كے حدود كو معين كرنے كے لئے بلا فاصلہ فرمايا ہے: كہيں ايسا نہ ہو كہ تم ان فرامين كي رعايت ايسے افراد كے ساته كرو جو ان كے مستحق نہيں ہيں اور دوستي اور عفو گذشت كو بے محل استعمال كرو۔

 

دوستي كے حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام دوستي كے حقوق كے بارے ميں فرماتے ہيں:

دوست اس وقت تك دوست نہيں ہوسكتا ہے جب تك اپنے دوست كےتين مواقع پر كامنہ آۓ ۔

مصيبت كے موقع پر۔ اس كي غيبت ميں۔ اس كے مرنے كے بعد۔

 

ماں باپ كے حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام نہج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: فرزند كا باپ پر ايك حق ہوتا ہے اور باپ كا فرزند پر ايك حق ہوتا ہے۔ باپ كا حق يہ ہے كہ بيٹا ہر مسئلہ ميں اس كي اطاعت كرے معصيت پروردگار كے علاوہ۔ اور فرزند كا حق باپ پر يہ ہے كہ اس كا اچها نام تجويز كرے اور اسے بهترين ادب سكهاۓ۔اور قرآن مجيد كي تعليم دے۔

 

امام اور امت كے متقابل حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام امام اور امت كے متقابل حقوق كے بارے ميں خطاب كرتے ہوۓ فرماتے ہيں: اے لوگوں' يقينا ايك حق ميرا تمهارے ذمہ ہے اور ايك حق تمهارا ميرے ذمہ ہے تمهارا حق ميرے ذمہ يہ ہے كہ ميں تمہيں نصيحت كروں اور بيت المال كا مال تمهارے حوالہ كردوں اور تمہيں تعليم دوں تاكہ جاہل نہ رہ جاؤاور ادب سكهاؤں تاكہ باعمل ہوجاؤ۔ اور ميرا حق تمهارے اوپر يہ ہے كہ بيعت كا حق ادا كرو اور حاضر و غائب ہر حال ميں خير خواہ رہو۔ جب پكاروں تو لبيك كہو اور جب حكم دوں تو اطاعت كرو۔

 

حق الناس كي عظمت

حق الناس كي اہميت و بزرگي كے لئے يہي كافي ہے كہ خداوندمتعال نے لوگوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے جيسا كہ اميرالمومنين عليہ السلام نہه البلاغہ ميں فرماتے ہيں: خداوند متعال نے بندوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے۔ لهذا اگر كوئي شخص بندگان خدا كے حقوق كو ادا كرنے كے لئے قيام كرے در واقع اس نے خدا كے حقوق كو ادا كيا ہے۔

 

پيغمبر ﷺكي نگاہ ميں حق اللہ كي عظمت

خداوندمتعال كا حق بندوں پر اس سے بڑه كر ہے كہ ادا كيا جاۓ۔ جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص)نے فرمايا: خدا كا اس كے بندوں پر حق اس سے بڑه كر ہے كہ وہ اسے ادا كريں اور اس كي نعميتيں اس سے زيادہ ہيں كہ اس كے بندے انهيں شمار كرسكيں ليكن بندوں كو چاہيئے كہ صبح شام توبہ كريں اور اپنے پروردگار كي بارگاہ ميں رجوع كريں۔

 

قائد اور رعايا كے متقابل حقوق

حضرت اميرالمومنين عليہ قائد اور رعايا كے متقابل حقوق كے بارے ميں اس طرح فرماتے ہيں : ياد ركهو مجهپر تمهارا ايك حق يہ بهي ہے كہ جنگ كے علاوہ كسي موقع پر كسي راز كو چهپا كر نہ ركهوں اور حكم شريعت كے علاوہ كسي مسئلہ ميں تم سے مشورہ كرنے سے پہلو تہي نہ كروں۔ نہ تمهارے حق كو اس كي جگہ سے پيچهے ہٹاؤں اور نہ كسي معاملہ كو آخري حد تك پہونچاۓ بغير دم لوں اور تم سب ميرے نزديك حق كے معاملہ ميں برابر رہو۔ اس كے بعد جب ميں ان حقوق كو ادا كردوں گا تو تم پر اللہ كے لئے شكر اور ميري اطاعت واجب ہوجاۓ گي اور يہ لازم ہوگا كہ ميري دعوت سے پيچهے نہ ہٹو اور كسي اصلاح ميں كوتاہي نہ كرو حق تك پہونچنے كے لئے سختيوں ميں كود پڑوكہ تم ان معاملات ميں سيدهے نہ رہے تو ميري نظر ميں تم ميں سے ٹيڑهے ہوجانے والے سے زيادہ كوئي حقير ذليل نہ ہوگا اس كے بعد ميں اسے سخت سزا دوں گا اور ميرے پاس كوئي رعايت نہ پاۓ گا۔

 

لوگوں كے حقوق كي رعايت كے سلسلہ ميں امام علي عليہ السلام كي مالك اشتر كو نصيحت

مالك اشترامام علي عليہ السلام كے وفادار ساتهيوں ميں سے تهے آپ شجاع، مومن اور متقي انسان تهے امام علي عليہ السلام نے سن ۳۸ ه ميں جب مالك كو مصر كا حاكم بنا كر بهيجا تو آپ كو ايك نوشتہ لكه كر ديا جو نهج البلاغہ كے بہترين خطوط ميں سے ايك ہے اور "فرمان مالك" كے نام سے مشهور ہے۔ امام نے اس نامہ ميں وہ تمام باتيں تحرير كي ہيں جنهيں ايك اسلامي ملك كے حاكم كو جاننا چاہيے اور ملك كے كاموں كو اجرا كرنے ميں جن كي رعايت كرني چاہيئے۔ امام عليہ السلام فرماتے ہيں: تمهارے لئے پسنديدہ كام وہ ہونا چاہيئے جو حق كے اعتبار سے بهترين،انصاف كے اعتبار سے سب كو شامل اور رعايا كي مرضي سے سب اكثريت كے لئے پسنديدہ ہو كہ عام افراد كي ناراضگي خواص كي رضا مندي كو بهي بے اثر بنا ديتي ہےاور خاص لوگوں كي ناراضگي عام افراد كي رضا مندي كے ساته قابل معافي ہوجاتي ہے۔ رعايا ميں خواص سے زيادہ والي پر خوش حالي ميں بوجه بننے والا اور بلاؤں ميں كم سے كم مدد كرنے والا۔ انصاف كو ناپسند كرنے والا اور اصرار كے ساته مطالبہ كرنے والا، عطا كے موقع پر كم سے كم شكريہ ادا كرنے والا اور نہ دينے كے موقع پر بمشكل عذر قبول كرنے والا۔ زمانہ كے مصائب ميں كم سے كم صبر كرنے والا۔ كوئي نہيں ہے۔ دين كا ستون۔ مسلمانوں كي اجتماعي طاقت، دشمنوں كے مقابلہ ميں سامان دفاع عوام الناس ہي ہوتے ہيں لهذا تمهارا جهكاؤ انهيں كي طرف ہونا چاہيئے۔

 

قصاص ميں حق اور عدل كي رعايت كے بارے ميں امام (ع) كي وصيت

نہج البلاغہ ميں پڑهتے ہيں كہ امام علي عليہ السلام نے سن ۴۰ ه ميں ابن ملجم كي ضربت سے زخمي ہونے كے بعد امام حسن عليہ السلام اور امام حسين عليہ السلام بہت سي وصيتيں كي ہيں انهيں وصيتوں كے آخر ميں امام (ع) نے قصاص كے سلسلہ ميں امام حسن (ع) كو تاكيد كي ہے جو ياد گار كے طور پر آج بهي باقي ہے۔ اے اولاد عبدالمطلب خبردار ميں يہ نہ ديكهوں كہ تم مسلمانوں كا خون بہانہ شروع كردو صرف اس نعرہ پر كہ " اميرالمومنين مارے گئے ہيں"ميرے بدلہ ميں ميرے قاتل كے علاوہ كسي كو قتل نہيں كيا جاسكتا ہے۔

ديكهو اگر ميں اس ضربت سے جانبر نہ ہوسكا تو ايك ضربت كا جواب ايك ہي ضربت ہے اور ديكهو ميرے قاتل كے جسم كے ٹكڑے نہ كرنا كہ ميں نے خودسركار دوعالم سے سنا ہے كہ خبردار كاٹنے والے كتے كے بهي ہاتهپير نہ كاٹنا

 

حيوانات كے حقوق كي رعايت

حضرت علي عليہ السلام نے نہج البلاغہ كے ۲۵ مكتوب ميں حيوانات كے حقوق كي حمايت كرتے ہوۓ فرماتے ہيں: خبردار كسي جانور كو ڈرانا نہيں اور اسے آزار و اذيت نہ پہونچانا۔

Read 1984 times

Add comment


Security code
Refresh