سلیمانی

سلیمانی

 

 

مغربی رہنماوؤں کے پے در پے دورے اس لئے ہیں کہ وہ صیہونی حکومت کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

 

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ زخمی ہوکر زمیں بوس ہو جانے والی قابض غاصب حکومت فلسطینی مجاہدین سے پڑنے والی کاری ضرب کا انتقام غزہ کے عوام سے رہی ہے۔   

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صیہونیوں کے جرائم کی دنیا کے شر پسندوں کی طرف سے بھرپور حمایت ان جرائم میں امریکیوں کے یقینی تعاون کے باوجود انھیں آخرکار کچھ حاصل نہیں ہوگا، اس قضیئے میں بھی اور آئندہ معاملات میں بھی ملت فلسطین کی فتح یقینی ہے۔

ایران کے صوبہ لرستان کے شہیدوں پر قومی سیمینار کے منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ میں جاری واقعات کو مستقبل کا تعین کرنے والے واقعات سے تعبیر کیا اور غزہ کے عوام کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ جاری مثالی استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خونخوار اور ظالم دشمن بچوں، عورتوں، مردوں، پیر و جواں میں کوئی فرق کرنے کو تیار نہیں ہے، غزہ کےعوام واقعی حقیقی معنی میں بڑے مظلوم ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے مظلوم عوام کے صبر و توکل کی داد دیتے ہوئے ان کے صبر و استقامت کے بعض مناظر اور نمونے کا ذکر کیا۔ آپ نے کہا کہ جو باپ اپنے فرزند کی شہادت کے بعد اللہ کی حمد کرے، جو والدین اپنے شہید فرزند کو فلسطین کو ہدیہ کر دیں، وہ نوجوان جو زخمی ہوکر قرآن کی آیتوں کی تلاوت کرے، اسی طرح دیگر مناظر غزہ کے عوام کے بے پناہ صبر و توکل کے ایک گوشے کو بیان کرتے ہیں۔ 

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کا صبر و تحمل بہت اہم اور فلسطینیوں کو جھکانے میں دشمن کی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہی صبر و توکل غزہ کے عوام کا مددگار بنے گا اور آخرکار وہی فاتح ہوں گے۔ 

رہبر انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر یہ بات دوہرائی کہ 7 اکتوبر کو غاصب حکومت پر پڑنے والی ضرب بے مثال اور فیصلہ کن ضرب تھی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے یہ حقیقت مزید عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ اس کاری وار سے ہونے والا نقصان نا قابل تلافی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ اور دیگر ظالم و شر پسند ممالک جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سربراہوں کے مقبوضہ فلسطین کے پے در پے دوروں کو غاصب حکومت کی نابودی کے عمل کو روکنے کی ناکام کوشش سے تعبیر کیا اور کہا کہ دنیا کے شر پسند یہ منظر دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینی مجاہدین کی زوردار اور کام تمام کر دینے والی ضرب کے نتیجے میں صیہونی حکومت بکھرنے اور مٹ جانے کی حالت میں پہنچ گئی ہے، اسی لئے ان دوروں، اطہار ہمدردی، جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے کے وسائل جیسے بموں اور دیگر اسلحہ جات کی فراہمی کے ذریعے وہ کوشاں ہیں کہ زخم کھاکر ڈھیر ہو جانے والی حکومت کو کسی طرح پیروں پر کھڑا رکھ سکیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس نکتے کا بھی ذکر کیا کہ غاصب حکومت کا زور فلسطینی مجاہدین پر نہیں چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مجاہدین نے اپنی آپریشنل آمادگی، توانائي، جذبہ اور حوصلہ برقرار رکھا ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی یہی صورت حال جاری رہے گی اور غاصب حکومت ان کا مقابلہ کرنے کی توانائی نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کے نہتے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ جو بھی غزہ کے بارے میں بات کرے وہ غزہ کے عوام کے صبر و استقامت کا تذکرہ ضرور کرے ورنہ یہ ان عوام کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ 

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید کہا کہ امریکہ مجرم صیہونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ امریکیوں کے ہاتھ کہنیوں تک غزہ کے بچوں، عورتوں اور دیگر شہیدوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں، بلکہ دراصل امریکی ان مجرمانہ اقدامات کو مینیج کر رہے ہیں۔

 

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکہ، یورپ، اسلامی ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں میں دنیا والوں کے دل کانپ اٹھے ہیں جو صیہونی حکومت کے مسلسل جاری جرائم پر ان کا فطری رد عمل ہے۔ آيت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یورپ میں آزادی اور انسانی حقوق کے دعوے کرنے والوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں پر روک لگا دی ہے، لیکن عوام ایسے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور اپنے غم و غصے اور دلی کرب کا اظہار کر رہے ہیں اور کوئي بھی ہو صیہونیوں کے وحشی پن کے خلاف عوام کے رد عمل پر روک نہیں لگا سکتا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی حکومتوں کو فلسطین کے مسئلے میں توجہ اور ہوشیاری سے کام لینے کی دعوت دی اور کہا کہ اسلامی ممالک اور سیاسی ترجمان مغربی حلقوں کے ذریعے بنائے جانے والے بیانئے سے متاثر نہ ہوں اور ان کی احمقانہ باتوں کو دوہراتے ہوئے فلسطینیوں کے لئے دہشت گرد کا لفط استعمال نہ کریں۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکی تو فلسطینیوں کو جو اپنے گھروں اور سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں دہشت گرد کہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غاصب حکومت جس نے فلسطینیوں کے گھروں اور وطن پر قبضہ کر لیا ہے وہ دہشت گرد ہے یا وہ افراد جو اپنے گھر اور زمین واپس لینے کے لئے لڑ رہے ہیں؟

آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ سب سن لیں کہ موجودہ قضیئے میں بھی اور آئندہ معاملات میں بھی ملت فلسطین فتحیاب ہوگی اور مستقبل کی دنیا فلسطین کی دنیا ہوگی صیہونی حکومت کی دنیا نہیں ہوگی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں صوبہ لرستان کے شہیدوں پے سیمینار کے منتظمین سے سفارش کی کہ گزشتہ نسلوں کی گراں قدر میراث کو آج کی نوجوان نسل میں منتقل کرنے کے لئے فکری و عملی پروسس کو آگے بڑھانا شہیدوں کی قدردانی کےسیمیناروں کا مقصد ہونا چاہئے۔

 

 

 

مہر خبررساں ایجنسی نے شامی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے شہر دیر الزور کے شمال میں عمر آئل فیلڈ میں امریکی جارحیت پسندوں کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

 

ان ذرائع کے مطابق قابض امریکی فوج نے ڈرونز کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی اور ڈرونز نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔

 

الجزیرہ نے العمر بیس کے اندر ایک زوردار دھماکے کی اطلاع دی ہے جس پر امریکی قابض افواج کا کنٹرول ہے اور یہ اڈہ شام کے شہر دیر الزور کے مشرق میں واقع ہے۔

 

اسی دوران ترکیہ کی اناطولیہ خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اس امریکی اڈے پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے 10 میزائل داغے گئے ہیں جس سے متعدد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

 

اس سے قبل بعض ذرائع نے شام کے شہر الحسکہ کے نواحی علاقے الجیر میں امریکی اڈے میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔

 

المیادین نے اطلاع دی ہے کہ العمر اسکوائر میں امریکی فوجی چھانی اور مشرقی شام میں الجیر ہوائی اڈے کو ڈرون اور راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔

 

حالیہ دنوں میں غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی رجیم کے جاری جرائم میں امریکہ کی واضح حمایت کے جواب میں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے عراق اور شام میں غیر قانونی امریکی اڈوں کو بارہا میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

صیہونی رجیم کے طیارے پورے غزہ کی پٹی پر شدید اور اندھادھند حملے کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غزہ میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک منقطع ہو گیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے غزہ کے اسپتال پر صیہونی حکومت کے حملے اور عام شہریوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے اسرائیل کا جنون آمیز اقدام قرار دیا ہے۔

 

حکومت ایران نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بدھ کے روز عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ 

 

صیہونی قابض فوج نے منگل کے روز غزہ کے المعمدانی اسپتال پر بمباری کی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ اسپتال میں موجود 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

 

یہ خبر سنتے ہوئے سیکڑوں کی تعداد میں ایرانی شہری تہران کے فلسطین اسکوائر اور ملک کے دیگر شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا

جینیئس اور ممتاز علمی صلاحیت کے حامل افراد نے منگل 17 اکتوبر کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ میں وحشیانہ بمباری جاری ہے، صیہونی افواج کے اسپتال پر ہونے والے تازہ حملے میں 800 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

 

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے وسطی غزہ میں موجود اسپتال کو نشانہ بنایا جس میں 600 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے اور اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق، بیت المقدس پر قابض فوج کی اس ہسپتال پر بمباری کے نتیجے میں اب بھی سینکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

 

غزہ کے المعمدانی اسپتال پر اسرائیل کی وحشیانہ حملہ، 800 سے زائد شہید+ویڈیو، تصاویر

 

فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر اور سیکڑوں طبی عملہ شہید ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر غزہ میں طبی امداد کے لیے محفوظ راستہ کھولیں۔

 

 

 

 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے نائیجریا کے شیخ ابراہیم زکزکی سے ملاقات کے دوران کہا کہ نائیجیریا کے اسلامی رہنما شیخ ابراہیم زکزکی اور ان کی شریک حیات کی قربانیاں قابل قدر ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سازشوں کے باوجود اسلام کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جو راہ اسلام میں کوششوں کا نتیجہ ہے۔

 

رہبر معظم نے فلسطین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں پیش آنے والے واقعات عالم اسلام کی طاقت کا مظہر ہے۔

 

انہوں نے تاکید کی کہ فلسطین میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ لوگوں پر بمباری اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے انسانوں کا دل مجروح ہوا ہے لیکن ان واقعات کا دوسرا رخ بھی ہے جوکہ اسلام کی ناقابل یقین طاقت ہے۔ اللہ کے فضل سے فلسطین میں شروع ہونے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں فلسطینی مکمل کامیاب ہوں گے۔ عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینی عوام کی مدد کرے۔

 

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران میں اسلامی نظام ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید طاقتور ہورہا ہے مستقبل میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں اسلامی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور اللہ کے فضل سے کامیابی سے ہمکنار ہوں گی۔

 

رہبر انقلاب نے شیخ زکزکی سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اللہ کی راہ میں حقیقی معنوں میں جہاد کررہے ہیں اور امید ہے کہ اس کو مزید جاری رکھیں گے۔

 

شیخ ابراہیم زکزکی اور ان کی شریک حیات نے رہبر معظم سے ملاقات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کے جذبات ناقابل بیان ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی دعاوں اور مسلمانوں کی کوششوں کی بدولت اسلام مزید ترقی کرے گا۔

 

 

 

      وزير خارجہ نے لبنان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا طوفان الاقصی صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات بحالی کے عمل کو روک سکتا ہے کہا : علاقے کے موجودہ حالات میں میڈیا میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کی جو باتیں کہی جا رہی تھیں وہ اب پوری طرح سے ختم ہو چکی ہیں۔

 

        وزیر خارجہ نے کہا: ایک یورپی عہدیدار نے مجھ سے کہا کہ طوفان الاقصی آپریشن نے یہ ثابت کر دیا کہ فلسطین کا کاز زندہ ہے اور کوئي بھی مشرق وسطی میں فلسطینی مسئلے کو ختم نہيں کر سکتا

 حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں غزہ پر صیہونی حملوں اور وہاں عام شہریوں کے قتل عام کی امریکہ اور کچھ مغربی ملکوں کی جانب سے یک طرفہ حمایت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مزاحمتی محاذ بہترین پوزیشن میں ہے اور ہر طرح کی صورت حال کے لئے تیار ہے۔

 

رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل کی صبح امام علی علیہ السلام آرمی آفیسرز یونیورسٹی میں مسلح فورسز کے کیڈٹس کی گریجوئیشن تقریب سے خطاب میں ان فورسز کو سیکورٹی، عزت اور قومی تشخص کا قلعہ بتایا اور فلسطینی جوانوں کے حالیہ معرکے میں صیہونی حکومت کو ہونے والی ناقابل تلافی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہ کن طوفان کے وجود میں آنے کا سبب، فلسطینی قوم کے خلاف غاصب اور جعلی حکومت کے لگاتار مظالم، جرائم اور سفاکیت ہے اور یہ حکومت جھوٹ بول کر اور خود کو مظلوم ظاہر کر کے غزہ پر حملے اور غزہ کے لوگوں کے قتل عام میں اپنے سفاک عفریتی چہرے کو نہیں چھپا سکتی اور ہرزہ سرائي کر کے فلسطینی جوانوں کی شجاعت اور ان کی ذہانت سے بھری منصوبہ بندی کو غیر فلسطینیوں کا کام نہیں بتا سکتی۔ 

 

انھوں نے فلسطین میں حالیہ عدیم المثال واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس اہم سیاسی و عسکری مسئلے میں ملک کے حکام کے موقف کو صحیح اور اچھا قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے میں پوری دنیا کی جانب سے صیہونی حکومت کی شکست کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور فوجی و انٹیلیجنس پہلوؤں سے یہ شکست، ناقابل تلافی اور ایک تباہ کن زلزلہ ہے اور بہت بعید ہے کہ غاصب حکومت مغرب والوں کی تمام تر مدد کے باوجود، اس واقعے سے اپنے اقتدار کی بنیادوں پر لگنے والی کاری ضربوں کا مداوا کر پائے۔

 

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر کہا کہ صیہونی حکومت سنیچر 7 اکتوبر کو انجام پانے والے فلسطینی جوانوں کے شجاعانہ کارنامے کے بعد پچھلی صیہونی حکومت نہیں رہ گئي ہے اور اس بڑی بلا کا سبب خود صیہونیوں کی کارکردگي ہے کیونکہ جب آپ درندگي اور سفاکیت کی حد پار کر جاتے ہیں تو پھر آپ کو طوفان کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ انھوں نے فلسطینی مجاہدین کے شجاعانہ و فداکارانہ اقدام کو، غاصبوں کے برسوں سے لگاتار جاری جرائم اور حالیہ مہینوں میں ان میں شدت کا جواب بتایا اور کہا کہ اس معاملے میں قصوروار، غاصب حکومت کے موجودہ حکمراں ہیں جنھوں نے مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف ہر ممکن درندگي اور سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

انھوں نے غاصب حکومت کی شر انگیزیوں اور خباثت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں کسی بھی مسلمان قوم کو صیہونی حکومت جتنے کسی دوسرے بے حیا اور بے رحم دشمن کا سامنا نہیں رہا ہے اور فلسطینی قوم جتنا کسی بھی قوم نے دباؤ، محاصرے اور ہر طرح کے وسائل کی کمی کا سامنا نہیں کیا ہے، اسی کے ساتھ امریکا اور برطانیہ نے بھی اس جعلی حکومت جتنی کسی بھی دوسری ظالم حکومت کی حمایت نہیں کی ہے۔

 

مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر نے کہا کہ فلسطینی بچوں، عورتوں، مردوں اور سن رسیدہ افراد کا قتل عام، نمازیوں کو پیروں سے روندنا اور صیہونی کالونیوں میں رہنے والے مسلح افراد کو فلسطینی عوام پر حملے کی کھلی چھوٹ دینا، صیہونی حکومت کے جرائم کے چند نمونے ہیں اور کیا فلسطین کی غیور اور کئي ہزار سالہ قوم کے سامنے ان سارے مظالم اور جرائم کے مقابلے میں، طوفان کھڑا کر دینے کے علاوہ کوئي اور راستہ تھا؟

 

انھوں نے خبیث صیہونی حکومت کی جانب سے اپنے آپ کو مظلوم دکھانے کی کوشش اور دنیا کے سامراجی میڈیا کی جانب سے اس بات کو رائے عامہ میں پھیلانے کے لیے کی جا رہی مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، یہ مظلوم نمائی سو فیصدی حقیقت کے برخلاف اور جھوٹ ہے اور کوئي بھی اس سفاک عفریت کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا۔

 

آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے مظلوم نمائي کا مقصد، غزہ پر جاری اس کے حملوں اور اس علاقے کے مظلوم عوام کے قتل عام کا جواز پیش کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے میں بھی جعلی حکومت اور اس کے حامیوں کے اندازے اور تخمینے غلط ہیں اور صیہونی حکومت کے حکام اور فیصلہ کرنے والوں اور ان کے حامیوں کو جان لینا چاہیے کہ اس طرح کے کام، ان پر زیادہ بڑی بلا نازل کریں گے اور فلسطینی قوم زیادہ ٹھوس عزم کے ساتھ ان جرائم کے ردعمل میں ان کے کریہہ چہرے پر زیادہ زوردار تھپڑ رسید کرے گي۔

 

انھوں نے حالیہ واقعات میں ایران سمیت غیر فلسطینیوں کا ہاتھ ہونے پر مبنی بعض صیہونی عہدیداروں اور ان کے حامیوں کی ہرزہ سرائي کے بارے میں کہا کہ ہم فلسطینی جوانوں اور ذہین فلسطینی منصوبہ سازوں کی پیشانی اور ان کے بازو چومتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں لیکن یہ ہرزہ سرائي بے بنیاد اور یہ اندازے کی سخت غلطی ہے اور جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کی یہ ضرب، غیر فلسطینیوں کی جانب سے ہے، انھوں نے عظیم فلسطینی قوم کو نہیں پہچانا ہے اور اس کے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہے۔

 

رہبر انقلاب اسلامی نے صیہونیوں کے جرائم کے مقابلے میں عالم اسلام کے ردعمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یقینا پورے عالم اسلام کا فرض ہے کہ وہ فلسطینی قوم کی حمایت کرے لیکن یہ زبردست کارنامہ، فلسطین کے اسمارٹ منصوبہ سازوں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھنے والے جوانوں کا کام تھا اور ان شاء اللہ یہ عظیم کارنامہ، فلسطینیوں کی نجات کی راہ میں ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔

 

انھوں نے اسی طرح اس پروگرام میں اپنے خطاب کے آغاز میں مسلح فورسز کے کام کو ایک بڑا افتخار اور ایران کی عزیز سرزمین کا انتظام چلانے میں سب سے اہم اور حیاتی کاموں میں سے ایک بتایا۔ انھوں نے سیکورٹی فورسز کو سیکورٹی، عزت اور قومی تشخص کا قلعہ بتایا اور کہا کہ قومی سلامتی، ان تمام اہم سافٹ وئيرز کا بنیادی ڈھانچہ ہے جن کا ملک کی پیشرفت میں کردار ہے، چنانچہ اگر سیکورٹی نہ ہو توکچھ بھی نہیں ہوگا۔