منافقین کی خصوصیات امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نظر میں

Rate this item
(0 votes)
منافقین کی خصوصیات امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نظر میں

تمہاری فلاح اور خوشحالی پر رشک و حسد کرتے ہیں، تمہاری آزمائشوں اور مصائب میں اضافہ کرتے ہیں اور تمہاری امیدوں پر پانی پھیرتے ہیں۔


أوصِيكُمْ عِبادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأحَذِّرُكُمْ أهْلَ النِّفاقِ، اے اللہ کے بندو، میں تمہیں خدا خوفی کی سفارش کرتا ہوں اور تمہیں منافقین سے خبردار کرتا ہوں۔
 

فَإِنَّهُمُ الضَّالُّونَ الْمُضِلُّونَ، وَالزَّالُّونَ الْمُزِلُّونَ: یقینا وہ گمراہ ہیں اور گمراہ کرنے والے اور خطاکار ہیں، خطاکاری میں مبتلا کرنے والے،

 
يَتَلَوَّنُونَ ألْوَانا، وَيَفْتَنُّونَ افْتِنَاناً: ہر بار کسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور ہر دن دوسری بات کرتے ہیں اور نئی روش اپناتے ہیں،

 
وَيَعْمِدُونَكُمْ بِكُلِّ عِمادٍ، وَيَرْصُدُونَكُمْ بِكُلِّ مِرْصادٍ: تمہیں توڑ دینے کے لئے ہر گھات سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور تمہیں شکار کرنے کے لئے ہر مورچے میں بیٹھ جاتا ہیں،

 
قُلُوبُهُمْ دَوِيَّةٌ، وَصِفاحُهُمْ نَقِيَّةٌ: دل ان کے بیمار ہیں لیکن ان کی ظاہری صورت آراستہ ہے،

 
يَمْشُونَ الْخَفاءَ، وَيَدِبُّونَ الضَّراءَ: خفیہ طور پر آمد و رفت کرتے ہیں، اور چور راستوں سے حرکت کرتے ہیں،

 
وَصْفُهُمْ دَواءٌ، وَقَوْلُهُمْ شِفاءٌ، وَفِعْلُهُمُ الدَّاءُ الْعَياءُ: ان کا بیان دوا ہے، ان کا کلام علاج ہے لیکن ان کا کردار ایک لا علاج بیماری ہے،

 
حَسَدَةُ الرَّخاءِ، وَمُؤَكِّدُو الْبَلاءِ، وَمُقْنِطُو الرَّجاءِ: تمہاری فلاح اور خوشحالی پر رشک و حسد کرتے ہیں، تمہاری آزمائشوں اور مصائب میں اضافہ کرتے ہیں اور تمہاری امیدوں پر پانی پھیرتے ہیں،

 

لَهُمْ بِكُلِّ طَرِيقٍ صَرِيعٌ، وَإِلَى كُلِّ قَلْبٍ شَفِيعٌ، وَلِكُلِّ شَجْوٍ دُمُوعٌ: ان کے پاس ایک راستے پر کوئی مقتول ہوگا، ہر دل میں راستہ بنانے کے چکر میں ہونگے، اور ہر غم پر آنسو بہاتے نظر آئیں گے،

 

يَتَقارَضُونَ الثَّناءَ، وَيَتَراقَبُونَ الْجَزاءَ: قرض دیتے ہیں ایک دوسرے کو مدح و ثناء، اور ہر مدح و ثناء پر پاداش اور اجرت کی توقع رکھتے ہیں،

 

إِنْ سَأَلُوا أَلْحَفُوا، وَإِنْ عَذَلُوا كَشَفُوا وَإِنْ حَكَمُوا أَسْرَفُوا: اگر کسی سے کوئی چیز مانگیں تو بہت اصرار کرتے ہیں اور اگر ان پر ملامت کی جائے تو پردے پھاڑ کر راز افشا کرتے ہیں، اور اگر فیصلہ کرنا چاہیں اور (کسی کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں) تو زیادہ روی اور اسراف کرتے ہیں،

 

قَدْ أَعَدُّوا لِكُلِّ حَقِّ بَاطِلاً، وَلِكُلِّ قَائِمٍ مَائِلاً، وَلِكُلِّ حَيِّ قَاتِلاً، وَلِكُلِّ بَابٍ مِفْتَاحا، وَلِكُلِّ لَيْلٍ مِصْبَاحا: انھوں نے ہر حق کے لئے کوئی باطل تیار کرکے رکھا ہوتا ہے، ہر دلیل کے مقابلے میں شبہہ تیار کیا ہوتا ہے، نیز ان کے ہاں ہر زندہ شخص کے لئے ایک قاتل تیار ہوتا ہے، ہر دروازے کے لئے کنجی اور ہر رات کے لئے ایک چراغ،

 

يَتَوَصَّلُونَ إِلَى الطَّمَعِ بِالْيَأْسِ لِيُقِيمُوا بِهِ أَسْواقَهُمْ، وَيُنْفِقُوا بِهِ أَعْلاقَهُمْ: ناامیدی اور مایوسی کا اظہار کرتے اپنی خواہشوں اور لالچوں تک پہنچنا، اپنی منڈیوں کو گرم رکھنا اور اپنا مال بیچنا چاہتے ہیں۔

 

يَقُولُونَ فَيُشَبِّهُونَ، وَيَصِفُونَ فَيُمَوِّهُونَ: بات جب کرتے ہیں تو لوگوں کو شک اور تذبذب میں ڈالتے ہیں، بیان جب کرتے ہیں تو دھوکہ دیتے ہیں،

 

قَدْ هَيَّؤ وا الطَّرِيقَ وَأَضْلَعُوا الْمَضِيقَ: کسی کام کے آغاز پر راستہ آسان بنا دیتے ہیں لیکن بعد گھٹن اور بند راستوں سے دوچار کر دیتے ہیں،

 

فَهُمْ لُمَةُ الشَّيْطانِ، وَحُمَةُ النِّيرانِ: وہ شیطان کے چیلے ہیں اور جہنم کی آگے کے شعلے ہیں،

 

"أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ (سورہ مجادلہ، آیت 19):  یہ شیطان کے پیروکار اور اس کی جماعت ہیں، جان لو کہ شیطان کی جماعت گھاٹا اٹھانے والی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

نہج البلاغہ، خطبہ 194۔

 

Read 58 times

Add comment


Security code
Refresh