ہم ہر صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں: بقائی

Rate this item
(0 votes)
ہم ہر صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں: بقائی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمن ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک ARD سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یک طرفہ مطالبات پر اصرار کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران، سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ ملک کو ہر قسم کی جارحیت سے بچانے اور ہر ممکنہ صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا تو کیا آپ اس بات پر یقین کرتے ہیں؟ کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ ایران پر حملہ کرنا امریکیوں کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ اس لیے جب وہ کہتے ہیں کہ ہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاں، ہمارے پاس ایران کے خلاف ایک اور جارحانہ کارروائی کرنے کا منصوبہ ہے۔ لہذا پہلی بات تو یہ کہ ایرانی ان کی باتوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ دوسری بات یہ کہ ہمیں ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانیوں نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکیوں کی باتوں پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا اور ہمیں اپنے ملک کا پوری طاقت سے دفاع کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

بقائی نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران کسی معاہدے کے کتنے قریب یا کتنے دور ہے؟ کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارت کاری کا دروازہ بند کیا ہے تاہم اسی کے ساتھ ہی ہم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اپنے یک طرفہ مطالبات پر اڑا ہوا ہے اور یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ امریکی صدر اور اس ملک کے دیگر عہدیدار مسلسل ایک ہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں: "مکمل سرینڈر" اور کوئی بھی ایرانی اسے تسلیم نہیں کرے گا۔

آبنائے ہرمز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی تھی۔ پھر 28 فروری کو کیا ہوا؟ اس روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کے لیے اس آبی گزرگاہ کا ناجائز استعمال کیا۔ انھوں نے صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ خلیج فارس کے دوسری جانب واقع خلیجی ممالک کی سرزمین، علاقے اور فوجی سہولتوں کو بھی استعمال کیا۔ اس لیے ہمیں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ قانونی اقدام ہے۔ ایک ساحلی ملک کی حیثیت سے ہمیں نہ صرف مکمل حق حاصل تھا بلکہ یہ ہماری ذمہ داری بھی تھی کہ ہم ایران کی سرزمین کے خلاف مخالف فریقوں اور جارحین کی جانب سے پیدا کیے جانے والے سلامتی کے خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

انھوں نے مزید کہا: اس کے بعد ہم نے امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جسے دونوں فریقوں نے "اسلام آباد مفاہمتی نوٹ" کا نام دیا۔ ہم نے اتفاق کیا تھا کہ دو ماہ کے اندر آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنائی جائے گی لیکن تین ہفتے سے بھی کم عرصے میں امریکی دوبارہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔ انھوں نے کہا کہ جب امریکی صدر ترکی میں نیٹو کے اجلاس میں شریک تھے تو انھوں نے اچانک کہا کہ سب ختم ہوگیا اور پھر انھوں نے ہمارے شہروں اور بندرگاہوں پر حملے شروع کردیے۔

بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز محفوظ نہیں ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ ایران نے اسے غیر محفوظ بنایا ہے بلکہ اس لیے کہ امریکا اور اسرائیل نے اس آبی گزرگاہ کا ناجائز استعمال کیا۔ وہ اب بھی پورے خطے کو ایران کے خلاف فوجی جارحیت اور اپنے غیر قانونی اور جارحانہ رویے کو جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لہذا جب تک یہ صورتحال رہے گی، ہمارے پاس اپنی علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

Read 3 times