شیعہ اور سنی علماءکے دوستانہ تعلقات

Rate this item
(0 votes)

تاریخ کے ہرمرحلے میں علماء اسلام کی سیرت مسلمانوں بلکہ اقوام عالم کے لۓ مشعل راہ رہی ہے تشنگان راہ حق کبھی بھی اس عظیم نعمت الھی سے بے نیازی کا اظہار نہیں کرسکتے ۔

سیرت علماء کے تعلق سے جس چیزپر تحقیقات کۓ جانے کی ضرورت ہے وہ شیعہ و سنی علماء کے دوستانہ تعلقات اور مفاھمت آمیز روش اور اس کے مبارک ثمرات ہیں ،بے شک اس وسیع موضوع کا ایک مقالے یا مضمون میں حق ادانہیں کیاجاسکتا بلکہ اس کے لۓ وسیع تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے تحت صاحب نظر افراد تاریخ کے اس اھم گوشہ پر روشنی ڈالیں‎ ۔

علماء شیعہ میں بہت سی ایسی ھستیاں ہیں جن کے اھل سنت علماء کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات تھے یہ لوگ اھل سنت علماء کے ساتھ علمی بحث و مباحثے بھی کیا کرتے تھے بلکہ علماءشیعہ میں بعض حضرات اھل سنت علماء کے شاگرد ہیں اسی طرح بعض علماءاھل سنت نے شیعہ علماءکے سامنے زانوے ادت تہ کیا ہے یہی نہیں بلکہ شیعہ علما ءنے اھل سنت علماءکو اجازہ روایت دیا ہے اور ان سے خود بھی اجازے لۓ ہیں،اس باھمی تعاون کا مبارک نتیجہ یہ نکلا کہ برادران اھل سنت کےعلماءپیروان اھل بیت یعنی شیعہ مسلمانوں کے عقائد و اصول سے آگاہ ہوۓ اور بہت سے غلط تصورات ابھامات اور تہمتوں کا ازالہ ہوا اور دوستی میں پختگي آئي ،یاد رہے اس دوستی سے فریقیں کے علماءکے اعتقادات میں کسی طرح کی تبدیلی یا خلل نہیں آیا بلکہ انہوں نے اپنے عقیدے اور موقف کو مستحکم بنانے کے لۓ ایک دوسرے کے نظریات سے پوری جرات کے ساتھ استفادہ کیا ۔

اس مختصر مقالے میں ہم بعض علماء شیعہ کا ذکر کررہے ہیں جن کی الھی شخصیت اور علمی عظمت میں ذرہ برابر شک نہیں کیاجاسکتا ان کے نظریات اور عملی سیرت فریقین کے نزدیک باعث تجلیل و تعظیم و تکریم ہے ۔

شیخ مفید محمد ابن نعمان البغدادی

سید شریف المرتضی علی ابن الحسین الموسوی

شیخ الطائفہ محمد بن الحسن الطوسی

علامہ حسن بن یوسف حلی

شہید اول محمد بن مکی الجزینی

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی

سید عبدالحسین شرف الدین العاملی

اس مختصر مضمون میں ان تمام علماء عظام کی سیرت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا بنابریں ہم صرف شہید اول وثانی اور سید شرف الدین عاملی کی زندگي پر اختصار سے روشنی ڈالیں گے ۔

علامہ بزرگوار سید شرف الدین عاملی اسلامی امۃ کے اتحاد کو بے حد اھمیت دیتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے اھل سنت علماء سے تعلقات بڑھاے ان سے ملاقاتیں کی اور بحث ومباحثے کۓ اور آج بھی ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ علامہ شرف الدین کا اسلوب ہی ثمر بخش و مفید واقع ہورہا ہے البتہ اس بات پربھی افسوس ہوتاہےکہ آپ کے بعد آنے والے علماء فریقین نے آپ کے بتاے ہوے راستے پر سنجیدگي سے عمل کرنا ترک کردیا ،اگر فریقین کے صف اول کے علماء علامہ شرف الدین کے راستہ پر عمل کرتے رہتے اور آپسی ملاقاتوں علمی تبادلوں اور علمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھتے تو آج ہم کو ان مبارک کوششوں کے نہایت مفید ثمرات دیکھنےکوملتے ،بہرحال آج ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعدحضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ اور آپ کے برحق جانشین قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ کی حکیمانہ قیادت میں عالم اسلام کو متحد کرنے کی مفید کوششیں ہورہی ہیں جو انشاءاللہ اسلام کی کامیابی کا باعث بنیں گي ۔

شہید اول محمد بن مکی العاملی ۔

شہید اول کی علمی روش کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہےکہ آپ نے کبھی بھی اپنے تعلقات کو کسی خاص فرقے گروہ یا شخص میں محدود نہیں رکھا بلکہ آپ عالم اسلام کی مختلف علمی شخصیتوں اور مکاتب فکر سے رابطے میں رہتے تھے ،مختلف مکاتب فکر کے علماء ومفکرین سے آپ کا علمی تعاون رھتا تھا ان ہی تعلقات کی بناپر آپ کی شخصیت جامع اور ھمہ گیر بن گئي ۔

شہید اول نے علماء اھل سنت کی متعدد شخصیتوں سے اجازات روائي حاصل کۓ اسی طرح متعدد علماء عامہ کو اجازے دۓ ہیں آپ ابن الخازن کے اجازہ راوئي میں لکھتے ہیں کہ اور جہاں تک سوال ہے عامہ (اھل سنت ) کی کتب اور روایات کا تو میں ان کے چالیس علماء سے روایت کرتاہوں جن کا تعلق مدینے مکہ دارالسلام بغداد دمشق مصر بیت المقدس اور بیت لحم سے ہے ،میں نے صحیح بخاری کے لۓ علماء عامہ کی بڑی تعداد سے روایات نقل کی ہیں جن کی سند بخاری تک پہنچتی ہے اسی طرح میں نےمسند احمد و موطاء مالک ،مسند دارقطنی مسند بن ماجہ مستدرک صحیحین اور دیگر کتابوں کے لۓ روایت کی ہے جن کا ذکر موجب تطویل کلام ہے

شہید اول ابن نجدہ کے اجازہ میں تحریر فرماتے ہیں میں انہیں اجازت دیتا ہوں ان تمام روایات کی جن کی میں نے حجازعراق و شام کے علماء اھل سنت سے روایت کی ہے اور وہ کثیر روایات ہیں ۔

شہید اول کے معروف اھل سنت اساتذہ

1- قاضی برھان الدین ابراھیم بن جماعۃ الکنانی متوفی سات سونوےھجری قمری،ان سے شہید اول نے شاطبیہ پڑھی ہے

2- قاضی القضاۃ عزالدین عبدالعزیزبن جماعۃ متوفی سات سو سڑسٹھ ھ ق ان کے بارے میں شھید فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ھفتے کے دن ذی الحجہ کی بائيس سات سو چون ھ ق کو اجازہ عام جس میں معقول و منقول شامل ہیں دیا ۔

3-جمال الدین ابو احمد عبدالصمد بن الخلیل البغدادی شہید اول کو اجازہ دیتے ہوۓ انہوں نے لکھا ہےکہ کہتا ہےعبد فقیر رحمت کا محتاج بغداد میں حدیث نبوی کا قاری کہ میں نے اجازت دی شیخ الامام علامہ فقیہ صاحب تقوی وفضل زاھد و پارسا شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن مکی بن محمدکو کہ وہ مجھ سے ان تمام روایات کونقل کرسکتے ہیں جو میرے لۓ جائزہیں ۔

4-محمد بن یوسف القرشی الکرمانی الشافعی الملقب بشمس الائمہ و صاحب شرح البخاری ،انہوں نے شیہد اول کو بغداد میں سات سو اٹھاون ھ ق میں اجازہ روایت دیا ۔

5- شرف الدین محمد بن بکتاش التستری البغدادی الشافعی ،مدرس مدرسہ نظامیہ

6- ملک القراء والحفاظ شمس الدین محمد بن عبداللہ البغدادی الحنبلی

7- فخرالدین محمد بن الاعزالحنفی

8- شمس الدین ابو عبدالرحمن محمد بن عبدالرحمن المالکی ،مستنصریہ کے مدرس۔

قابل ذکر ہے نویں صدی ہجری کے بزرگ عالم اھل سنت شمس الدین الجزری نے شہید اول کے بارے میں کہا ہےکہ شیخ الشیعہ اور مجتھد جوکہ نحو قرائت وفقہ میں امام ہیںوہ میرے ساتھ لمبی مدت تک رہے ہیں میں نے اس دوران ان سے کوئي ایسی بات نہیں سنی جو سنت کے برخلاف ہو۔

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی ،

شہید ثانی نے اپنی سوانح حیات میں اھل سنت علماء سے استفادہ کرنے کے بارے میں لکھا ہےکہ میں نوسوبیالیس ھجری قمری کے آغاز میں تحصیل علم کےلۓ مصر گیا اور وہاں بہت سے فاضل افراد سے کسب فیض کیا سب سے پہلے میں شیخ شمس الدین ابن طولوں الدمشقی الحنفی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے صحیحین کا ایک حصہ پڑھا انہوں نے

مجھے صحیحین کی ان روایتوں کی اجازت دی جو ان کے لۓ جائزتھیں یہ بات اسی سال ربیع الاول کی ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں گذشتہ برس ربیع الاول کے وسط میں یوم جمعہ کو مصر پہنچاتھا اور علماء کے ایک گروہ کے ساتھ علمی کاموں میں لگ گيا وہ لکھتے ہیں کہ ان علماءمیں شیخ شھاب الدین احمد الرملی الشافعی ہیں جن سے میں نے فقہ میں منھاج النووی ،اور ابن حاجب کی مختصرالاصول کے اکثر حصے پڑھے ہیں اس طرح شرح العضدی بھی پڑھی ہے اور اس کے حواشی کا مطالعہ بھی کیا ہے جن میں السعدیہ والشریفیہ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان سے فنون عربیہ اور عقلیہ حاصل کرنے کے لے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جن میں شرح التلخیص المختصر فی المعانی و البیان شامل ہے جو کہ سعد الدین تفتازانی کی کتاب ہے اس طرح اصول فقہ میں امام الحرمین جوینی کی ورقات کی شرح جو خود شیخ نے تحریر کی ہے ا س کا بھی درس لیا ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے اذکارالنووی اور فقہ میں جمع الجوامع المحلی کے کچھ حصے اور علم نحو میں توضیح ابن ھشام اور بہت سی دیگر کتابوں کی تعلیم بھی حاصل کی ۔

شہید ثانی نے لکھا ہےکہ شیخ نے مجھے ان روایات کی اجازت عامہ دی جو ان کے لۓ جائزتھیں ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے جن علماء اھل سنت سے استفادہ کیا ان میں ملاحسین جرجانی بھی ہیں ہم نے ان سے ملا قوشجی کی شرح تجرید حاشیہ ملا جلال الدین الدوانی اور فن ھندسہ میں قاضی زادہ رومی کی شرح اشکال التاسیس اور ھیئۃ میں شرح چغمینی کا بھی درس پڑھا ۔

وہ کہتے ہیں ہم نے ملامحمد استرآبادی سے مطول کے بعض حصوں کی تعلیم حاصل کی ساتھ میں سید شریف اور جامی کے حاشیے بھی پڑھے ۔

ان میں ملامحمد گيلانی بھی ہیں جن سے ہم نے معانی و منطق کے بعض ابواب کی تعلیم حاصل کی ۔

شیخ شہاب الدین بن النجار النبلی بھی ہمارے استاد ہیں ہم نے ان سے جاربردی کی شرح شافیہ ۔عروض و قوافی میں شیخ زکریا انصاری کی شرح خزرجیہ کا درس لیا اور مختلف فنون و حدیث کی بہت سی کتابیں انہیں پڑھ کرسنائيں جن میں صحیحین بھی شامل ہیں انہوں نے مجھے ان تمام روایتوں کے نقل کرنے کی اجازت دی ہے جن کے وہ خود راوی ہیں۔

شہید ثانی کہتے ہیں ان کے اساتذہ میں شیخ ابو الحسن البکری بھی شامل ہیں جن سے انہوں نے فقہ و تفسیر اور منھاج پر ان کی شرح کے بعض حصے پڑھے ہیں وہ لکھتےہیں کہ انہوں نے شیخ زین الدی الحری المالکی سے الفیہ بن مالک پڑھی ہے۔

شہید ثانی ناصرالدین اللقانی المالکی کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علوم عقلیہ اور عربیہ میں ان سے زیادہ کسی کوعالم و فاضل نہیں پایا شہید ثانی نے ان سے تفسیر بیضاوی اور دیگر فنون کی کتابیں پڑھی ہیں۔

شہید ثانی کے ایک اور استاد جواھل سنت ہیں ان کانام شیخ ناصر الطبلاوی الشافعی ہے شہید کہتے ہیں میں نے انہیں ابی عمروکی قرائت کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت کے موضوع پر ان کا ایک رسالہ بھی پڑھا ۔

شہید نے لکھا ہے کہ انہوں نے جن افراد سے کسب فیض کیا ان میں شیخ شمس الدین محمد ابو النجاالنحاس بھی ہیں شہید نے انہیں قرات سبعہ کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت میں شاطبیہ کا درس پڑھا وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے قراعشرہ کے مطابق قرائت قرآن شروع کی تھی لیکن اسے مکمل نہیں کرپاے ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد عبدالحمید سہمودی ہیں ان سے شہید نے مختلف فنون کی کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد شیخ شمس الدین عبدالقادر الفرضی الشافعی ہیں جن سے شہید نے ریاضیات کی مختلف کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ہے ،شہید ثانی لکھتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علماءکی بڑی تعداد سے کسب فیض کیا ہے جن کا ذکر تطویل کلام کا باعث ہے ۔

شہید ثانی مصرکے بعدنوسوتینتالیس ھجری قمری میں حجازکاسفرکرتے ہیں اس کے بعدبیت المقدس کی زیارت کےلۓ نوسواڑتالیس ھ ق میں فلسطین پہنچتے ہیں جہان وہ شیخ شمس الدین ابی اللطف المقدسی کے سامنے زانوے ادب تہ کرتےہیں اور ان سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعض حصے پڑھتےہیں شیخ انہیں اجازہ بھی عطاکرتے ہیں ۔

بیت المقدس کے بعد شہید ثانی بعلبک میں قیام پذیر ہوتےہیں اور یہاں ایک مدت تک مذاھب خمسہ اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

علامہ سید شرف الدین العاملی

علاہ سید شرف الدین عاملی آفاقی شخصیت کےمالک ہیں اسلام و مسلمین کی فلاح وبہبود اور امت کے اتحاد کے لۓ ان کی کوششوں کو دنیا کبھی نہیں بھلاسکتی سید شرف الدین نے شیعہ سنی اتحاد کے لۓ اھل سنت کے بزرگ علماء سے رابط کیا اور تعلقات قائم کۓ ان سے استفادہ کیا اور انہیں بھی فیض پہنچایا،لبنان ودیگر اسلامی ممالک میں اسلامی امت کے اچھے حالات ان ہی کی مجاھدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

سید شرف الدین اپنی کتاب ثبت الاسنادفی سلسلۃ الرواۃ میں اپنے اھل سنت اساتذہ اوررفقاءکےبارے میں لکھتے ہیں کہ میرے اھل سنت اساتذہ کی تعداد شیعہ اساتذہ سے زیادہ ہے لیکن میں صرف پانچ شخصیتوں کا ذکر کررہا ہوں جنہوں نے مجھے اجازے دیے ہیں ۔

1 استاد شیخ سلیم البشری المالکی شیخ الازھر تھے اور انہیں علماء مصر کا امام کہا جاتاتھا ان سے میری ملاقات مصر میں ہوئي الازھر میں ان کے درس میں کچھ دنوں تک شرکت کی ہم دونوں کے درمیان علمی رسائل کاتبادلہ ہوتارہتا تھا ان کے خطوط سے ان کے تقوی انصاف اور علمی اخلاقی اور ادبی لحاظ سے ان کی عظمت کا پتہ چلتا ہے ۔

دوسری شخصیت ہیں فقیہ و محدث محمد المعروف بہ شیخ بدالدین الدمشقی ہیں وہ دمشق میں شیخ الاسلام کے عھدے پرفائزتھے اور اپنے زمانے کے اعلم علماءمیں ان کا شمار ہوتاتھا تیرہ سو اڑتیس میں مجھے دمشق میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اسی سال رمضان المبارک میں،میں نے ان کے درس میں

شرکت کی ہمارے درمیان حسن و قبح عقلی ،امکان رویت خدا اور اس کے محال ہونے ،قرآن کا حدوث اور قدم جیسے مسائل پر بحث ومباحثہ جاری رہا ۔

تیسری شخصیت علامہ کبیر ومحدث شہیر شيخ محمد بن محمد عبداللہ الخانی الخالدی النقشبندی الشافعی کی ہے دمشق میں ان سے ملاقات ہوئي،بیروت اور دمشق میں ان سے بعض حدیثیں سننے کاموقع ملا ۔

علامہ شرف الدین فرماتے ہیں ان کے اساتذہ میں چوتھی شخصیت شیخ محمد المعروف بہ شیخ توفیق الایوبی الانصاری الدمشقی کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے کافی علمی استفادہ کیا۔

سید شرف الدین لکھتےہیں کہ ان کے ایک اور استاد کا نام شیخ محمد عبدالحی ابن الشیخ عبدالکبیر الکتانی الفاسی الادریسی ہیں سید لکھتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ہمارے درمیان علمی مباحثہ رہا جس کے بڑے فائدے حاصل ہوۓ ہم نے اصول فقہ کے ابواب پربحث کی جس سے ان کی علمی عظمت کااندازہ ہوتاہے ۔

علامہ سید شرف الدین لکھتے ہیں کہ ان کا مصر کا دورہ ایک فردی دورہ تھا اوراس کا مقصد شیعہ سنی علماء کو نزدیک لانا، انہیں اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے عقائد نظریات سے آگاہ کرکے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا اور سید شرف الدین اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے ۔

سید شرف الدین نے دورہ مصر میں المراجعات نامی مستدل کتاب لکھی جو امامیہ کےنزدیک اثبات امامت پر بے نظیر کتاب ہے اس کتاب میں ایک لفظ بھی حق و انصاف سے ہٹ کر نہیں ہے بلکہ باھمی احترام کے اصولوں پر کۓ جانے والے علمی مباحثوں کا بہترین نمونہ ہے ۔

امید کہ اسلامی مکاتب فکر اسی روش کو اپناتے ہوۓ ایک دوسرے کے بارے میں موجود غلط تصورات کا ازالہ کرکے اتحاد کا ثبوت پیش کریں کے کیونکہ آج یہی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

Read 1874 times

Add comment


Security code
Refresh