رہبر معظم انقلاب : سیدۃ النساء العالمین کی زندگی کا دقیق اور غور سے مطالعہ کرنا چاہیے

Rate this item
(0 votes)

رہبر معظم انقلاب : سیدۃ النساء العالمین کی زندگی کا دقیق اور غور سے مطالعہ کرنا چاہیے

۲۰۱۴/۰۴/۱۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کی سیکڑوں ممتاز اور دانشور خواتین کے ساتھ ملاقات میں خاندان اور عورت کے اہم مسئلہ کے پیش نظر صحیح اسٹراٹیجک کی تدوین کے لئے ایک اعلی مرکز تشکیل دینے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اس ہمہ گير اورقابل اجرا اسٹراٹیجک کے حصول کے لئے تین مسئلوں کی ضرورت ہے: خواتین کے امور میں مغرب کے غلط اور دقیانوسی خیالات کو مکمل طور پر نمونہ عمل بنانے سے پرہیز، اورخالص اسلامی معارف و متون پر اعتماد و تکیہ اور ایسے مسائل کی تشریح جو حقیقت میں عورتوں کے مسائل میں شمار ہوتے ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور بی بی دوعالم کی ولادت باسعادت ، یوم مادر اور ہفتہ خواتین کے باہمی تقارن کو بی بی دوعالم حضرت صدیقہ کبری فاطمہ زہرا (س) کی زندگی سے درس حاصل کرنے کے لئے غنیمت موقع قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم شباب میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے اعلی معنوی مقام اور ان کی معصومیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سیدۃ النساء العالمین کی زندگی کا دقیق اور غور سے مطالعہ کرنا چاہیے اور تقوی، عفت، طہارت، مجاہدت، شوہرداری ، اولاد کی تربیت ، سیاست فہمی جیسی ممتاز خصلتوں کو حقیقی معنی میں نمونہ عمل قراردینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ممتاز، پڑھی لکھی ، دانشور اور ماہر خواتین کی کثیر تعداد کو اللہ تعالی کی نعمات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے بڑے افتخارات میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی تاریخ میں یہ بے نظیر حقیقت در اصل اسلامی معارف ، اسلامی نکتہ نگاہ اور حضرت امام خمینی (رہ) کے مشکل کشا نظریات کا مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دفاع مقدس کے میدان میں ایرانی خواتین کی مستقل شخصیت اور ممتاز تشخص کو ایک اور تابناک نقطہ قراردیا اور شہیدوں و جانبازوں کی ماؤں اور ہمسروں کے شاندار صبر و استقامت کی تعریف اور تجلیل کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمعاشرے کے لئے مختلف جہات سے عورت کے مسئلہ کو غور و فکر اور ریسرچ و تحقیق کے قابل قراردیا اور اس سلسلے میں تین اہم جہات کی طرف اشارہ کیا:

اول: عورتوں کی عظیم ظرفیت سے کیسے صحیح و سالم صورت میں استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

دوم: انسان کی سربلندی و تعالی ، نہ زوال کے لئے کیسے جنسیت کے حساس اور ظریف مسئلہ سے استفادہ ممکن ہوسکتاہے؟

سوم: عورت اور مرد کے درمیان قدرتی تفاوتوں کے پیش نظر معاشرے میں کون سی رفتار نافذ کی جائے جس کے ذریعہ سماج اور خاندان میں عورت پر ظلم و ستم کو روکا جاسکے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں عورت اور خاندان کو دو ناقابل تفکیک مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: جو شخص نے بھی عورت کے مسئلہ کا خاندان کے مسئلہ سےالگ جائزہ لینے کی کوشش کرےگا تو وہ اس مسئلہ کو سمجھنے اور اس کا علاج کرنے میں مشکل سے دوچار ہوجائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عورت اور خاندان کے مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں سوالات کے جوابات کے لئےایک تحقیقی مرکز کی تشکیل کو لازمی قراردیتے ہوئے فرمایا: اس مرکز کو چاہیے کہ وہ عورت کے بارے میں ہمہ گير اور اسٹراٹیجک منصوبہ تدوین کرے اور ضروری اقدامات کے ذریعہ اس کو عملی جامہ پہنانے کی تلاش و کوشش کرے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہر مرکز اور ادارے میں اس اسٹراٹیجک منصوبہ کی تدوین اور عورت کے موضوع پر بحث کرنے کے سلسلے میں اصلی شرائط پر پابند رہنے کو اہم قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب : سیدۃ النساء العالمین کی زندگی کا دقیق اور غور سے مطالعہ کرنا چاہیے

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شرائط کی تشریح میں سب سے پہلے عورت کے بارے میں مغربی محصولات سے مکمل طور پر دور رہنے کی تاکید فرمائی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مختلف دلائل کی بنا پر مغرب والے عورت کے مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے ہیں اور انھوں نے اپنے انہی غلط اور تباہ کن خیالات کو دنیا میں سکہ کے طور پر رائج کردیا ہے اور عوام فریبی و مکاری کے ساتھ وہ دوسروں کو اس سلسلے میں بات بھی نہیں کرنے دیتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ عورت کے مختلف پہلوؤں کےبارے میں مغرب والوں کے نظریے کے بارے میں آگاہ رہنا چاہیے لیکن عورت کے بارے میں مغرب کی منحرف اور غلط فکر کو نمونہ عمل نہیں بنانا چاہیے اور ذہن کو اس خائنانہ بظاہر دلسوزانہ اور قدیم بظاہر جدید فکر سے خالی کرنا چاہیےکیونکہ مغربی افکار معاشرے کی سعادت اور ہدایت کا باعث نہیں بن سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا پر مادی اور غیر الہی نگاہ کو عورت کے بارے میں مغربی افکار کے انحراف کا اصلی باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اقتصادی مسائل منجملہ روزگار کے مسائل میں عورتوں پر کاروباری نگاہ ، عورتوں کی تحقیر اور انھیں مردوں کی شہوترانی کا وسیلہ قراردینا مغربی افکار کے دیگر اصول ہیں جنھوں نے عورت کے بارے میں مغربی نظریہ کو مکمل طور پر ظالمانہ بنادیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عورتوں کے بارے میں مغرب میں شائع ہونے والی کتابوں اور مقالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نگاہ عورت کے بارے میں صحیح و سالم ، منطقی اور راہ گشا ہو تو پھر ہمیں عورت کے روزگار اور جنسیت کے مساوی ہونے کے بارے میں مغرب کے غلط نظریات سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مرد و عورت کی جنسیت کے برابر ہونے کو مغرب کا غلط نظریہ قراردیتے ہوئے فرمایا: برابری ہمیشہ عدالت و انصاف کے معنی میں نہیں ہے عدالت و انصاف ہمیشہ حق ہے، لیکن برابری کبھی حق اور کبھی باطل ہوتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ عورتوں کو اللہ تعالی نے جسمی اور عاطفی لحاظ سے زندگی کے مخصوص مرحلے کے لئے پیدا کیا ہے کون سی منطق ہے جس کے تحت عورتوں کو ایسے میدان میں وارد کیا جائےجہاں انھیں سختی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عورت کے مسئلہ پر اسلام کی انسانی نگاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بہت سے مسائل منجملہ معنوی ترقی کے مقامات کے حصول میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لیکن قالب متفاوت ہیں، اور اس حقیقت کے پیش نظر دوسرے مشترکہ میدانوں میں بھی منطقی طور پر تفاوت موجود ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بہت سے عالمی کنونشنز کے بنیادی فکری ڈھانچے پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک کا ان غلط بنیادوں پر اصرار انسانی معاشرے کو تباہ کردےگا اور اسی وجہ سے صحیح اور متوازن نگاہ کے حصول کے لئے مغربی اصولوں سے بچنا ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عورت کے مسئلہ میں صحیح اسٹراٹیجک کی دوسری شرط کی تشریح کرتے ہوئے اسلامی متون اور معارف پر تکیہ و اعتماد کو ضروری قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دین کے نام پر عورت کے بارے میں بیان کی جانے والی ہر چیز کو قبول نہیں کرنا چاہیے لیکن ایسے اصول جنھیں قرآن و حدیث کی روشنی میں بزرگ شخصیات نے استنباط کیا ہے ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرعی اور جانبی مسائل سے دوری اور اصلی مسائل بیان کرنے پر توجہ کو عورتوں کے مسئلہ میں تیسری صحیح شرط قراردیتے ہوئے فرمایا: خاندان میں عورت کی صحت و سلامتی اور آرام و سکون بہت ہی اہم اور اصلی مسئلہ ہے جس پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: خاندان میں عورت کے آرام و سکون کو سلب کرنے والے عوامل کی تلاش و جستجو کرنی چاہیے اور مختلف طریقوں منجملہ تبلیغ اور قانون کے ذریعہ ایسے سلبی عوامل کو برطرف کرناچاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جدید و قدیم ماحول میں عورت کو خدمت گزار اور دوسرے درجہ کی موجود قراردینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: عورت کے متعلق یہ مسئلہ اسلام کی مترقی فقہ کے بالکل خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: افسوس ہے کہ بعض لوگ بعض چیزیں اسلام سے لیتے ہیں اور مغربیوں کو خوش کرنے کے لئے بعض مسائل مغرب کے بھی اس کے ساتھ اضافہ کرتے ہیں حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور قابل قبول نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تحصیل علم،رشد و ترقی و پیشرفت کو عورت کے لئے ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض نظریات کے برخلاف عورتوں کی ملازمت عورتوں کے اصلی مسائل میں نہیں ہے البتہ جب تک خاندان اور اولاد کی تربیت کے اصلی مسائل کےساتھ ملازمت میں کوئي منافات نہ ہو تب تک ملازمت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یونیورسٹیوں میں عورتوں کےبعض تحصیلی مضامین کے بارے میں بیان شدہ مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر اس مسئلہ میں تفاوت بھی ہو تو یہ انصاف کے خلاف نہیں ہے کیونکہ عورتوں پر ایسے مضامین اور ملازمتوں کو مسلط نہیں کرنا چاہیے جو ان کے بدن کی قدرتی ساخت اور طبیعت کے خلاف ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر عورتیں بعض عہدے اور ملازمتیں نہ لیں تو یہ ان کے لئے کوئی ننگ و عار اور نقص و عیب نہیں ہے بلکہ وہ چیز غلط ہے جو عورت کی الہی طبیعت کے مطابق اور مناسب نہ ہو۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر عورتوں کے صحیح مسائل کی تلاش و کوشش کے سلسلے میں ممتاز ، فہمیدہ اور ماہر خواتین کو بہترین افراد قراردیا اور انھیں عورتوں کے مسائل کی تلاش و جستجو کرنے کی دعوت دی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل عورتوں اور خاندان کے امور میں صدر کی مشیر محترمہ مولا وردی نے عورتوں سے متعلق مسائل کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: ایران علاقائی سطح پر عورتوں کی سماجی شراکت کے لحاظ سے بہت اچھی سطح پر ہے اور عورتیں سال کے نعرے" قومی عزم و جہادی مدیریت کے ساتھ اقتصاد و ثقافت کا سال " کو عملی جامہ پہنانے میں مؤثر اور بے نظیر کردار ادا کرسکتی ہیں۔

Read 1187 times

Add comment


Security code
Refresh