صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جس ممکنہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، وہ 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا، حالانکہ ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت میں اسی معاہدے کو تباہ کن قرار دے چکے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اس وقت اس معاہدے کو اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے اتحادی گروپوں کا ذکر شامل نہیں تھا، تاہم اب بھی ان معاملات پر تہران کی جانب سے کسی قسم کی رعایت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کئی ہفتوں کی فوجی کارروائیوں اور ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور صرف یورینیم افزودگی پر بعض عارضی پابندیوں کے امکان کی بات کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ٹرمپ کی بنیادی توجہ صرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے، جبکہ میزائل پروگرام اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کے معاملات کو نسبتاً کم اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار نے مزید لکھا کہ کوئی بھی نیا معاہدہ ممکنہ طور پر 2015 کے معاہدے سے کافی مشابہ ہوگا، البتہ اس میں سخت نگرانی اور طویل المدتی پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن ایران کے میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں نرم یا ختم کی گئیں تو تہران کو اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں، جس سے وہ اپنی فوجی صلاحیت اور اتحادی قوتوں کو دوبارہ مضبوط بنا سکے گا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تین مشکل راستوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں: یا تو 2015 جیسے معاہدے کو قبول کریں، یا موجودہ تعطل اور عالمی معاشی دباؤ کو جاری رکھیں، یا پھر دوبارہ جنگ کی طرف جائیں۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
