جناب جویریہ کی سیرت

Rate this item
(0 votes)

غزوہ بنی المصطلق:

سنہ ۶ھجری، شعبان کے مہینہ میں، مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار، مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے اسلحہ اور جنگجوافراد جمع کر رہا ہے- پیغمبر اسلام {ص} نے اس خبر کو سننے کے بعد انھیں اپنی ہی سر زمین پر کچل کے رکھ دینے کا فیصلہ کیا، اس لئے رسول خدا {ص} اسلام کے لشکر کے ساتھ ان کی طرف روانہ ھوئے اور " قدیہ" کے اطراف میں " مریسیع" کے مقام پر ان کے علاقہ کے ایک چشمہ کے پاس ان سے متصادم ھوئے- سب سے پہلے آنحضرت {ص} نے انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینے کا حکم دیا، لیکن انھوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا - اس لئے جنگ چھڑ گئی- اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح و نصرت حاصل ھوئی اور بہت سارا مال اور اسراء مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ آگئے- اس جنگ کا مال غنیمت دوہزار اونٹوں، پانچ ہزار بھیڑ بکریوں اور اسراء کے عنوان سے دوسو گھرانوں پر مشتمل تھا-

اسیروں میں قبیلہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی بھی تھی- ان کے باپ کا پورا نام حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عابد بن مالک بن المصطلق بن سعید بن عمرو بن ربیعہ بن حارثہ بن خراعہ تھا-

جنگ چھڑنے کا سبب:

قبیلہ بنی المصطلق، مدینہ منورہ سے پانچ پڑاو کی دوری پر ساکن تھے- انھوں نے دوسرے عرب قبائل کی مدد سے ایک لشکر آمادہ کیا تھا، تاکہ بے خبری میں مدینہ پر حملہ کریں- پیغمبر اسلام {ص} اس موضوع کے بارے میں مطلع ھوئے اور " برید" نامی ایک شخص کو مزید تحقیق کے لئے مذکورہ قبیلہ کی سرزمین کی طرف روانہ کیا- اس شخص نے بھیس بدل کر مذکورہ قبیلہ کے سردار سے رابطہ بر قرار کیا اور حالات سے آگاہ ھوا- اس کے بعد مدینہ لوٹ کر آنحضرت {ص} کے سامنے اس رپورٹ کی تائید کی- اس نے پیغمبر اسلام {ص} کے لئے ایک مفید اطلاع لائی تھی- اس کے مقابلے میں قبیلہ بنی المصطلق کے جاسوس مسلمانوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور اس طرح وہ مسلمانوں کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع حاصل نہ کرسکے- پیغمبر اسلام {ص} نے پیش قدم ھوتے ھوئے تاخیر کئے بغیر ان پر حملہ کیا- مسلمانوں کی جاں نثاری اور عرب قبائل کے دلوں میں مسلمانوں کے بارے میں پیدا ھوا رعب و دبدبہ اس امر کا سبب بنا کہ ایک مختصر جنگ کے بعد دشمن کے دس افراد قتل ہونے کے مقابلے میں مسلمانوں کے صرف ایک سپاہی کے شہید ھونے کے بعد دشمن کا لشکر تتر بتر ھوگیا اور ان کی شکست و ناکامی کے بعد اس جنگ میں مسلمانوں کو کافی مال، غنیمت کے طور پر ملا اور دشمن کی عورتیں اسیر ھوئیں-

مسلمانوں کی جنگ کے دلائل:

سنہ ۶ھجری میں مسلمانوں کی فوجی طاقت نمایاں اور قابل توجہ تھی، یہاں تک کہ مسلمانوں کی مخصوص فوجی ٹولیاں آسانی کے ساتھ مکہ کے قریب جاکر لوٹ سکتی تھیں، لیکن مسلمانوں کی یہ فوجی طاقت مختلف قبائل کی سرزمینوں کو فتح کرنے اور ان کے اموال پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں تھی- اگر مشرکین مسلمانوں کی آزادی کو سلب نہ کرتے اور تبلیغ کے لئے ماحول کو آزاد رکھتے، تو پیغمبر اسلام {ص} ہرگز تلوار ہاتھ میں نہیں لیتے، لیکن چونکہ مسلمانوں اور ان کے تبلیغی گروھوں کو دشمن کی طرف سے ہمیشہ خطرہ لاحق تھا، اس لئے پیغمبر اسلام {ص} عقل کے حکم سے مجبور تھے تاکہ مسلمانوں کے دفاعی لشکر کو تقویت بخشیں-

ھجرت کے چھٹے سال، بلکہ پیغمبر اسلام {ص} کی زندگی کے آخری ایام تک ان جنگوں کے واقع ھونے کے حقیقی عوامل، مندرجہ ذیل امور میں سے تھے:

الف} مشرکوں کے بزدلانہ حملوں کا جواب دینا، جیسے: جنگ بدر، جنگ احد، اور جنگ خندق-

ب} ظالموں کو تنبیہ کرنا، جو مسلمانوں یا ان کے تبلیغی گروہوں کے خلاف بیابانوں میں حملہ کرتے تھے، یا عہد شکنی کرکے اسلام کے لئے خطرہ بن چکے تھے، جیسے: یہودیوں کے تین قبیلوں اور بنی الحیان سے جنگ-

ج} مختلف قبائل کے اسلحہ و جنگجوجمع کرکے مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنانا-

جناب جویریہ:

جناب جویریہ{ ماضی میں ۶۷۰ یا ۶۷۷ء میں} قبیلہ خزاعہ کے رئیس کی بیٹی تھیں- جناب جویریہ کا باپ حارس، قبیلہ بنی مصطلق کا رئیس تھا- مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شکست کھانے کے بعد اس کا مال مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا اور ان کے زن و مرد اسیر بن گئے- ان اسیروں میں حارث کی بیٹی " برہ" بھی تھیں کہ بعد میں ان کا نام " جویریہ" رکھا گیا- وہ نافع بن صفوان کی بیوی تھیں، جو ان کا چچیرا بھائی تھا اور اس جنگ کے مقتولین میں شامل تھا-

مال غنیمت تقسیم کرنے کے دوان، جناب " جویریہ" ثابت بن قیس انصاری اوران کے چچیرے بھائی کے حصہ میں آگئیں- انھوں نے ان سے یہ طے کیا کہ وہ سات مثقال سونا ادا کرکے آزاد ھوسکتی ہیں- اس زمانہ میں اسراء فدیہ ادا کرکے آزاد ھوسکتے تھے-

ثابت بن قیس انصاری نے " برہ" کے لئے معمول سے چند گناہ زیادہ فدیہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا- چونکہ وہ اس قدر فدیہ ادا نہیں کرسکتی تھیں، اس لئے مدد کی درخواست کرنے کے لئے حضرت علی {ع} کے توسط سے پیغمبر اسلام {ص} کی خدمت میں حاضر ھوئیں-

کچھ واقعات رونما ھونے کے پیش نظر، کہ بعد میں بیان کئے جائیں گے، سر انجام پیغمبر اسلام {ص} نے باغیوں کے سردار کی بیٹی کے ساتھ ازدواج کی اور اس ازدواج کے نتیجہ میں پیغمبر اسلام {ص} اور اس قبیلہ کے درمیان اٹوٹ انگ پیدا ھوا اور بہت سی عورتیں جو اسیر ھوئی تھیں، اس رشتہ کی وجہ سے قید و شرط کے بغیر آزاد ھوئیں- اس ازدواج کی برکتوں میں سے ایک سو اسیر عورتوں کی آزادی بھی تھی-

جناب عائشہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے فرمایا ہے:" میں کسی ایسی عورت کو نہیں پہنچاتی ھوں، جو " جویریہ" کے مانند اپنے قبیلہ کے لئے بابرکت ھو"- قبیلہ بنی مصطلق نے ایمان لایا اور الہی نعمتوں سے مالامال ھوگئے اور جناب جویریہ رسول اللہ {ص} کے گھر گئیں- ان کا گھر امہات المومنین جناب ام سلمہ، جناب عائشہ اور جناب حفصہ کے گھر کے قریب تھا-

مورخین کی روایت:

ام المومنین جناب جویریہ کے اسیر ھونے اور پیغمبر اسلام {ص}کی خدمت میں آنے تک مورخین اور سیرت لکھنے والوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے اور سب اس قول میں متفق ہیں اور اس واقعہ کے رونما ھونے کے بارے میں سبوں نے اشارہ کیا ہے-

واقعہ کی کیفیت:

آنحضرت {ص} نے جناب جویریہ کو اپنے لئے منتخب کیا اور اسراء اور غنائم کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے بعد مدینہ لوٹے- کچھ مدت بعد، جناب جویریہ کے باپ " حارث" اپنی بیٹی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے کئی اونٹوں کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ھوا- راستے میں ان انٹوں میں سے دو انٹوں کے بارے میں اسے لالچ پیدا ھوئی، اس لئے ان دو اونٹوں کواس نے علاقہ عقیق میں چھپا کے رکھ دیا- اور باقی اونٹوں کو لے کر رسول خدا {ص} کی خدمت میں پہنچا اور اونٹوں کو فدیہ کے طور پر پیش کرنے کے بعد اپنی بیٹی کی رہائی کی درخواست کرتے ھوئے کہا:" یا رسول اللہ {ص}؛ میری بیٹی کو اسیر بنا کے نہ رکھئے کیونکہ وہ ایک بلند مرتبہ اور عظمت والی بیٹی ہیں"-

آنحضرت {ص} نے فرمایا:" پس وہ دو اونٹ کہاں ہیں جنھیں تم نے فلاں شعب میں چھپاکے رکھا ہے"- رسول اللہ {ص} کا یہ کلام سننے کے بعد حارث اور اس کے بیٹے نے اسلام قبول کیا اس کے بعد رسول خدا {ص} نے جناب جویریہ کو آنحضرت {ص} کے پاس رہنے یا اپنے باپ کے پاس جانے کا اختیار بخشا- حارث نے کہا: آپ {ص} نے ایک عادلانہ تجویز پیش کی ہے، اس کے بعد جناب جویریہ کے پاس جاکر کہا:" بیٹی؛ یہاں رہ کر اپنے قبیلہ کو ذلیل نہ کرنا "- جناب جویریہ نے جواب میں کہا:" میں نے خدا اور اس کے رسول {ص} کو منتخب کیا ہے"- یہ جواب سن کر حارث نے کہا:" لعنت ھو تم پر، جو چاھو وہی کرو"- اس کے بعد رسول خدا {ص} نے جویریہ کو آزاد کرکے اپنی بیویوں کے زمرے میں قرار دیا-

جناب جویریہ پیغمبر اسلام {ص} کی پہلی بیوی تھیں، جو قبیلہ قریش سے تعلق نہیں رکھتی تھیں-

جناب عائشہ کہتی ہیں:" لوگوں کو جب یہ خبر ملی کہ آنحضرت {ص} نے ان { جویریہ} سے ازدواج کرکے قبیلہ مصطلق کے داماد بن گئے ہیں، تو غنیمت میں حاصل کئے ھوئے اسیروں کو آزاد کیا اور اس طرح بنی مصطلق کے سو گھرانے آزاد ھوئے- اس لحاظ سے میں کسی ایسی عورت کو نہیں پہنچاتی ھوں، جو جویریہ کے مانند اپنے قبیلہ کے لئے خیر و برکت لانے والی ھو"-

جویریہ کا مہر:

مریسیع سے واپس لوٹنے پر آنحضرت[ص] نے جویریہ کو انصار میں سے ایک شخص کے پاس امانت کے طور پر رکھا اور ا سے حکم دیا کہ ان کی حفاظت کریں- اور اس کے بعد مدینہ چلے گئے- ان کا مہر ان کی آزادی، ایک قول کے مطابق چالیس اسیروں کی آزادی یا بنی مصطلق کے تمام اسیروں کی آزادی قرار دیا گیا تھا-

لیکن خود جناب جویریہ اس سلسلہ میں فرماتی ہیں:" جب آنحضرت {ص} نے مجھے آزاد کیااور اپنے عقد میں قرار دیا، خدا کی قسم میں نے اس کے بعد ان کے سامنے اپنے قبیلہ اور رشتہ داروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی- یہ خود مسلمان تھے کہ جنھوں نے انھیں آزاد کیا- ایک لڑکی، جو میری چچیری بہن تھی، نے میرے پاس آکر مجھے ان کی آزادی کی خبر دیدی، اور میں نے خداوند متعال کا شکر بجا لایا"-

کہا گیا ہے کہ آنحضرت {ص} نے جویریہ کا مہر چارسو درہم مقرر فرمایا اور ان کے نام کو "برہ" سے " جویریہ" تبدیل کیا- کیونکہ فرمایا کہ" برہ" نیک نام کے معنی میں، ایک قسم کی خود ستائش ہے باوجودیکہ یہ نام اس زمانہ میں مشہور تھا- آنحضرت {ص} نے انھیں پردہ کرنے کا حکم دیا اور اپنی دوسری بیویوں کے مانند ان کے لئے بھی حجاب معین فرمایا-

نام تبدیل کرکے جویریہ رکھنے کا سبب:

ہم ان کا نام بدلنے کا سبب نہین جانتے ہیں- رسول خدا {ص} نے اپنی بیویوں میں سے بعض کے نام تبدیل فرمائے ہیں، جیسے زینب بنت جحش، ام سلمہ، میمونہ اور جویریہ- لیکن اپنی بعض بیویوں کے نام تبدیل نہیں فرمائے ہیں جیسے؛ برہ بنت ابی نجوا اور برہ بنت سفیان وغیرہ-

ازدواج سے رحلت تک:

ام المومنین جناب جویریہ نے رسول خدا {ص} کے ساتھ پانچ سال زندگی کی، لیکن آنحضرت {ص} سے ان کی کوئی اولاد پیدا نہیں ھوئی- اور سرانجام ربیع الاول سنہ ۵۶ ھجری میں ،اور ایک روایت کے مطابق سنہ ۵۰ ھجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی، ان کے جنازہ کو قبرستان بقیع میں لے جا کر سپرد خاک کیا گیا- کہا گیا ہے کہ، مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان بن حکم نے ابو حاتم حیان کے ہمراہ ان کی نماز جنازہ پڑھائی-

جناب جویریہ ایک متقی اور پرہیزگار خاتون تھیں کہ اکثر دنوں میں روزہ رکھتی تھں اور شب عبادتوں میں گزارتی تھیں- ان کے تقوی کی توصیف میں کئی روایتیں نقل کی گئی ہیں کہ پیغمبر اسلام[ص] کی شریک حیات بننے کے بعد ان کے بلند مقام و اخلاص کی گواہ ہیں-

ذبیح اللہ محلاتی اپنی کتاب" ریاحین الشریعہ" میں لکھتے ہیں کہ جناب جویریہ ایک شیرین زبان اور فصیح بیان خاتون تھیں-

جناب جویریہ نے رسول خدا {ص} سے کئی احادیث نقل کی ہیں جنھیں ابن عباس، ابن عمر، عبید بن سباق اور ان کے بھتیجے اور دوسروں نے نقل کیا ہے- شیخ طوسی نے اپنی کتاب " رجال" میں انھیں اصحاب میں شمار کیا ہے-

جناب جویریہ ایک عالمہ و محدثہ خاتون تھیں اور آنحضرت {ص} کے بعد ۳۹ سال تک زندہ تھیں-

ترتیب و پیشکش: مریم مصدری

Read 1639 times

Add comment


Security code
Refresh