مالک اشتر کے نام حضرت علی علیہ السلام کا خط۔

Rate this item
(9 votes)

مالک اشتر کے نام حضرت علی علیہ السلام کا خط۔ اس وقت جب انہیں محمد بن ابی بکر کے حالات کے خراب ہوجانے کے بعد مصر اور اس کے اطراف کا عامل مقرر فرمایا۔ اور یہ عہد نامہ حضرت کے تمام سرکاری خطوط میں سب سے زیادہ مفصل اور محاسن کلام کا جامع ہے۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ وہ فرمان ہے جو بندہ خدا، امیر المومنین علی نے مالک بن اشتر نخعی کے نام لکھا ہے جب انہیں کراج جمع کرنے، دشمن سے جہاد کرنے، حالات کی اصلاح کرنے اور شہروں کی آبادکاری کے لئے مصرف کا عامل قرار دے کر کر روانہ کیا۔

سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو، اس کی اطاعت کو اختیار کرو اور جن فرائض و سنن کا اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ان کا اتباع کرو کہ کوئی شخص ان کے اتباع کے بغیر نیک بخت نہیں ہوسکتا ہے اور کوئی شخص ان کے انکار اور بربادی کے بغیر بدبخت نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اپنے دل، ہاتھ اور زبان سے دین خدا کی مدد کرتے رہنا کہ خدائے "عز اسمہ" نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ اپنے مددگاروں کی مدد کرے گا اور اپنے دین کی حمایت کرنے والوں کو عزت و شرف عنایت کرے گا۔

دوسرا حکم یہ ہے کہ اپنے نفس کے خواہشات کو کچل دو اور اسے منہ زوریوں سے روکے رہو کہ نفس برائیوں کا حکم دینے والا ہے جب تک پروردگار کا رحم شامل نہ ہوجائے۔ اس کے بعد مالک یہ یاد رکھنا کہ میں نے تم کو ایسے علاقہ کی طرف بھیجا ہے جہاں عدل و ظلم کی مختلف حکومتیں گذر چکی ہیں اور لوگ تمہارے معاملات کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں جس نظر سے تم ان کے اعمال کو دیکھ رہے تھے اور تمہارے بارے میں وہی کہیں گے جو تم دوسرں کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ نیک کردار بندوں کی شناخت اس ذکر خیر سے ہوتی ہے جو ان کے لئے لووگں کی زبانوں پر جاری ہوتا ہے۔ لہذا تمہارا محبوب ترین ذخیرہ عمل صالح کو ہونا چاہیے۔ خواہشات کو روک کر رکھو اور جو چیز حلال نہ ہو اس کے بارے میں نفس کو صرف کرنے سے بخل کرو کہ یہی بخسل اس کے حق میں اصاف ہے، چاہے اسے اچھا گلے یا برا – رعایا کے ساتھ مہربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعار بنا لو اور خبردار ان کے حق میں بھاڑ کھانے والے درندہ کے مثل نہ ہوجانا کہ انہیں کھا جانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگے – کہ مخوقات خدا کی دو قسمیں ہیں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشیر ہیں جن سے لغزشیں بھی ہوجاتی ہیں اور انہیں خطائوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جان بوجھ کر یا دھوکے سے ان سے غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں – لہذا انہیں ویسے ہی معاف کردینا جس طرح تم چاہتے ہو کہ پروردگار تمہاری غلطیوں سے درگذر کرے کہ تم ان سے بالاتر ہو اور تہمارا ولی امر تم سے بالاتر ہے اور پروردگار تمہارے والی سے بھی بالاتر ہے اور اس نے تم سے ان کے معاملات کی انجام دہی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے تمہارے لئے ذریعہ آزمائش بنا دیا ہے اور خبردار اپنے نفس کو اللہ کے مقابلہ پر نہ اتار دینا۔ کہ تمھارے پاس اس کے عذاب سے بچنے کی طاقت نہیں ہے اور تم اس کے عضو اور رحم سے بے نیازبھی نہیں ہو۔ اور خبر دار کسی کو معاف کردینے پرنادم نہ ہونا اور کسی کو سزادے کراکڑ نہ جانا۔ غیط و غضب کے اظہار میں جلدی نہ کرنا اگر اس کے ٹال دینے کی گنجائش پائی جاتی ہو اور خبر دار یہ نہ کہنا کہ مجھے حاکم بنا یا گیا ہے لہٰذا میری شان یہ ہے کہ میں حکوم دوں اور میری اطاعت کی جائے کہ اس طرح دل میں فساد داخل ہو جا ئے گا اور دین کمزور پڑجائے گا اور انسان تغیرات زما نہ سے قریب تر ہو جائے گا۔ اور اگر کبھی سلطنت و حکومت کو دیکھ کر تمھارے دل میں عظمت و کبریائی اور غرور پیدا ہونے لگے تو پروردگار کے عظیم ترین ملک پر غورکرنا اور یہ دیکھنا کہ وہ تمھارے اوپر تم سے زیادہ قدرت رکھتا ہے کہ اس طرح تمھاری سرکشی دب جائے گی۔ تمھاری طغیانی رُک جائے گی اور تمھاری گئی ہوئی عقل واپس آجائے گی۔ دیکھو خبر دار اللہ سے اس کی عظمت میں مقابلہ اور اس کے جبروت سے تشابہ کی کوشش نہ کرنا کہ وہ ہرجبار کو ذلیل دیتا ہے اور ہر مغرور کو پست بنادیتا ہے۔ اپنی ذات' اپنے اہل و عیال اور رعایا میں جن سے تمھیں تعلق خاطر ہے سب کے سلسلہ میں اپنے نفس اور اپنے پروردگار سے انصاف کرنا کہ ایسا نہ کرو گے تو ظلم ہو جاؤ گے اور جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے گا اس کے دشمن بندے نہیں خود پروردگار ہوگا اور جس کا دشمن پروردگار ہو جائے گا اس کی ہر دلیل باطل ہوجائے گی اور وہ پروردگار کا مد مقابل شمار کیا جائے گا جب تک اپنے ظلم سے بازنہ آجائے یا توبہ نہ کرلے ۔ اللہ کی نعمتوں کی بر بادی اور اس کے عذاب میں عجلت کا کوئی سبب ظلم پر قائم رہنے سے بڑا نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ مظلومین کی فریاد کا سننے والا ہے اور ظالموں کے لئے موقع کا انتظار کر رہا ہے۔ تمھارے لئے پسندیدہ کام وہ ہونا چا ہئے جو حق کے اعتبار سے بہترین انصاف کے اعتبار سے کو شامل اور رعایا کو مرضی سے اکثریت کے لئے پسندیدہ ہو کہ عام افراد کی ناراضگی خواص کی رضامندی کو بھی بے اثر بنا دیتی ہے اور خاص لوگوں کی ناراضگی عام افراد کی رضامند کے ساتھ قابل معافی ہو جاتی ہے۔ رعایا ہیں خواص سے زیادہ والی پر خوشحال میں بوجھ نبنے والا اور بلاؤں میں کم سے کم مدد کرنے والا۔ انصاف کو نا پسند کرنے والا اور اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے والا عطا کے موقع پر کم سے کم شکریہ ادا کرنے والا اور نہ دینے کے موقع پر بمشکل عذر قبول کرنے والا۔ زمانہ کے مصائب میں کم سے کم صبر کرنے والا۔کوئی نہیں ہوتا ہے ۔ دین کا ستون۔ مسلمانوں کی اجتماعی طاقت دشمنوں کے مقابلہ میں سامان دفاع عوام الناس ہی ہوتے ہیں لہٰذا تمھارا جھکاؤ انھیں کی طرف ہونا چاہئے اور تمھارا رجحان انھیں کی طرف ضروری ہے۔ رعا یا میں سب سے زیادہ دور اور تمھارے نزدیک مبغوض اس شخص کو ہونا چاہئے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے عیوب کا تلاش کرنے والاہو۔ اس لئے کہ لوگوں میں بہر حال کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور ان کی پردہ پوشی کی سب سے بڑی ذمہ داری والی پر ہے لہٰذا خبر دار جو عیب تمھارے سامنے نہیں ہے اس کا انکشاف نہ کرنا ۔ تمھاری ذمہ داری صرف عیوب کی اصلاح کر دینا ہے اور غائبات کا فیصلہ کرنے والا پروردگار ہے۔ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ا ن تمام عیوب کی پردہ پوشی کرتے رہو جن اپنے عیوب کی پردہ پوشی کی پروردگار سے تمنا کرتے ہو۔ لوگوں کی طرف سے کینہ کی ہر گر ہ کو کھول دو اور دشمنی کی ہر رسّی کو کاٹ دو اور جو بات تمھارے لئے واضح نہ ہو اس سے انجان بن جاؤ اور ہر چغل خور کی تصدق میں عجلت سے کام نہ لوکہ چغل خور ہمیشہ خیانت کار ہوتا ہے چاہے وہ مخلصین ہی کے بھیس میں کیوں نہ آئے۔(مشاورت) ٰدیکھو اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شامل نہ کرنا کہ وہ تم کو فضل و کرم کے راستہ سے ہٹادے گا اور فقر و فاقہ کا خوف دلاتا رہیگا اور اسی طرح بزدل سے مشورہ نہ کرنا کہ وہ ہر معاملہ میں کمزور بنا دے گا ۔ اور حریص سے بھی مشورہ نہ کرنا کہ وہ ظالما نہ طرقہ سے مال جمع کرنے کو بھی تمارے نگاہوں میں آراستہ کردے گا۔ یہ بخل بُزدلی اور طمع اگر چہ الگ جذبات و خصائل ہیں لیکن ان کا قدر مشترک پروردگار سے سوء ظن ہے جس کے بعد ان خصلتوں کا ظہور ہوتا ہے۔

(وزارت ) اور دیکھو تمھارے وزراء میں سب سے زیادہ بدتر وہ ہے جوتم سے پہلے اشرارکا وزیر رہ چکاہو اور ان کے گناہوں میں شریک رہ چکا ہو۔ لہٰذا خبردار ایسے افراد کو اپنے خواص میں شامل نہ کرنا کہ یہ ظالموں کے مددگار اور خیانت کاروں کے بھائی بند ہیں اور تمھیں ان کے بدلے بہترین افراد مل سکتے ہیں جن کے پاس انھیں کی جیسی عقل اور کار کردگی ہو اور ان کے جیسے گناہوں کے بوجھ اور خطاؤں کے انبارنہ ہوں۔ نہ انھوں نے کسی ظالم کی اس کے ظلم کی ہو اور نہ کسی گناہگار کا اس کے گناہ میں ساتھ دیا ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بوجھ تمہارے لئے ہلکا ہوگا اور یہ تمھارے بہترین مدد گاہوں گے اور تمھاری طرف محبّت کا جھکاؤ بھی رکھتے ہوں گے اور اغیار سے انس و الفت بھی نہ رکھتے ہوں گے۔ انھیں کو اپنے مخصوص اجتماعات میں اپنا مصاحب قرار دینا اور پھر ان میں بھی سب زیادہ حیثیت اسے دنیا جو حق کے حرف تلخ کو کہنے کی زیادہ ہمت رکھتا ہو اور تمھارے کسی ایسے عمل میں تمھارا ساتھ دے جیسے پروردگار اپنے اولیاء کے لئے نا پسند کر تا ہو چاہے وہ تمھاری خواہشات سے کتنی زیادہ میل کیوں نہ کھاتی ہوں

(مصاحب ) اپنا قریبی رابطہ اہل تقویٰ اور اہل صداقت سے رکھنا اور انھیں بھی اس امر کی ترتیب دینا کہ بلاسب تمھاری تعریف نہ کریں اور کسی ایسے بے بنیاد عمل کا غرور نہ پیدا کرائیں جوتم نے انجام نہ دیا ہو کہ زیادہ تعریف سے غرور پیدا ہوتا ہے اور غرور انسان کو سر کشی سے قریب تر بنادیتا ہے دیکھو خبردار نیک کردار اور بد کردار تمھارے نزدیک یکساں نہ ہونے پائیں کہ اس طرح نیک کرداروں میں نیکی سے بدلی پیدا ہوگی اور بد کرداروں میں بدکرداری کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ ہر شخص کے ساتھ ویسا ہی برتا ؤ کرنا جس کے قابل اس نے اپنے کو بنایا ہے اور یاد رکھنا کہ حاکم میں رعا یا سے حسن ظن کی اسی قدر تو قع کرنی چاہئے جس قدران کے ساتھ احسان کیا ہے اور ان کے بوجھ کو ہلکا بنا یا ہے اور ات کو کسی ایسے کام پر مجبور نہیں کیا ہے جوان کے امکان میں نہ ہو۔ لہٰذا تمھارا برتاؤ اس سلسلہ میں ایسا ہی ہونا چاہئے جس سے تم رعایا ٍسے زیادہ سے زیادہ حسن ظن پیدا کر سکو کہ یہ حسن ظن بہت سی اندرونی زحمتوں کو قطع کردیتا ہے اور تمھارے حسن ظن کا بھی سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کے ساتھ تم نے بہترین سلوک کیا ہے اور سب سے زیادہ بدظنی کا حقدار وہ ہے جس کا برتارے ساتھ خراب رہا ہو دیکھ کسی ایسی نیک سنت کو توڑدینا جس پراسس امت کے بزرگوں نے عمل کیا ہظ اور اسی کے ریعہ سماج میں الفت قائم ہوتی ہے اور رعا کے حالات کی اصلاح ہوئی ہے اور کسی ایسی سنت کو رائج نہ کر دینا جو گذشتہ سنتوں کے حق میں نقصاندہ ہو کہ اس طرح اجر اس کے لئے ہوگا جس نے کسنت کو ایجاد ہے اور گناہ تمھاری گردن پر ہوگا کہ تم نے اسے توڑدیا ہے۔ علماء کنے ساتھ علمی مباحثہ اور حکماء کےساتھ سنجیدہ بحث جاری رکھنا ان مسائل کے بارے میں جن سے علاقہ کے امور کی اصلاح ہوتی اور وہ امور قائم رہتے ہیں جن سے گذشتہ افراد کے حالات کی اصلاح ہوئی ہے اور یاد رکھو کہ رعایا کے بہت سے طبقات ہوتے میں جن میں کسی کی اصلاح دوسرے کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے اور کوئی دوسرے سے متغنی نہیں ہو سکتا ہے ۔ انھیں میں اللہ کے شکر کے سپاہی میں اور انھیں میں عام اور خاص اور کے کاتب ہیں انھں میں عدالت سے فصیلہ کرنے والے ہیں اور انھیں میں انصاف اور نرمی قائم کرنے والے عمال ہیں۔ انھیں میں مسلمان اہل خراج اور کافر اہل ذمہ ہیں اور انھیں میں تجارت اور صنعت و حرفت والے افراد میں اور پھر انھیں میں فقر اور مساکن کا پست ترین طبقہ بھی شامل ہے اور سب کے لئے پروردگار نے ایک حصّہ معین کردیا ہ۔ اور اپنی کتاب کے فرائض یا اپنے پیغمبر کی سنت میں اس کی حدیں قائم کردی ہیں اور یہ وہ عہد ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ فوجی دستے یہ حکم خدا سے رعا یا کے محافظ اور والیوں کی زینت ہیں ۔انھیں سے دین کی عزت ہے اور یہی امن وامان کے وسائل ہیں۔ رعایا کے امور کاقیام ان کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے اور یہ دستے بھی قائم نہیں رہ سکتے ہیں جب تک وہ خر اج نہ نکال دیاجائے جس کے ذریعہ دشمن سے جہاد کی طاقت فراہم ہوتی ہے اور جس پر حالات کی اصلاح میں اعتماد کیا جاتا ہے اور وہی ان کے حالات کے درست کرنے کا ذریعہ ہے اس کے بعد ان دونوں صنیوں کا قیام قا ضیوں۔ عاملوں ہور کاتبوں کے طبقہ کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ سب عہد و پیمان کو مستحکم بناتے ہیں منافع کو جمع کرتے ہیں اور معمولی اور غیر معمولی معاملات میں ان پر اعتماد کیاجاتا ہے۔ اس کے بعد ان سب کا قیام تجار اور صنعت کاروں کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ وہ وسائل حیات کو فراہم کرتے ہیں۔ بازاروں کو قائم رکھتے میں اور لوگوں کی ضرورت کا سامان ان کی زحمت کے بغیر فراہم کردیتے ہیں۔ اس کے بعد فقراء و مساکین کا پست طبقہ ہے جو اعانت وامداد کا حقدار ہے اور اللہ کے یہاں ہر ایک کے لئے سامان حیات مقرر ہے اور ہر ایک کا والی پر اتنی مقدار میں حق ہے جس سے اس کے امر کی اصلاح ہوسکے اور والی اس فریضہ سے عہد ہ بر آنہیں ہو سکتا ہے جب تک ان مسائل کا اہتمام نہ کرے اور اللہ سے مدد طلب نہ کرے اور اپنے نفس کو حقوق کی ادائیگی اور اس راہ کے خفیف وثقیل پر صبر کرنے کے لئے آمادہ نہ کرے لہذا لشکر کا سردار اسے قرار دینا جو اللہ' رسول اور امام کا سب سے زیادہ مخلص' سب سے زیادہ پا کدامن اور سب سے زیادہ برداشت کرنے والاہو۔ غصہ کے موقع پر جلد بازی نہ کر تا ہو۔ عذر کو قبول کر لیتاہو۔ کمزوروں پر مہربانی کرتا ہو۔ طاقتور افراد کے سامنے اکڑ جاتاہو۔ بد خوئی اسے جوش میں نہ لے آئے اورکمزوری اسے ٹبھانہ دے ۔علاقاتِ عامّہ پھراس کے بعد اپنا رابطہ بلند خاندان۔ نیک گھرانے۔ عمدہ روایات والے اور صاحبانِ ہمّت و شجاعت و سخاوت وکرم سے مضبوط رکھو کہ یہ لوگ کرم کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہیں۔ ان کے حالات کی اسی طرح دیکھ بھال رکھنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کے حالات پر نظر رکھتے ہیں اور اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کر نا جوا نھیں قوت بخشتا ہو تو اسے عظیم نہ خیال کر لینا اور اگر کوئی معمولی بر تاؤبھی کیا ہے تو اسے حقیر سمجھ کر روک نہ دنیا۔ اس لئے کہ اچھا سلوک انھیں اخلاص کی دعوت دے گا اور ان میں حسن ظن پیدا کرائے گا اور خبردار بڑے بڑے کاموں پر اعتبار کر کے چھوٹی چھوٹی ضروریات کی نگرانی کو نظر اندازنہ کردینا کہ معمولی مہربانی کا بھی ایک اثر ہے جس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور بڑے کرم کا بھی ایک مقام ہے جس سے لوگ مستغنی نہیں ہو سکتے ہیں۔

دفاع

اور دیکھو تمام سردارانِ لشکر میں تمھارے نزدیک سب سے زیادہ افضل اسے ہونا چاہئے جو فوجیوں کی امداد میں ہاتھ بٹا تاہوا ور اپنے اضافی مال سے ان پر اس قدر کرم کرتا ہو کہ ان کے پسماندگان اور متعلقین کے لئے بھی کافی ہو جائے تا کہ سب کا ایک ہی مقصد رہ جائے اور وہ ہے دشمن سے جہاد۔ اس لئے کہ ان سے تمھاری مہربانی ان کے دلوں کو تمھاری طرف موڑدے گی۔ اور والیوں کے حق میں بہترین خنکئی چشم کا سامان یہ ہے کہ ملک بھرمیں عدل و انصاف قائم ہو جائے اور رعایا میں محبت و الفت ظاہر ہوجائے اور یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سینے سلامت نہ ہوں اور ان کی خیر خواہی مکمل نہیں ہو سکتی ہے جب تک اپنے حاکموں کے گرد گھیرا ڈال کر ان کی حفاظت نہ کریں اور پھران کے اقتدار کو سر کا بوجھ نہ سمجھیں اور ان کی حکومت کے خاتمہ کا انتظار نہ کریں لہٰذا ان کی امیدوں میں وسعت دنیا اور دیکھو تمام سردارانِ لشکر میں تمھارے نزدیک سب سے زیادہ افضل اسے ہونا چاہئے جو فوجیوں کی امداد میں ہاتھ بٹا ہوا اور اپنے اضافی مال سے ان پر اس قدر کرم کرتا ہو کہ ان کے پسماندگان اور متعلقین کے لئے بھی کافی ہو جائے تا کہ سب کا ایک ہی مقصد رہ جائے اور وہ ہے دشمن سے جہاد۔ اس لئے کہ ان سے تمھاری مہربانی ان کے دلوں کو تمھاری طرف موڑدے گی۔ اور والیوں کے حق میں بہترین خنکئی چشم کا سامان یہ ہے کہ ملک بھرمیں عدل و انصاف قائم ہو جائے اور رعایا میں محبت والفت ظاہر ہوجائے اور یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سینے سلامت نہ ہوں اور ان کی خیر خواہی مکمل نہیں ہو سکتی ہے جب تک اپنے حاکموں کے گرد گھیرا ڈال کر ان کی حفاظت نہ کریں اور پھر ان کے اقتدار کو سر کا بوجھ نہ سمجھیں اور ان کی حکومت کے خاتمہ کا انتظار نہ کریں لہٰذا ان کی امیدوں میں وسعت دنیا اور برابر کارنا موں کی تعریف کرتے رہنا بلکہ عظیم لوگوں کے کارناموں کو شمار کرتے رہنا کہ ایسے تذکروں کی کثر ت بہادروں کو جوش دلاتی ہے اور پیچھے ہٹ جانے والوں کو ابھا ردیا کرتی ہے۔ انشاء اللہ اس کے بعد ہر شخص کے کارنامہ کو پہچانتے رہنا اور کسی کے کارنامہ کو دوسرے کے نامئہ اعمال میں نہ درج کر دنیا اور ان کامکمل بدلہ دینے میں کوتاہی نہ کرنا اور کسی شخص کی سماجی حیثیت تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم اس کے معمولی کام کو بڑا قرار دے دویا کسی چھوٹے آدمی کے بڑے کارنامہ کو معمولی بنادو۔

جو امور مشکل دکھائی دیں ا ور تمھارے لئے مشتبہ ہو جائیں۔ انھیں اللہ اور رسول کی طرف پلٹا دو کہ پروردگار نے جس قوم کو ہدایت دینا چاہی ہے اس سے فریاد ہے کہ ایمان والو! اللہ ' رسول اورصاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔ اس کے بعد کسی شے میں تمھارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹادو۔ تو اللہ کی طرف پلٹانے کا مطلب اس کی کتاب محکم کی طرف پلٹانا ہے اور رسول کی طرف پلٹا نے مقصد اس سنت کی طرف پلٹا ناہے جوامت کو جمع کرنے والی ہو' تفرقہ ڈالنے والی نہ ہو۔

قضاوت

اس کے بعد لوگوں کے درمیاں فیصلہ کرنے کے لئے ان افراد کا انتخاب کرنا جو رعا یا یں تمھارے نزدیک سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ اس اعتبار سے کہ نہ معاملات میں تنگی کا شکار ہوتے ہوں اور نہ جھگڑا کر نے والوں پر غصّہ کرتے ہوں۔ نہ غلطی پر اَڑ جاتے ہوں اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد اس کی طرف پلٹ کر آنے میں تکلّف کرتے ہوں اور نہ ان کا نفس لا لچ کی طرف جُھکتاہو اور نہ معاملات کی تحقیق میں ادنیٰ فہم پر اکتفا کرکے مکمل تحقیق نہ کرتے ہوں۔ شہادت میں توقف کرنے والے ہوں اور دلیلوں کو سب سے زیادہ اختیار کرنے والے ہوں۔ فریقین کی بحشوں سے اُکتانہ جاتے ہوں اور معاملات کی چھان بین میں پوری قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوں اور حکم کے واضح ہو جانے کے بعد نہایت وضاحت سے فیصلہ کردیتے ہوں۔ نہ کسی کی تعریف سے مغرور ہوتے ہوں اور نہ کسی کے اُبھارنے پراو نچے ہوجاتے ہوں۔ ایسے افرادیقینًا کم ہیں۔ لیکن ہیں۔پھراس کے بعد تم خود بھی ان کے فیصلوں کی نگرانی کرتے رہنا اور ان کے عطا یا میں اتنی وسعت پیدا کردینا کہ ان کی ضرورت ختم ہو جائے اور پھر لوگوں کے محتا ج نہ رہ جائیں انھیں اپنے پاس ایسا مرتبہ اور مقام عطا کرنا جس کی تمھارے خواص بھی طمع نہ کرتے ہوں کہ اس طرح وہ لوگوں کے ضرر پہو نچا نے سے محفوظ ہو جائیں گے۔ مگر اس معاملہ پر بھی گہری نگاہ رکھنا کہ یہ دین بہت دنوں اشرارکے ہاتھوں میں قیدی رہ چکاہے جہاں خواہشات کی بنیاد پر کام ہو تا تھا اور مقصد صرف دنیا طلبی تھا۔

عمّال

اس کے بعد اپنے عاملوں کے معاملات پر بھی نگاہ رکھنا اور انھیں امتحان کے بعد کام سپرد کرنا اور خبر دار تعلقات یا جا نبداری کی بنا پر غہدہ نہ دے دنیا کہ یہ باتیں ظلم اور خیانت کے اثرات میں شامل ہیں ۔ اور دیکھو ان میں بھی جو مخلص اور غیرت مند ہوں انکو تلاش کرنا جو اچھے گھرانے کے افراد ہوں اور ان کے اسلام میں سابق خدمات رہ چکے ہوں کہ ایسے لوگ خوش اخلاق اور بے داغ عزّت والے ہوتے ہیں ۔ان کے اندر فضول خرچی کی لا لچ کم ہوتی ہے اور یہ انجام کار پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔ اس کے بعدان کے بھی تمام اخراجات کا انتظام کردینا کہ اس سے انھیں اپنے نفس کی اصلاح کا بھی موقع ملتا ہے اور دوسروں کے اموال پر قبضہ کرنے سے بھی بے نیاز ہوجاتے ہیں اور پھر تمھارے امر کی مخالفت کریں یا امانت میں رخنہ پیدا کریں توان پرحُجّت بھی تمام ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ان عمال کے اعمال کی بھی تفتیش کرتے رہنا اور نہایت معتبر قسم کے اہل صدق و صفا کو ان پر جاسوسی کے لئے مقرر کردینا کہ یہ طرزِ عمل انھیں امانتداری کے استعمال پر اور رعایا کے ساتھ نرمی کے بر تا ؤپر آمادہ کرے گا۔ اور دیکھو اپنے مددگاروں سے بھی اپنے کو بچاکر رکھنا کہ اگر ان میں کوئی ایک بھی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور تمھارے جاسوس متفقہ طور پر یہ خبر دیں تو اس شہادت کو کافی سمجھ لینا اوراسے جسمانی اعتبار سے بھی سزادینا او ر جومال حاصل کیا ہے اسے چھین بھی لینا اور سماج میں ذلّت کے مقام پر رکھ کر خیانت کاری کے مجرم کی حیثیت سے رو شناس کرانا او ر ننگ و رُسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔

خراج

خراج اور مالگذاری کے بارے میں وہ طریقہ اختیار کرنا جو ما لگذاروں کے حق میںزیادہ مناسب ہو کہ خراج اور اہل خراج کے صلاح ہی میں سارے معاشرہ کی صلاح ہے اور کسی کے حالات کی اصلاح خراج کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے' لوگ سب کے سب اسی خراج کے بھرو سے زندگی گذار تے ہیں۔ خراج میں تمھاری نظر مال جمع کرنے سے زیادہ زمین کی آباد کاری پر ہونی چاہئے کہ مال جمع آوری زمین کی آبادکاری کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جس نے آباد کاری کے بغیر مالگذاری کا مطالبہ کیا اس نے شہروں کو بر باد کردیا اور بندوں کوتباہ کردیا اور اس کی حکومت چند دنوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتی ہے۔ اس کے بعد اگر لوگ گر انباری ۔ آفت ناگہانی ۔ نہروں کی خشکی' بارش کی کمی ۔ زمین کی غرقابی کی بناپر تباہی اور خشکی کی بناپر بر بادی کی کوئی فریاد کریں تو ان کے خراج میں اس قدرت تخفیف کردینا کہ ان کے امور کی اصلاح ہوسکے اور خبرداریہ تخفیف تمھارے نفس پرگراں نہ گذرے اس لئے کہ یہ تخفیف اور سہولت ایک ذخیرہ ہے جس کا اثر شہروں کی آبادی اور حکام کی زیب و زینت کی شکل میں تمھاری ہی طرف واپس آئے گا اور اس کے علاوہ تمھیں بہترین تعریف بھی حاصل ہو گی اور عدل و انصاف کے پھیل جانے سے مسرت بھی حاصل ہو گی' پھران کی راحت و رفاہیت اور عدل و انصاف ' نرمی و سہولت کی بناپر جو اعتماد حاصل کیا ہے اس سے ایک اضافی طاقت بھی حاصل ہوگی جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے۔ اس لئے کہ بسا اوقات ایسے حالات پیش آجاتے ہیں کہ جن میں اعتماد و حسن ظن کے بعدان پر اعتماد کر و تو نہایت خوشی سے مصیبت کو برداشت کر لیتے ہیں اور اس کا سبب زینوں کی آبادکاری ہی ہوتا ہے۔ زینوں کی بر بادی اہل زمین کی تنگدستی سے پیدا ہوتی ہے اور تنگدستی کا سبب حکام کے نفس کا جمع آوری کی طرف رجحان ہوتا ہے اور ان کی یہ بد ظنی ہوتی ہے کہ حکومت باقی رہنے والی نہیں ہے اور وہ دوسرے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل نہیں کرتے ہیں۔

کاتب

اس کے بعد اپنے منشیوں کے حالات پر نظر رکھنا اور اپنے امور کو بہترین افراد کے حوالے کرنا اور پھر وہ خطوط جن میں رموز ِ سلطنت اور اسرارِ مملکت ہوں ان افراد کے حوالے کر نا جو بہترین اخلاق و کردار کے مالک ہوں اور عزت پاکراکڑ نہ جاتے ہوں کہ ایک دن لوگوں کے سامنے تمھاری مخالفت کی جرأات پیدا کر لیں اور غفلت کی بناپر لین دین کے معاملات میں تمھارے عمال کے خطوط کے پیش کرنے اور ان کے جوابات دینے میں کوتاہی سے کام لینے لگیں اور تمھارے لئے جو عہد و پیمان باندھین اسے کمزور کردیں اور تمھارے خلاف سازبازکے توڑنے میں عاجزی کا مظاہرہ کر نے لگیں۔ دیکھو یہ لوگ معاملات میں اپنے صحیح مقام سے نا واقف نہ ہوں کہ اپنی قدرو منزلت کانہ پہچاننے والا دوسرے کے مقام دومرتبہ سے یقینًا زیادہ نا واقف ہوگا۔

اس کے بعد ان کا تقرر بھی صرف ذاتی ہوشیاری' خوش اعتمادی اور حسن ظن کی بناپر نہ کر نا کہ اکثر لوگ حکام کے سامنے بناوٹی کرداراور بہترین خدمت کے ذریعہ اپنے کو بہترین بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ اس کے پشت نہ کوئی اخلاص ہوتا ہے اور نہ اما نتداری پہلے ان کا امتحان لینا کہ تم سے پہلے دالے نیک کردار حکام کے ساتھ ان کابر تا ؤ کیا رہا ہے پھر جو عوا م میں اچھے اثرات رکھتے ہوں اور امانتداری کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہوں انھیں کا تقر رکردینا کہ یہ اس امر کی دلیل ہوگا کہ تم اپنے پروردگارکے بندئہ مخلص اور اپنے امام کے وفادار ہو۔ اپنے جملہ شعبوں کے لئے ایک ایک افسر مقرر کر دینا جوبڑٍے سے بڑے کام سے مقہور نہ ہوتا ہو اور کاموں کی زیادتی پر پراگندہ حواس نہ ہو جاتا ہو۔ اور یہ یاد رکھنا کہ ان منشیوں میں جو بھی عیب ہو گا اور تم اس سے چشم پوشی کرد گے اس کا مواخذہ تمھیں سے کیا جائے گا۔اس کے بعد تاجروں اور صنعت کاروں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو اور دوسروں کو ان کے ساتھ نیک بر تاؤ کی نصیحت کروچاہے وہ ایک مقام پرکام کرنے و الے ہوں یا جا بجا گردش کرنے والے ہوں اور جسمانی محنت سے روزی کمانے والے ہوں۔ اس لئے کہ یہی افراد منافع کامرکز اور ضروریات زندگی کے مہیاکرنے کا وسیلہ ہوتے ہیں ۔ یہی دور از مقامات بردبحر 'کوہ و میدان ہر جگہ سے ان ضروریات کے فراہم کرنے والے ہوتے ہیںجہاں لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی ہے اور جہاں تک جانے کی لوگ ہمّت نہیں کرتے ہیں ۔یہ وہ امن پسند لوگ ہیں جن سے فساد کا خطرہ نہیں ہوتا ہے اور وہ صلح و آشتی والے ہوتے ہیں جن سے کسی شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔اپنے سامنے اور دو سرے شہروں میں پھیلے ہوئے ان کے معاملات کی نگرانی کرتے رہنا اور یہ خیال رکھنا کہ ان میں بہت سے لوگوں میں انتہائی تنگ نظری اور بدترین قسم کی کنجو سی پائی جاتی ہے یہ منافع ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اونچے اونچے دام خود ہی معین کردیئے میں' جس سے عوام کو نقصان ہو تا ہے اور حکام کی بد نامی ہوتی ہے۔ لوگوں کو ذخیرہ اندوزی سے منع کرو کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے خرید و فروخت میں سہولت ضروری ہے جہاں عادلانہ میزان ہوا ور وہ قیمت معین ہو جس سے خریدار یا بیچنے والے کسی فریق پر ظلم نہ ہو ۔ اس کے بعد تمھارے منع کرنے کے با وجود اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی کرے تو اسے سزا دو لیکن اس میںبھی حدسے تجاوز نہ ہونے پائے ۔ اس کے بعد اللہ سے ڈرو اس پسماندہ طبقہ کے بارے میں جو مساکین 'محتاج فقراء اور مغدور افراد کا طبقہ ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس طبقہ میں مانگنے والے بھی ہیں اور غیرت داربھی ہیں جن کی صورت سوال ہے۔ ان کے جس حق اللہ نے تمھیں محافظ بنا یا ہے اس کی حفاظت کرو اور ان کے لئے بیت المال اورارض غنیمت کے غلات میں سے ایک حصہ مخصوص کر دو کہ ان کے دو ر افتادہ کا بھی وہی حق ہے جوقریب والوں کا ہے اور تمھیں سب کا نگراں بنا یا گیا ہے اہٰذا خبر دار کہیں غروتکبرّ تمھیں ان کی طرف سے غافل نہ بنادے کہ تمھیں بڑے کا موں کے مستحکم کر دینے سے چھوٹے کاموں کی بربادی سے معاف نہ کیا جائے گا۔ لہٰذا نہ اپنی توجہ کوان کی طرف سے ہٹانا اور نہ غرور کی بناپر اپنا منھ موڑلینا۔ جن لوگوں کی رسائی تم تک نہیں ہے اور انھیں نگاہوں نے گرادیا ہے اور شخصیتوںنے حقیر بنادیا ان کے حالات کی دیکھ بھال بھی تمھارا ہی فریضہ ہے لہٰذا ان کے لئے متواضع اور خوفِ خدا رکھنے والے معتبر افراد کو مخصوص کردو جوتم تک ان کے معاملات کو پہونچاتے رہیں اور تم ایسے اعمال انجام دیتے رہو جن کی بنا پر روز قیامت پیش پروردگار معذور کہے جا سکو کہ یہی لوگ سب سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیں اور پھر ہرا ایک کے حقوق کو اداکرنے میں پیش پرودگار اپنے کو معذور ثابت کرو۔اور یتیموں اور کبیرا لسن بوڑ ھوں کے حالات کی بھی نگرانی کرتے رہنا کہ ان کا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یہ سوال کرنے کے لئے کھڑے بھی نہیں ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کا خیال رکھنا حکام کے لئے بڑا سنگین مسئلہ ہوتا ہے لیکن کیا جائے حق تو سب کا سب ثقیل ہی ہے۔ البتہ کبھی کبھی پرورگار اسے ہلکا قرار دے دیتا ہے ان اقوام کے لئے جو عاقیبت کی طلبگار ہوتی ہیں اور اس راہ میں اپنے نفس کو صبر کا خو گر بناتی ہیں اور خدا کے وعدہ پر اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اور دیکھو صاحبانِ ضرورت کے لئے ایک وقت معین کر دو جس میں اپنے کو ان کے لئے خالی کر لو اور ایک عمومی مجلس میں بٹیھو۔ اس خدا کے سامنے متوا ضع رہو جس نے پیدا کیا ہے او راپنے تمام نگہبان' پولیس ' فوج اعوان وانصار سب کو دور بٹھا دو تا کہ بولنے والا آزادی سے بول سکے اور کسی طرح کی لکنت کا شکارنہ ہو کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سُنا ہے کہ آپ نے بار بار فرمایا ہے کہ وہ امت پاکیزہ کردار نہیں ہو سکتی ہے جس میں کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے ۔ اس کے بعد ان سے بد کلامی یا عاجزی کلام کا مظاہرہ ہو تو اسے برداشت کرو اور دل تنگی اور غرورکو دور رکھو تا کہ خدا تمھارے لئے رحمت کے اطراف کشادہ کرے اور اطاعت کے ثواب کو لازم قرار دیدے۔ جسے جو کچھ دو خوشگوار کے ساتھ دو اور جسے منع کرو اسے خوبصورتی کے ساتھ ٹال دو۔اس کے بعدتمھارے معاملا ت میں بعض ایسے معاملات بھی ہیں جنھیں تمھیں خودبراہ راست انجام دینا ہے۔ جیسے حکام کے ان مسائل کے جوابات جن کے جوابات محر را فرادنہ دے سکیںیا لوگوں کے ضروریات کو پورا کر نا جن کے پورا کرنے سے تمھارے مددگار افراد جی چُراتے ہوں اور دیکھو ہر کام کو اسی کے دن مکمل کر دنیا کہ ہر دن کا اپنا ایک کام ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنے اور پروردگار کے روابط کے لئے بہترین وقت کا انتخاب کرنا جو تمام اوقات سے افضل او ربہترہو۔ اگر چہ تمام ہی اوقات اللہ کے لئے شمار ہو سکتے ہیں اگر انسان کی نیت سالم رہے اور رعایا اس کے طفیل خوشحال ہو جا ئے ۔ اورتمھارے وہ اعمال جنھیں صرف اللہ کے لئے انجام دیتے ہو ان میںسے سب سے اہم کام ان فرائض کا قیام ہو جو صرف پروردگار کے لئے ہوتے ہیں ۔ اپنی جسمانی طاقت میںسے رات اور دن دونوےں وقف ایک حصہ اللہ کے لئے قرار دینا اور جس کام کے ذریعہ اس کی قربت چاہتے ہو اسے مکمل طور سے انجام دینا نہ کوئی رخنہ پڑ نے پائے اور نہ کوئی نقص پیدا ہو چاہے بدن کو کسی قدرزحمت کیوں نہ ہو جائے۔ اور جب لوگوں کے ساتھ جماعت کی نماز ادا کر و تو نہ اس طرح پڑھو کہ لوگ بیزار ہو جائیں اور نہ اس طرح کہ نماز برباد ہو جائے اس لئے کہ لوگوں میں بیمار اور ضرورت مندا فراد بھی ہوتے ہیں اور میں نے یمن کی مہم پر جاتے ہوئے حضور اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ نماز جماعت کا انداز کیا ہونا چاہئے تو آپ نے فرمایا تھا کہ کمزور ترین آدمی کے اعتبار سے نماز ادا کرنا اور مومنین کے حال پر مہربان رہنا۔

اس کہ بعد یہ بھی خیال رہے کہ اپنی رعایا سے دیرتک الگ نہ رہنا کہ حکام کا رعایا سے پس پرندہ رہنا ایک طرح کی تنگ دلی پیدا کرتا ہے اور ان کے معاملات کی اطلاع کی اطلاع نہیں ہوپاتی ہے اور یہ پردہ داری انھیں بھی ان چیزوں کے جاننے سے روک دیتی ہے جن کے سامنے حجابات قائم ہوگئے ہیں اور اس طرح بڑی چیز چھوٹی چیزبڑی ہوجاتی ہے۔ اچھابرُ ابن جاتا ہے اور بُرا اچھا ہوجاتا ہے اور حق باطل سے مخلوط ہوجاتا ہے۔ اور حاکم بھی بالآخر ایک بشرہے وہ پس پردہ امور کی اطلاع نہیں رکتھا ہے اور نہ حق پیشانی پرایسے نشانات ہوتے ہیں جن کے ذریعہ صداقت کے اقسام کو غلط بیانی سے الگ کر کے پہچانا جا سکے۔ اور پھر تم دو میں سے ایک قسم کے ضرور ہوگے۔ یا وہ شخص ہوگے جس کا نفس حق کی راہ میں بذل وعطا پر مائت ہے تو پھر تمیں واجب حق عطاکرنے کی راہ میں پردہ حائل کرنے کی کیا ضرورت ہے اور کریموں جیسا عمل کیوں نہیں انجام دیتے ہو ۔ یا تم بخل کی بیماری میں مبتلا ہو گے تو بہت جلدی لوگ تم سے مایوس ہو کر خود ہی اپنے ہاتھ کھینچ لیں گے اور تمھیں پردہ ڈالنے ضرورت ہی نہ پڑے گی حلا نکہ لوگو ں کے اکثر ضروریات وہ میں جن میں تمھیں کسی طرح کی زحمت نہیں ہے جیسے کسی ظالم کی فریاد یا کسی معاملہ میں انصاف کا مطالبہ اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ ہر والی کے کچھ مخصوص اور راز دار قسم کے افراد ہوتے ہیں جن میں خود غرضی۔ دوست درازی اور معاملات میں بے انصافی پائی جاتی ہے لہٰذا خبردار ایسے افراد کے فساد کا علاج ان اسباب کے خاتمہ سے کرنا جن سے یہ حالات پیدا ہوتے ہیں ۔اپنے کسی بھی حشیہ نشین اور اقرابت دار کو کوئی جا گیر مت بخش دنیا اور اسے تم سے کوئی ایسی توقع نہ ہو نی چاہئے کہ تم ایسی زمین پر قبضہ دیدوگے جس کے سبب آبپاشی یا کسی مشترک معاملہ میں شریک رکھنے والے افراد کو نقصان پہونچ جائے کہ اپنے مصارف بہی دوسرے کے سرڈال دے اور اس طرح اس معاملہ کا مزہ اس کے حصہ میں آئے اور اس کی ذمہ داری دنیا اور آخرت میں تمھارے ذمہ رہے۔ اور جس پر کوئی حق عائد ہو اس پراس کے نافد کرنے کی ذمہ داری ڈالو چاہے وہ تم سے نزدیک ہو یا دور اور راس مسئلہ میں اللہ کی راہ میں صبر و تحمّل سے کام لینا' چاہے اس کی زد تمھارے قرابتداروں اور خاص افراد ہی پر کیوں نہ پڑتی ہو اور اس سلسلہ میں تمھارے مزاج پر جو بار ہو اسے آخرت کی امیدمیں برداشت کرلینا کر لینا کہ اس کا انجام بہتر ہوگا۔ اور اگر کبھی رعا یا کو یہ کو یہ خیال ہو جائے کہ تم نے ان پر ظلم کیا ہے تو ان کے لئے اپنے عذر کا اظہار کرو اور اسی ذریعہ سے ان کی بدگمانی کا علاج کرو کہ اس میں تمھارے نفس کی ترتیب بھی ہےاور رعا یا پر نرمی کا اظہار بھی ہے اور وہ عذر خواہی بھی ہے جس کے ذریعہ تم رعایا کو راہِ حق پر چلانے کا مقصد بھی حاصل کر سکتے ہو اور خبردار کسی ایسی دعود صلح کا انکارنہ کر نا جس کی تحریک دشمنی کی طرف سے ہو اور جس میں مالک کی رضا مند پائی جاتی ہو کہ صلح کے ذریعہ فوجوں کو قدرے سکون مل جاتاہے اور تمھارے نفس کو بھی افکار سے نجات مل جائےگی اور شہروں میں بھی امن وامان کی فضا قائم ہو جائے گی۔ البتہ صلح کے بعد دشمنی کی طرف سے مکمل طور پر ہوشیار رہنا کہ کبھی کبھی وہ تمھیں غافل بنانے کے لئے تم سے قریب اختیار کرنا چا ہتا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں مکمل ہوشیاری سے کام لینا اور کسی حسن ظن سے کام نہ لینا اور اگر اپنے اور اس کے در میان کوئی معاہدہ کرنا یا اسے کسی طرح کی پناہ دینا تو اپنے عہد کی پاسداری و وفاداری کے ذریعہ کرنا اور اپنے دمہ کو امانتداری کے ذریعہ محفوظ بنانا اور اپنے قول و قرار کی راہ میں اپنے نفس کو سپر بنادینا کہ اللہ کے فرائض میں ایفائے عہد جیسا کوئی فریضہ نہیں ہے جس پر تمام لوگ خواہشات کے اختلاف اور افکار کے تضاد کے باو جو متحد ہیں اور راس کا مشرکین نے بھی اپنے معاملات میں لحاظ رکھاہے عہد شکنی کے نتیجہ میں تباہیوں کا اندازہ کرلیا ہے ۔ تو خبردارتم اپنے عہد و پیمان سے غداری نہ کرنا اور اپنے قول و قرار میں خیانت سے کام نہ لینا اور اپنے دشمن پر اچانک حملہ نہ کردینا ۔ اس لئے کہ اللہ کے مقابلہ میں جاہل و بدبخت کے علاوہ کو ئی جرأات نہیں کرتا ہے اور اللہ نے عہد و پیمان کو امن وامن کا وسیلہ قراردیا ہے جسے اپنی رحمت سے تمام بندوں کے در میان عالم کردیا ہے اور ایسی پناہ گاہ بنادیا ہے جس کے دامن حفاظت میں پناہ لینے والے پناہ لیتے ہیں اور اس کے جوار میں منزل کرنے کے لئے تیزی سے قدم

آگے بڑھاتے ہیں لہذا اس میں کوئی جعل سازی ' فریب کاری اور مکاری نہ ہونی چاہئے اور کوئی ایسا معاہدہ نہ کر نا جس میں تاویل کی ضرورت پڑے اور معاہدہ کے پختہ ہوجا نے کے بعد اس کے کسی مبہم لفظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرنا اور عہد الٰہی میں تنگی کا احساس غیر حق کے ساتھ وسعت کی جستجو پر آمادہ نہ کردے کہ کسی امر کی تنگی پر صبر کر لینا اور کشائش حال اور بہترین عاقبت کا انتظار کرنا اس غداری سے بہترہے جس کے اثرات خطر ناک ہوں اور تمھیں اللہ کی طرف سے جواب دہی کی مصیبت گھیر لے اور دنیا وآخرت دونوں تباہ ہوجا ئیں۔ دیکھو خبردار۔ نا حق خون بہانے سے پر ہیز کرنا کہ اس سے زیادہ عذاب الٰہی سے قریب تراور پاداش کے ااعتبار سے شدیدتر اور نعمتوں کے زوال۔ زندگی کے خاتمہ کے لئے مناسب تر کوئی سبب نہیں ہے اور پروردگار روزقیامت اپنے فیصلہ کا آغاز خونریزیوں کے معاملہ سے کرے گا۔ لہٰذا خبر دار اپنی حکومت کا استحکام ناحق خونریزی کے ذریعہ نہ پیدا کرنا کہ یہ بات حکومت کو کمزور اور بے جان بنا دیتی ہے بلکہ تباہ کرکے دوسروں کی طرف منتقل کردیتی ہے اور تمھارے پاس نہ خدا کے سامنے اور نہ میرے سامنے عمدََاقتل کرنے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اس میں زندگی کا قصاص بھی ثابت ہے۔ البتہ اگر دھوکہ سے اس غلطی میں مبتلا ہو جاؤ اور تمھارا تازیانہ' تلوار یا ہاتھ سزادینے میں اپنی حدسے آگے بڑھ جائے کہ کبھی کبھی گھونسہ و غیرہ بھی قتل کا سبب بن جاتا ہے۔ تو خبر دار تمھیں سلطنت کا غر و راتنا او نچانہ بنادے کہ تم خون کے وارثوں کو ان کا حق خون ہا بھی ادا نہ کرو۔ اور دیکھو اپنے نفس کو خودپسندی سے بھی محفوظ رکھنا اور اپنی پسند پر بھر وسہ بھی نہ کرنا اور زیادہ تعریف کا شوق بھی نہ پیدا ہوجائے کہ یہ سب باتیں شیطان کی فرصت کے بہترین وسائل ہیں جن کے ذریعہ وہ نیک کرداروں کے عمل کوضائع اور برباد کر دیا کرتا ہے اور خبر دار عایا پر احسان بھی نہ جتا نا اور جو سلوک کیا ہے اسے زیادہ سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرنا یا ان سے کوئی وعدہ کرکے ا س کے بعد وعدہ خلافی بھی نہ کرنا کہ یہ طرز عمل احسان کو برباد کردیتا ہے اور زیادتی عمل کا غرور حق کی نورانیت کو فنا کردیتا ہے اور وعدہ خلافی خدا اور بندگانِ خدا دونوں کے نزدیک ناراضگی کا باعث ہوتی ہے جیسا کہ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضگی کی بات ہے کہ تم کوئی بات کہو اور پھر اس کے مطابق عمل نہ کرو۔ اور خبر دار وقف سے پہلے کاموں میں جلدی نہ کرنا اور وقف آجانے کے بعد سُستی کا مظاہرہ نہ کر نا اور بات سمجھ میں نہ آئے تو جھگڑانہ کرنا اور واضح ہو جائے تو کمزوری کا اظہار نہ کرنا۔ ہر بات کو اس کی جگہ رکھو اور ہر امر کو اس کے محل پر قرار دو۔ دیکھو جس چیز میں تمام لوگ برابر کے شریک ہیں اسے اپنے ساتھ مخصوص نہ کر لینا اور جو حق نگا ہوں کے سامنے واضح ہو جائے اس سے غفلت نہ بر تنا کہ دوسروں کے لئے یہی تمھار ی ذمہ داری ہے اور عنقریب تمام امور سے پر دے اُ ٹھ جائیں گے اور تم سے مظلوم کابدلہ لے لیا جا ئے گا۔ اپنے غضب کی تیزی' اپنی سر کشی کے جوش' اپنے ہاتھ کی جنبش اور اپنی زبان کی کاٹ پر قابور رکھنا اور ان تمام چیزوں سے اپنے کو اس طرح محفوظ رکھنا کہ جلدبازی سے کام نہ لینا اور سزاد ینے میں جلدی نہ کرنا یہانتک کہ غصہ ٹھہر جائے اور اپنے اور پر قابو حاصل ہو جائے۔ اور اس امر پر بھی اختیار اس وقف تک حاصل نہیں ہو سکتا ہے جب تک پروردگار کی بارگاہ میں واپسی کا خیال زیادہ سے زیادہ نہ ہوجائے۔ تمھارا فریضہ ہے کہ ماضی میں گذر جانے والی عادلانہ حکومت اور فاضلانہ سیرت کو یاد رکھو' رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار اور کتاب خدا کے احکام کو نگاہ میں رکھو ا ورجس طرح ہمیں عمل کرتے دیکھا ہے اسی طرح ہمارے نقشِ قدم پر چلو اور جو کچھ اس عہد نامہ میں ہم نے بتا یا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو کہ میں نے تمھارے اوپر اپنی حجت کو مستحکم کردیا ہے تا کہ جب تمھارا نفس خواہشات کی طرف تیزی سے بڑھے تو تمھارے پاس کوئی عذر نہ رہے۔ اور میں پروردگار کی وسیع رحمت اور ہر مقصد کے عطا کرنے کی عظیم قدرت کے وسیلہ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھے اور تمھیں ان کاموں کی توفیق دے جن میں اس کی مرضی ہو اور ہم دونوں اس کی بارگاہ میں اور بندوں کے سامنے عذر پیش کرنے کے قابل ہو جائیں۔ بندوں کی بہترین تعریف کے حقدار ہوں اور علاقوں میں بہترین آثار چھوڑ کر جائیں۔ نعمت کی فراوانی اور عزّت کے روز افزوں اضافہ کو برقرار رکھ سکیں اور ہم دونوں کا خاتمہ سعادت اور شہادت پر ہو کہ ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور اس کی بارگاہ میں پلٹ کر جانے والے ہیں۔ سلام ہو رسول خدا (ص) پر اور ان کی طیب و طاہر آل پر۔ اور سب پر سلام بے حساب۔ والسلام

Read 3644 times

Add comment


Security code
Refresh