نوع دوستی اور بے کسوں کی دستگیری

Rate this item
(0 votes)

نوع دوستی اور بے کسوں کی دستگیری

1۔ شیخ صدوق نے اپنی کتاب امالی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا دیکھتا ہے کہ آپ کا لباس پرانا ہو چکا ہے آپ کو بارہ درہم دیتا ہے کہ آپ اپنےلئے نیا لباس خریدیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بارہ درہم حضرت علی علیہ السلام کو دیتے ہیں تاکہ وہ آپ کے لئے لباس خرید کر لائیں۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے بازار سے بارہ درہم کا ایک لباس خریدا اور رسول اللہ کے پاس لے آیا۔ آپ نے لباس دیکھ کر فرمایا ہے علی دوسرا لباس میری نظر میں بہتر ہے ، دیکھو کیا دوکاندار یہ لباس واپس لے گا۔ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا جا کر معلوم کرو، میں دوکاندار کے پاس گیا اور کہا کہ رسول خدا کو یہ لباس پسند نہیں آیا ہے انہیں دوسرا لباس چاہئے اسے واپس لے لو۔ دوکاندار نے لباس واپس لے لیا اور حضرت علی علیہ السلام کو بارہ درہم لوٹا دئے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں میں وہ بارہ درہم لیکر رسول اللہ کی خدمت میں گیا آپ میرے ساتھ لباس خریدنے کے لئے بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں دیکھا کہ ایک کنیز بیٹھی رو رہی ہے۔ آنحضرت نے اس کنیز سے پوچھا کہ اس نے رونے کا کیا سبب ہے ، اس نے کہا یارسول اللہ میرے گھر والوں نے سودا خریدنے کے لئے چار درہم دیتے تھے۔ لیکن درہم گم ہوگئے اب مجھے خالی ہاتھ گھر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کنیز کو چار درہم دے دیئے اور فرمایا جاؤ اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ پھر آپ بازار کی طرف روانہ ہو گئے اور چار درہم کا لباس خریدا خدا کا شکر ادا کیا اور بازار سے روانہ ہو گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک برہنہ شخص کہہ رہا ہے کہ جو مجھے کپڑے پہنائے خدا اسے جنت میں کپڑے پہنائے گا۔ رسول اللہ نے اپنی قمیص اتاری اور اس شخص کو پہنا دی۔ آپ دوبارہ بازار تشریف لے گئے اور باقی بچے چار درہموں سے ایک اور لباس خریدا اور بیت الشرف تشریف لے گئے۔ راستے میں دیکھتے ہیں وہی کنیز بیٹھی رو رہی آپ نے اس سے پوچھا تم اپنے گھرکیوں نہیں گئیں۔ کنیز نے کہا اے رسول خدا میں بہت دیرسے گھر سے باہر ہوں مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں گھر والے میرے پٹائی نہ کر دیں آپ نے فرمایا اٹھو ،میرے آگے آگے چلو اور اپنے گھر والوں کو مجھ سے ملواؤ، رسول خدا اس کنیز کے ساتھ اس کے گھر پہنچے آپ نے دروازے پر پہنچ کر فرمایا السلام علیکم یا اہل الدار کسی نے آپ کا جواب نہیں دیا آپ نے دوبارہ سلام کیا کسی نے جواب نہیں دیا جب آپ نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو گھر سے آواز آئی و علیک السلام یارسول اللہ و رحمۃ اللہ برکاتہ آپ نے فرمایا پہلی اور دوسری مرتبہ میرے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا گیا تو گھر والوں نے کہا کہ ہم نے دونوں مرتبہ آپ کی آواز مبارک سنی تھی اور آپ کی آواز بار بار سننا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے فرمایا یہ کنیز دیرسے گھر لوٹ رہی ہے اس کی تنبیہ نہ کرنا گھر والوں نے کہا اے رسول خدا آپ کے قدم مبارک کے صدقے اس کنیز کو آزاد کیا آپ نے فرمایا الحمد اللہ ان بارہ درہموں سے بابرکت درہم نہیں دیکھے ان کی برکت سے دو برہنہ جسموں کولباس ملا اور ایک کنیز کو آزاد نصیب ہوئی۔


حمیری نے اپنی کتاب قرب الاسناد میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ سے ایک شخص نے سوال کیا آپ نے فرمایا کیا کسی کے پاس ادھار دینے کو کچھ ہے تو قبیلہ بنی الحبلی کے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ میرے پاس ہے آپ نے فرمایا اس سائل کو چار وسق خرما دے دو اس شخص نے سائل کو چار وسق خرما دے دیا اس کے بعد رسول اللہ سے اپنا ادھار واپس لینے کے لئے آپ کے پاس گیا آپ نے فرمایا انشاء اللہ تمہیں تمہاری امانت مل جائے گی، وہ شخص چار مرتبہ رسول خدا کے پاس گیا آپ نے اسے یہی جواب دیا اس نے کہا یا رسول اللہ آپ کب تک یہ فرماتے رہیں گے انشاء اللہ تمہارا ادھار ادا کر دیا جائے گا! آنحضرت مسکرائے اور فرمایا کیا کسی کے پاس ادھار دینے کو کچھ ہے ، ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا میرے پاس ہے یارسول اللہ، آپ نے فرمایا تیرے پاس کتنا مال ہے ، اس شخص نے کہا آپ جتنا چاہیں ، آپ نے فرمایا اس شخص کو اٹھ وسق خرما دے دو۔ 
انصاری نے کہا میرا ادھار چار وسق ہے آپ نے فرمایا چار وسق اور لے لو۔


انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے نو سال آنحضرت کی خدمت کی اس دوران آپ نے کبھی بھی مجھ پر اعتراض نہیں کیا اور نہ میرے کام میں کوئی عیب نکالا۔ایک اور روایت کے مطابق انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی اس مدت میں آپ نے مجھ سے اف تک نہ کہا۔ 
انس بن مالک سے ایک اور روایت ہے کہ افطار اور سحر میں آپ یا تو دودھ تناول فرمایا کرتے تھے یا پھر کبھی کبھی دودھ میں روٹی چور کے نوش کیا کرتے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ ایک رات میں آپ کے لئے دودھ اور روٹی مہیا کی لیکن آپ دیرسے تشریف لائے میں نے یہ سوچا کہ افطار پر اصحاب نے آپکی دعوت کی ہے اور میں نے آپ کی غذا کھا لی،کچھ دیر بعد آپ تشریف لے آئے ،میں نے آپ کے ایک صحابی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ نے افطار کیا ہے یا کسی نے افطار پر آپ کی دعوت کی تھی،صحابی نے نفی میں جواب میں دیا۔وہ رات میرے لئے بڑی کربناک رات تھی صرف خدا ہی میرے غم و غصے سے واقف تھا مجھے یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں آپ مجھ سے اپنی غذا نہ طلب فرما لیں اور میں آپ کے سامنے شرمندہ ہو جاؤں لیکن اس رات رسول اللہ نے افطار نہیں کیا اور آج تک اس غذا کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں فرمایا۔


حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں آپ نے گوسفند ذبح کرنے کا حکم دیا۔ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا میں گوسفند ذبح کر دونگا ،دوسرے نے کہا میں اس کا چمڑا اتار دوں گا،تیسرے نے کہا گوشت پکانا میری ذمہ داری ہے آپ نے فرمایا میں لکڑیاں لے آؤں گا۔اصحاب نے عرض کیا آپ زحمت نہ فرمائیں ہم آپ کا کام کر دیں گے۔ آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں لیکن مجھے پسند نہیں ہے کہ میں تم لوگوں سے ممتاز رہوں کیونکہ خدا کو بھی یہ پسند نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ لکڑیاں جمع کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔


جب آپ سے کوئی ملتا تھا تو آپ اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہوتے تھے جب تک وہ شخص خود خدا حافظ کر کے آپ کے پاس سے نہ چلا جائے۔ جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تھے تو مصافحہ کرنے والے کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے تھے جب تک وہ خود اپنا ہاتھ نہ کھینچ لے ،اور جب آپ کی مجلس میں بیٹھنے والا خود نہیں اٹھ جاتا تھا آپ نہیں اٹھتے تھے۔


آپ مریضوں کی عیادت کو جایا کرتے تھے ،جنازوں میں شرکت فرمایا کرتے تھے ،گدھے پر سواری کیا کرتے تھے ،آپ جنگ خیبر ،جنگ بنی قریظہ اور جنگ بنی نضیر میں گدھے پر سوارتھے۔


ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ اپنے اصحاب کے درمیان ایسے تشریف فرما ہوتے تھے کہ اجنبی یہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ رسول اللہ کون ہیں بلکہ اسے آپ کے بارے میں پوچھنا پڑتا تھا (یعنی آپ اپنے لئے کسی بھی طرح کا امتیاز روا نہیں سمجتےک تھے )


انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں کسی طرح کی اونچ نیچ نہیں ہوتی تھی سب ایک سطح پر بیٹھتے تھے۔

جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کے سوال کو رد نہیں کیا۔


ام المومنین جناب عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں جب تنان ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا اپنا لباس سیتے اور نعلین میں پیوند لگاتے۔


انس کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ اپنے کسی صحابی کو تین دن تک نہ دیکھتے تو اس کے بارے میں پوچھتے ،اگر وہ صحابی سفر پر ہوتا تو اس کے لئے دعا فرماتے اور اگر شہر میں ہوتا تو اس سے ملنے جاتے اور اگر بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے۔


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ خمس لا ا دعھن حتی الممات الاکل علی الحضیض مع العبید،ورکوبی الحمار موکفا،و حلبی العنزبیدی ،ولبس الصوف ،و التسلیم علی الصبیان لتکون سنۃمی بعدی۔  پانچ چیزیں ہیں جنہیں میں موت تک ترک نہیں کرسکتاتاکہ میرے بعد سنت بن جائیں ، غلاموں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر غذا کھانا، ایسے گدھے پر سوار ہونا جس پر سادہ زین ہو، بکری کو اپنے ہاتھوں سے دوہنا، کھردرا کپڑا پہننا، اور بچوں کو سلام کرنا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کبھی یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ آپ سوار ہوں اور آپ کے ساتھ کوئی پیادہ چلے ، آپ اسے اپنی سواری پر سوار کر لیتے تھے ، اور اگر وہ نہیں مانتا تھا تو آپ فرماتے مجھ سے آگے نکل جاؤ اور جہان تمہیں جانا ہے وہاں مجھ سے ملاقات کرو۔


حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے دیکھتے ہیں فضل بن عباس وہاں موجود ہیں آپ نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پیچ ہے سواری پر بٹھا دو، پھر آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے سہارا دیا یہاں تک کہ انہیں مقصد تک پہنچا دیا۔


آپ نے حجۃ الوداع میں اسامہ بن زید کو اپنی سواری پر بٹھایا اسی طرح عبداللہ بن مسعود اور فضل کو اپنے پاس اپنی سواری پر بٹھایا۔ میری نے کتاب حیات الحیوان میں حافظ بن مندہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تینتیس افراد کو اپنی سواری پر اپنے پاس بٹھایا ہے۔


سیرت نویسوں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ کان صلی اللہ علیہ و آلہ فی بیتہ فی مھنت اھلہ ،یقطع اللحم ویجلس علی الطعام محقرا۔۔۔ویرقع ثوبہ و یخصف نعلہ و یخدم نفسہ ویقیم البیت و یعقل البعیر ویعلف ناضحہ و یطحن مع الخادم و یعجن معھا،و یحمل بضاعتہ من السوق،ویضع طھورہ با ا لیل بیدہ ،ویجالس الفقراءو یواکل المساکین و یناولھم بیدہ و یاکل الشاۃ من النوی فی کفہ ویشرب الماءبعد ان سقی اصحابہ و قال ساقی القوم آخرھم شربا۔۔۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھرکے کاموں میں اپنے اہل خانہ کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے ،گوشت کاٹا کرتے تھے ،اور بڑے تواضع کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا کرتے تھے ،وضو کے لئے خود پانی لایا کرتے تھے ،فقیروں کے ساتھ بیٹھتے تھے ،مسکینوں کے ساتھ غذا تناول فرماتے تھے ،ان کے ساتھ مصافحہ کرتے تھے ،گوسفند کو اپنے ہاتھ سے غذا دیتے تھے ،اپنے ساتھیوں اور اصحاب کو پانی پلانے کے بعد خود پانی نوش فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ قوم کے ساقی کو سب سے آخر میں پانی پینا چاہیے۔


*******************
منابع و مآخذ :
1۔قرآن کریم 
2۔غررالحکم 
3۔تحف ا لعقول 
4۔علل الشرایع 
5۔صحیفہ سجادیہ 
6۔مجمع البیان 
7۔سفینۃ البحار 
8۔اصول کافی 
9۔بحارالانوار 
10۔فلسفہ اخلاق (مطہری ) 
11۔کنزالعمال۔

ماخوذ : رسول الله کے اخلاق حسنه كي كتاب

Read 1776 times

Add comment


Security code
Refresh