صدر پزشکیان: ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے میں مذاکرات نہیں کرے گا

Rate this item
(0 votes)
صدر پزشکیان: ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے میں مذاکرات نہیں کرے گا

ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے نے ٹیلیفونی گفتگو میں تازہ ترین میدانی اور سیاسی تغیرات پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکا کے سمندری محاصرے کو ہر قسم کی اعتمادی سازی اور سفارتی پیشرفت میں  رکاوٹ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف گفتگو  اور مذاکرات کے لئے پیغامات مل رہے ہیں لیکن دوسری طرف سمندری محاصرے اور دباؤ میں شدت عملا اعتماد سازی  کے لئے ضروری فضا کو خراب کررہی ہے۔
 صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظریہ ہے کہ مذاکرات کے لئے حالات اسی وقت  سازگار ہوسکتے ہیں جب فریق مقابل دباؤاور دھمکی کا راستہ ترک کرکے باہمی احترام اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار کرے۔  

انھو نے کہا کہ ایران مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور اصول وضوابط کے مطابق اپنے عوام کے حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس سے بالا تر ہوکر کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا ہے۔  

صدر ایران نے اسی طرح امریکا کی فوجی نقل و حرکت اور علاقے میں  نئے فوجی دستے  روانہ کرنے کے اقدام کو اس کے سیاسی راہ حل  اختیار کرنے  کے دعوؤں کے برخلاف قرار دیا  اور کہا کہ    یہ اقدامات حالات کی پیچیدگی بڑھانے اور مذاکرات کے ماحول کو خراب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتے۔

صدر ایران نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکا کو مسائل کے حل کے لئے پہلے سبھی رکاوٹیں ہٹانا اور محاصرہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے میں ہرگز مذاکرات نہیں کرے گا۔

 پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں صدر ایران سے، رہبر انقلاب اسلامی اور ایرانی عوام کو اپنا پرخلوص سلام پہنچانے کی درخواست کی اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کی قدردانی کی ۔

انھوں بتایا کہ اس دورے میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ، تہران کا واضح پیغام ملا اور مسائل کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔
 

Read 40 times