مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیا جانے والا "آپریشن نصر" محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی اور سیاسی معادلات پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم تزویراتی اقدام تھا۔
حالیہ چالیس روزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور بعض امریکی حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور تہران براہِ راست ردعمل دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ تاہم ایران کے میزائل حملوں نے اس تاثر کو چیلنج کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ اس کا عسکری ڈھانچہ بدستور فعال اور مؤثر ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کی جانب بڑے پیمانے پر میزائل فائر کیے جانے سے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ خطے کے سکیورٹی معاملات میں بھی ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
آپریشن نصر مقاومتی محاذ کے اتحاد کا پیغام
رپورٹ کے مطابق آپریشن نصر کا ایک اہم مقصد یہ باور کرانا بھی تھا کہ لبنان کے خلاف جاری جارحیت اور خطے میں بعض حساس سرخ لکیروں کی خلاف ورزی کے نتائج صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہ سکتے۔ اسی وجہ سے اس کارروائی کو مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کے نئے مرحلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے اس اقدام نے خطے کے مختلف فریقوں کو یہ پیغام دیا کہ تہران اپنے تزویراتی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی علاقائی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
درحقیقت تہران کا ردعمل اسرائیل کے اسٹریٹجک اندازوں کی واضح ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ تل ابیب کو امید تھی کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں ایران کی عسکری طاقت کمزور ہوجائے گی، لیکن حالیہ واقعات نے ظاہر کر دیا کہ نہ صرف ایران کی میزائل صلاحیت برقرار ہے بلکہ تزویراتی سطح پر تیز رفتار فیصلہ سازی اور عملی کارروائی کی صلاحیت بھی بدستور موجود ہے۔ صہیونی حکومت کے لیے یہ ایک اہم حقیقت ہے، کیونکہ مستقبل کی ہر سکیورٹی اور عسکری منصوبہ بندی کو سیاسی خواہشات کے بجائے ایران کی حقیقی طاقت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دینا ہوگا۔
اس حملے کا دوسرا اہم پیغام مقاومتی محاذ سے متعلق ہے۔ جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملہ دراصل لبنان میں حزب اللہ کے ایک اہم سیاسی اور سماجی مرکز کو نشانہ بنانے کے مترادف تھا۔ ایران کے ردعمل نے یہ ظاہر کیا کہ تہران اب بھی لبنان کے امن و استحکام اور حزب اللہ کی پوزیشن کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مقاومتی محاذ کے مختلف فریقوں کے درمیان دوری پیدا ہونے کے دعوؤں کے باوجود ایران اور حزب اللہ کے درمیان تزویراتی روابط بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔
بیروت پر حملے کا جواب حیفا میں
اس تناظر میں ایران کے میزائل حملے کی سب سے اہم تزویراتی کامیابی طاقت کے توازن کا قیام ہے۔ کئی برسوں سے صہیونی حکومت لبنان، شام، عراق اور حتی کہ ایران کے خلاف بھی ایسے اقدامات کی کوشش کرتی رہی جن کی براہِ راست قیمت اسے ادا نہ کرنا پڑے۔ تاہم تہران کے حالیہ ردعمل نے یہ پیغام دیا کہ جنوبی بیروت پر کسی بھی جارحیت کا جواب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں براہ راست کارروائی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، جسے بعض اسرائیلی تجزیہ کار بیروت کے بدلے حیفا کی مساوات قرار دیتے ہیں، وہ اب ایک نئی سکیورٹی حقیقت کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایسی مساوات صہیونی حکومت کی عسکری آزادی کو نمایاں طور پر محدود کر سکتی ہے۔ اب لبنان کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی صرف شمالی محاذ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران کے ساتھ وسیع تر تصادم کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس صورتحال نے تل ابیب کے لیے سکیورٹی اور سیاسی فیصلوں کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے اور یہ امر مستقبل میں صہیونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکہ کو پیغام
دوسری جانب ایران کے میزائل حملوں نے امریکہ کے لیے بھی ایک اہم پیغام دیا۔ حالیہ مہینوں میں واشنگٹن نے فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے مذاکراتی عمل اور علاقائی معاملات میں زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران کے ردعمل نے ظاہر کیا کہ تہران اب بھی اپنی عسکری صلاحیتوں کو سفارتی اور سیاسی معادلات میں ایک مؤثر عنصر کے طور پر استعمال کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
یوں ایران نے یہ پیغام دیا کہ فوجی دباؤ نہ صرف اسے پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی اور علاقائی اخراجات میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے حالیہ میزائل کارروائی کو صرف ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، ڈیٹرنس اور سفارتی معاملات کی ازسرنو تشکیل کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی دفاعی طاقت کے بارے میں غلط فہمی کا ازالہ
ایک اور قابلِ توجہ پہلو ایران کی عسکری طاقت کی بحالی اور ازسرِ نو فعال کرنے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ جدید جنگوں میں طاقت کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی ملک کسی تنازع یا جنگ کے بعد کتنی تیزی سے اپنی عملی اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کر سکتا ہے۔ حالیہ ردعمل سے ظاہر ہوا کہ ایران نے اس میدان میں قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نسبتاً مختصر مدت میں اپنی میزائل اور کمانڈ صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ امر ایران کے مخالفین کے لیے ایک اہم انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وسیع پیمانے کے تصادم کی صورت میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی ڈیٹرنس کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم یا غیر مؤثر بنانا آسان نہیں۔
اس حملے نے ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی عسکری حکمتِ عملی کی حدود کو بھی نمایاں کر دیا۔ غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ماضی کی جنگوں کے تجربات نے اسرائیل کے بعض حلقوں میں یہ تصور پیدا کر دیا تھا کہ مسلسل دباؤ، وقفے وقفے سے حملوں اور طویل تھکا دینے والی حکمت عملی کو ایران کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان بنیادی فرق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران ایک وسیع جغرافیائی گہرائی، متنوع عسکری صلاحیتوں اور خودمختار دفاعی ڈھانچے کا حامل علاقائی طاقت ہے، اس لیے اس کے خلاف وہی حکمتِ عملی اپنانا جو دیگر محاذوں پر اختیار کی گئی، محدود نتائج ہی دے سکتی ہے۔
آپریشن نصر کی صہیونی پالیسیوں پر ممکنہ اثرات
حالیہ میزائل ردعمل نے علاقائی سطح پر ایران کی ڈیٹرنس کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے۔ خطے کے ممالک حالیہ پیش رفت کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں اور طاقت کے توازن کے بارے میں ان کا اندازہ براہِ راست ان کے سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے تیز رفتار اور براہِ راست ردعمل کی صلاحیت کا مظاہرہ اس کے علاقائی مقام کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور یہ تاثر اجاگر کرتا ہے کہ تہران اب بھی مغربی ایشیا کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے اہم فریقوں میں شامل ہے۔
صہیونی حکومت کے داخلی منظرنامے میں بھی ان حملوں کے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی معاشرہ گزشتہ چند ماہ سے متعدد سکیورٹی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرائی تک پہنچنے والے ہر کامیاب میزائل حملے کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور دفاعی نظاموں کی کارکردگی، حکومتی پالیسیوں اور سکیورٹی حکمتِ عملی کے بارے میں سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران کا حالیہ ردعمل صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ صہیونی حکومت کی قیادت پر سیاسی اور سماجی دباؤ میں اضافے کا ایک اہم عنصر بھی بن سکتا ہے۔
حاصل سخن
مجموعی طور پر جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ایران کے میزائل حملوں کو خطے کے سیکورٹی معاملات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کارروائی نے یہ ظاہر کیا کہ حالیہ چالیس روزہ جنگ ایران کی جوابی صلاحیت کو ختم کرنے میں ناکام رہی اور اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی اپنے مخالفین پر کاری وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس آپریشن کے نمایاں نتائج میں طاقت کے نئے توازن کا قیام، اسرائیل کے لیے جارحیت کی بڑھتی ہوئی قیمت، مقاومتی محاذ کی پوزیشن کا مضبوط ہونا، امریکہ کے
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیا جانے والا "آپریشن نصر" محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی اور سیاسی معادلات پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم تزویراتی اقدام تھا۔
حالیہ چالیس روزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور بعض امریکی حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور تہران براہِ راست ردعمل دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ تاہم ایران کے میزائل حملوں نے اس تاثر کو چیلنج کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ اس کا عسکری ڈھانچہ بدستور فعال اور مؤثر ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کی جانب بڑے پیمانے پر میزائل فائر کیے جانے سے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ خطے کے سکیورٹی معاملات میں بھی ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
