قربانى كرنا

Rate this item
(0 votes)

تحریر: حضرت آيت اللہ العظمى سيد على خامنہ اى (دام ظلہ الوارف)

يہ حج كے واجبات ميں سے پانچواں اورمنى كے اعمال ميں سے دوسرا عمل ہے

مسئلہ 343_ حج تمتع كرنے والے پر قربانى كرنا واجب ہے اور قربانى تين جانوروں ميں سے ايك ہوگى اونٹ ، گائے اور بھيڑ بكرى اور ان جانوروں ميں مذكر اور مونث كے درميان فرق نہيں ہے اور اونٹ افضل ہے اور مذكورہ جانوروں كے علاوہ ديگر حيوانات كافى نہيں ہيں_

مسئلہ 344_ قربانى ايك عبادت ہے كہ جس ميں ان تمام شرائط كے ساتھ نيت شرط ہے كہ جو احرام كى نيت ميں گزر چكى ہيں_

مسئلہ 345_ قربانى ميں چند چيزيں شرط ہيں :

اول: سن: اونٹ ميں معتبر ہے كہ وہ چھٹے سال ميں داخل ہو اور گائے ميں معتبر ہے كہ وہ تيسرے سال ميں داخل ہو احوط وجوبى كى بنا پر_ اور بكرى گائے كى طرح ہے ليكن بھيڑ ميں معتبر ہے كہ وہ دوسرے سال ميں داخل ہو احوط وجوبى كى بنا پر _مذكورہ حد بندى چھوٹا ہونے كى جہت سے ہے پس اس سے كمتر كافى نہيں ہے ليكن بڑا ہونے كى جہت سے تو مذكورہ حيوانات ميں سے بڑى عمر والا بھى كافى ہے _

دوم : صحيح و سالم ہونا

سوم: يہ كہ بہت دبلا نہ ہو

چہارم: يہ كہ اسكے اعضا پورے ہوں پس ناقص كافى نہيں ہے جيسے خصى اور يہ وہ ہے كہ جسكے بيضے نكال ديئےجائيں ہاں جسكے بيضے كوٹ ديئے جائيں وہ كافى ہے مگر يہ كہ خصى كى حد كو پہنچ جائے _ اور دم كٹا ، كانا ، لنگڑا ، كان كٹا اور جس كا اندر كا سينگ ٹوٹا ہوا ہو وہ كافى نہيں ہے _ اسى طرح اگر پيدائشى طور پر ايسا ہو تو بھى كافى نہيں ہے پس وہ حيوان كافى نہيں ہے كہ جس ميں ايسا عضو نہ ہو جو اس صنف كے جانوروں ميں عام طور پر ہوتا ہے اس طرح كے اسے اس ميں نقص شمار كيا جائے _

ہاں جس كا باہر كا سينگ ٹوٹا ہوا ہو وہ كافى ہے ( باہر كا سينگ اندر والے سينگ كے غلاف كے طور پر ہوتا ہے ) اور جسكا كان پھٹا ہوا ہو يا اسكے كان ميں سوراخ ہو اس ميں كوئي حرج نہيں ہے _

مسئلہ 346_ اگر ايك جانور كو صحيح و سالم سمجھتے ہوئے ذبح كرے پھر اس كے مريض يا ناقص ہونے كا انكشاف ہو تو قدرت كى صورت ميں دوسرى قربانى كو ذبح كرنا واجب ہے _

مسئلہ 347_ احوط يہ ہے كہ قربانى جمرہ عقبہ كو كنكرياں مارنے سے مؤخر ہو _

مسئلہ 348_ احوط وجوبى يہ ہے كہ اپنے اختيار كے ساتھ قربانى كو روز عيد سے مؤخر نہ كرے پس اگر جان بوجھ كر ، بھول كر يا لاعلمى كى وجہ سے كسى عذر كى خاطر يا بغير عذر كے مؤخر كرے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر ممكن ہو اسے ايام تشريق ميں ذبح كرے ورنہ ذى الحج كے ديگر دنوں ميں ذبح كرے اور اس ميں رات اور دن كے درميان فرق نہيں ہے ظاہر كى بنا پر _

مسئلہ 349_ ذبح كرنے كى جگہ منى ہے پس اگر منى ميں ذبح كرنا ممنوع ہو تو اس وقت ذبح كرنے كيلئے جو جگہ تيار كى گئي ہے اس ميں ذبح كرنا كافى ہے _

مسئلہ 350_ احوط وجوبى يہ ہے كہ ذبح كرنے والا مؤمن ہو ہاں اگر واجب كى نيت خود كرے اور نائب كو صرف رگيں كاٹنے كيلئے وكيل بنائے تو ايمان كى شرط كا نہ ہونا بعيد نہيں ہے _

مسئلہ 351_ شرط ہے كہ خود ذبح كرے يا اس كى طرف سے وكيل ذبح كرے ليكن اگر كوئي اور شخص اس كى طرف سے ذبح كرے بغير اس كے كہ اس نے پہلے سے اسے وكيل بنايا ہو تو يہ محل اشكال ہے پس احوط يہ ہے كہ يہ كافى نہيں ہے _

مسئلہ 352_ ذبح كرنے كے آلے ميں شرط ہے كہ وہ لوہے كا ہو اور سٹيل ( يہ فولاد ہوتا ہے كہ جسے ايك ايسے مادہ كے ساتھ ملايا جاتا ہے جسے زنگ نہيں لگتا ) لوہے كے حكم ميں ہے _

ليكن اگر شك ہو كہ يہ آلہ لوہے كا ہے يا نہيں تو جب تك معلوم نہ ہو كہ يہ لوہے كا ہے اسكے ساتھ ذبح كرنا كافى نہيں ہے _

Read 1391 times

Add comment


Security code
Refresh