کیا امریکہ، اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے؟

Rate this item
(0 votes)
کیا امریکہ، اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے؟

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک، محمد اکمل خان؛ جنگوں میں پہلا نشانہ اکثر فوجی تنصیبات نہیں بلکہ سچ بنتا ہے۔ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حالیہ حملے کے بعد بھی یہی ہوا ہے۔ 19 مارچ 2026 کواسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ تاثر دیا کہ کارروائی گویا اسرائیل نے اپنے طور پر کی، جبکہ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے رہے کہ انہوں نے اسرائیل کو آئندہ ایسے حملوں سے روک دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملہ واقعی اکیلے کیا گیا تھا تو پھر اسے فوراً امریکی رضامندی، ناراضی یا ہدایت کے ساتھ نتھی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

 کیا اسرائیل نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ امریکہ کو لاعلم رکھ کر کیا؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود امریکہ کی کڑی نگرانی میں ہے۔ امریکی فضائی ڈھانچے کا مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز، یعنی مشترکہ فضائی کارروائیوں کا مرکز (Combined Air Operations Center)، خطے میں فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، نگرانی، رابطہ کاری اور تصادم سے بچاؤ کا بنیادی نظام ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق یہی مرکز لمحہ بہ لمحہ جنگی طیاروں کی پروازوں، حملہ آور مشنوں، فضائی ایندھن رسانی اور دوسری اہم کارروائیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ مان لینا کہ دنیا کی سب سے بڑی اورحساس ترین گیس فیلڈزمیں سے ایک پر بڑا حملہ امریکی علم کے بغیر ہو گیا، ایک سفید جھوٹ محسوس ہوتا ہے۔

مغربی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ بھی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ اسرائیلی اہلکاروں نے خود کہا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بارے میں امریکہ کو پہلے سے علم تھا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر مسئلہ صرف حملے کا نہیں رہتا، بلکہ حملے کے بعد ذمہ داری سے بچنے کے لیے بیانیہ گھڑنے کا بن جاتا ہے۔ گویا کارروائی کےلئے ہدف مشترک ہو سکتاہے، مگر اعتراف کو اس حملے کے ممکنہ سنگین رد عمل کو دیکھتے ہوئے ایک بہت معمولی سے بات

ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو جیسے یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔

اگر امریکہ ایرانی گیس فیلڈز پر حملوں کے حوالے سے لاعلم نہیں تھا تو اس نے لاتعلقی کا تاثر کیوں دیا گیا؟

اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جدید جنگ میں صرف حملہ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، اس کے ردعمل کا بغور جائزہ لے کر اس سنگین اقدام کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر بھی تھونپا جا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اسرائیل کی عسکری خودمختاری کا تاثر قائم رکھیں۔ ٹرمپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ جب حملے کے اثرات خلیج کی توانائی پٹی اور عالمی منڈیوں تک پہنچنے لگیں تو ذمہ داری تل ابیب کے کھاتے میں ڈال دی جائے۔ اسی لیے ایک طرف “ہم نے اکیلے حملہ کیا” کا دعویٰ سامنے آیا، دوسری طرف یہ پیغام بھی دیا گیا کہ امریکی صدر کی مداخلت کی وجہ سے مزید ایسے حملے نہیں ہوں گے۔ جب تک کارروائی دباؤ کا ہتھیار تھی، خاموشی اختیار کی گئی؛ جب اس کے معاشی اور سفارتی اثرات پھیلنے لگے تو ایک فریق نے اس حملے کو ایک معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ بیانیے کا یہ تضاد صرف جنوبی پارس حملے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جنگ کے اصل جواز تک جا پہنچتا ہے

کیا امریکہ کو ایران سے واقعی “فوری جوہری حملے کا خطرہ” تھا؟

ایران سے” فوری جوہری حملے کے خطرہ“(Imminent Nuclear Threat) کے حوالے سے 18 مارچ 2026 کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی عالمی خطرات کی سماعت (Worldwide Threats Hearing) کے دوران سینیٹر جان اوسوف نے ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ سے پوچھا کہ کیا واقعی ایران کی طرف سے ایسا فوری جوہری حملے کاخطرہ موجود تھا جس کی بنیاد پر جنگ کو جائز قرار دیا جا سکے۔ اوسوف کے دفتر کے جاری کردہ متن کے مطابق گبارڈ نے واضح ہاں یا ناں کے بجائے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوری خطرے کا تعین صرف امریکی صدر کرتا ہے۔ اوسوف نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ یہی تو انٹیلیجنس قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس کو بروقت، معروضی اور غیر سیاسی انداز میں بتائے کہ خطرہ کیا ہے۔

بعد کی رپورٹنگ میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ گبارڈ نے اپنی تحریری گواہی کے اس حصے کو زبانی بیان کا حصہ نہیں بنایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر ایسا تھا تو پھر فوری خطرہ کہاں تھا؟ اگر خطرہ فوری نہیں تھا تو جنگ کس بنیاد پر شروع کی گئی؟ جب سوال سیدھا تھا تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کیوں کی گئی؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں اس ایران جنگ کا مقدمہ صریحاًً جھوٹ پر مبنی دکھائی دینے لگتا ہے۔

جب جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو باقی کیا بچتا ہے؟

اگر جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو پھر بعد کے تمام دعوے بھی خود بخود سوال کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ صرف حملے کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑتی ہے، بلکہ اس کے سیاسی، قانونی اور سفارتی جواز بھی دم توڑنے لگتے ہیں۔ پھر مسئلہ صرف ایک کارروائی کا نہیں رہتا، بلکہ پورا بیانیہ ہی جھوٹ پر مبنی ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور جب جنگ کا جواز ہی غلط ہو، تو پھر اس کے نتائج بھی صرف فوجی دائرے تک محدود نہیں رہتے۔ جنوبی پارس پر حملہ اسی بڑے توانائی کے بحران کی ایک مثال بن گیا۔

کیا جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ صرف ایران کے خلاف تھا، یا اس کا نشانہ پوری خلیجی توانائی پٹی تھی؟

جنوبی پارس اور عسلویہ پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے توانائی کےڈھانچے کو نشانہ بنایا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ردعمل نے خلیج بھر میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا دیا، اور راس لفان جیسے مراکز، جو عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت میں اہم کردار رکھتے ہیں، براہِ راست تباہی کی زد میں آ گئے۔ یوں جنوبی پارس پر حملہ محض ایک محدود عسکری کارروائی نہ رہا، بلکہ پوری خلیجی توانائی پٹی کو آگ کے دہانے پر لے جانے والا اقدام بن گیا۔

یوں نیتن یاہو کے ایک جنگی فیصلے نے صرف ایران کو نہیں، بلکہ قطر، کویت، سعودی عرب اور امارات جیسے امریکی اتحادیوں کی توانائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ٹرمپ کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ ذمہ داری نیتن یاہو پر ڈالنے کی کوشش کریں، کیونکہ اب معاملہ صرف ایران کا نہیں رہا تھا؛ خلیجی اتحادیوں کا اعتماد، عالمی توانائی رسد اور امریکی معیشت کے اندر مہنگائی کا دباؤ بھی اس میں شامل ہو چکا تھا۔

کیا اس جنگ کا محاذ صرف فوجی ہے یا معاشی میدان بھی اس کے نشانے پر ہے؟

جنگ کا محاذ اب واضح طور پر معاشی دنیا پر بھی اثر انداز ہو رہاہے۔ ایران کی جانب سے جنگ اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے نتیجے میں دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد کو شدید دھچکا لگا ہے، تقریباً 400 ملین بیرل رسد مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہے، عالمی تیل قیمتیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھیں، عالمی سطح پر تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلاگیا، اور مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہونے والے بعض خام تیل کے درجوں کی قیمت 164 ڈالر تک پہنچی۔ یورپی گیس منڈی میں قیمتیں بھی تقریباً 35 فیصد بڑھ گئیں۔

آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری راستہ نہیں، عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے میں خلل کا مطلب صرف پٹرول مہنگا ہونا نہیں، بلکہ بیمہ، جہاز رانی، صنعتی خام مال، ٹرانسپورٹ اور صارفین کی لاگت میں ہمہ گیر اضافہ بھی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والا بحران صرف خلیج کا بحران نہیں رہا، بلکہ عالمی معیشت پر براہِ راست حملہ بن گیا ہے۔

کیا توانائی کا بحران زراعت اور خوراک تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ِ

اس سوال کا جواب بھی افسوس ناک حد تک واضح ہے۔ خلیجی خطہ کھاد سازی اور اس کی ترسیل دونوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ آبنائے ہرمز سے کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، اور جنگ کے باعث بعض کھادوں کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافے ہو چکا ہے امریکہ میں کھاد کی قیمتیں مارچ کے آغاز میں 516 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر 683 ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل اور گیس مہنگی ہوں گی تو صرف پٹرول اور بجلی ہی مہنگی نہیں ہوگی، بلکہ یوریا، امونیا اور دوسری کھادیں بھی مہنگی ہوں گی۔ کھاد مہنگی ہوگی تو کاشت کی لاگت بڑھے گی۔ لاگت بڑھے گی تو غذائی پیداوار دباؤ میں آئے گی۔ اگر کسان کھاد کم استعمال کرنے پر مجبور ہوئے تو پیداوار گر سکتی ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر دنیا اٹھائے گی۔ یوں جنوبی پارس پر حملے کی آگ صرف خلیج میں نہیں، دنیا کے کھیتوں اور باورچی خانوں تک پہنچ سکتی ہے۔

ایران جنگ کے حوالے سے زمینی حقائق کیا ہیں؟

اس ایران جنگ کی قیمت صرف منڈیوں اور خوراک تک محدود نہیں۔ میدانِ جنگ میں بھی ایسے حقائق سامنے آ رہے ہیں جن سے امریکی اور اسرائیلی دعووں کے برعکس زمینی حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ 21 اور 22 مارچ 2026 کی درمیانی رات ایرانی میزائل حملوں نے ڈیمونا اور عراد میں قیامت ڈھا دی۔ جنوبی اسرائیل کے ان شہروں پر ایرانی میزائل حملوں میں6 شہری ہلاک اور سو سے زائد شہری زخمی ہوئے ، اور اسرائیلی فوج نے خود تسلیم کیا کہ اس کا فضائی دفاع حملہ روکنے میں ناکام رہا۔اس حملے میں میزائل اسرائیلی جوہری مرکز کے طور پر معروف شہر ڈیمونا کے قریب حساس تنصیبات تک جا پہنچے۔

جب کسی ریاست کے شہری ہر وقت خطرے کے سائرن سن کر زیرِ زمین پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے پر مجبور ہوں، جب حساس شہروں تک میزائل پہنچ رہے ہوں، اور جب میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا نظام حملے نہ روک پا رہا ہو، تو اسےمکمل فتح نہیں کہا جا سکتا۔ یہ زیادہ سے زیادہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اعتراف ہو سکتا ہے، چاہے وہ اعتراف زبان سے نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ اسرائیل کے اندر نقصانات اور خوف کی مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آنے دی جا رہی، جس سے سرکاری دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اور نمایاں ہو جاتا ہے۔

امریکی بیانیے میں بھی یہی احتیاط دکھائی دی۔ سعودی عرب میں امریکی طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو محدود ظاہر کیا گیا، جبکہ ایف-35 کے واقعے پر بھی مکمل وضاحت سے گریز کیا گیا کہ یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل یہ جہاز ایرانی دفاعی نظام نے کیسے کامیابی سے نشانہ بنا لیا۔ سعودی عرب کے شہر ریاض میں نشانہ بننے والے پانچ طیاروں کے لیے یہ جواز بھی سامنے آیا کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو غیر ضروری صدمے سے بچانے کی وجہ سے ابتدائی طور پر نقصان کو کم بتایا گیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اہلِ خانہ کو حوصلہ دینے کے لئے نقصان کم بتایا گیا یا عوام سے اس لاحاصل جنگ کی اصل قیمت چھپائی جا رہی ہے؟

اگر امریکہ اور اسرائیل جنگ جیت چکے ہیں تو پھر ان کی قیادت کے بیانات میں تضاد اور بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟

جب جنگ کا دائرہ توانائی، کھاد اور عالمی منڈیوں تک پھیل جائے، اور زمینی سطح پر میزائل ڈیمونا اور عراد تک پہنچنے لگیں، تو اس کا اثر بیانیے کے لئے گھڑی گئی سیاسی زبان پر بھی پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لہجوں میں فتح سے زیادہ بے چینی محسوس ہونے لگی ہے۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کی میزائل یا جوہری صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچا دیا گیا ہے، دوسری طرف زمینی حقائق اور معاشی جھٹکے بتاتے ہیں کہ جنگ نہ سمٹی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج قابو میں ہیں۔ ایسے میں اگر “کامیابی” کا بیانیہ زیادہ زور سے سنائی دے رہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ راہِ فرار کو فتح کے پردے میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔

یہی تضاد ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ 17 مارچ کو وہ کہہ رہے تھے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی جنگی کارروائی ” بہت جلد “ ختم کر دے گا۔ 20 مارچ تک امریکی اہداف اور جواز بدلتی زبان میں بیان ہو رہے تھے۔ پھر 22 مارچ کو امریکی صدر ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دے کر آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں کو “تباہ” (obliterate) کرنے کی دھمکی دینے لگے۔ اگر فتح واقعی قریب تھی تو پھر اس نئے حملے کی بات کیوں؟ یہ زبان فتح کی نہیں، بے چینی، دباؤ اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کی زبان ہے۔

کیاڈونلڈ ٹرمپ اب فتح نہیں، راہِ فرار تلاش کر رہےہیں؟

آخر میں سوال یہی بچتا ہے کہاگر واقعی سب کچھ قابو میں ہے، اگر واقعی اہداف حاصل ہو چکے ہیں، اور اگر واقعی ایران کو شکست ہو چکی ہے، تو پھر واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لہجوں میں یہ بے چینی کیوں ہے؟ جواب شاید یہ ہے کہ جنگ کو شروع کرنا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، سمیٹنا نہیں۔ اسی لیے اب راہِ فرار کو فتح، سیاسی ہچکچاہٹ کو حکمت، اور بڑھتے ہوئے نقصان کو وقتی بحران بنا کر بیچا جا رہا ہے اور ایرانی قوم کے ساتھ لڑائی میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کی فتح قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Read 173 times