بین الاقوامی اداروں کا دوہرا رویہ؛ جارحیت پر خاموشی، مظلوم پر چلّانا

Rate this item
(0 votes)
بین الاقوامی اداروں کا دوہرا رویہ؛ جارحیت پر خاموشی، مظلوم پر چلّانا

۔

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

Read 77 times