سلیمانی

سلیمانی

ایرانی صدر حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین مہدی المشاط کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کہاکہ ہم یمنی مظلوم عوام کے لئے کورونا ویکسین بھیجنے کیلیے تیار ہیں۔

صدر رئیسی نے یمنی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے یمن کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے جو مکمل امن اور یمنی عوام کے خلاف ظالمانہ اقتصادی ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کا باعث بنے گی۔

تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے ایرانی موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح پڑوسی ممالک کےساتھ تعلقات کو مزید بڑھانا ہے۔

 یہ بات سید ابراہیم رئیسی نے گزشتہ رات ایک ٹی وی پروگروام میں عوام سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ہمسائیگی کی پالیسی کو اپنی حکومت کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساھ تجارت میں 450 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور 18 پڑوسی ممالک کو تکنیکی اور انجینئرنگ کی خدمات برآمد کر رہے ہیں اور علاقائی ممالک میں ایران کی تکنیکی اور انجینئرنگ برآمدات کی قیمت 2.5ارب ڈالر ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ میں ایران کا حصہ بہت زیادہ ہے اور ہم ابھی راستے کے آغاز میں ہیں۔

انہوں نے شنگھائی، برکس اور ای سی او کے رکن ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال کی پہلے تین مہینوں میں تجارت میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ہم نے انجینئرنگ تکنیکی خدمات کی برآمدات کے شعبے میں نمایان کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔

ایرانی صدر نے خطے میں تجارت کی ترقی کے لیے بہت بڑی صلاحیتین موجود ہیں۔

رئیسی نے کہا کہ ہم پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ پابندیاں ظالمانہ اور یورپ اور امریکہ  جو بورڈ آف گورنرز میں  ایران مخالف قرارداد پیش کرتے ہیں، کے وعدوں کے برعکس ہیں۔

صدر رئیسی نےامریکہ اور یورپ کی جانب سے ایران مخالف قرارداد پیش کرنے کا اقدام اچھا نہیں تھا اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نےاپنی 15 رپورٹوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ اور جوزپ بورل کے درمیان ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم وقار اور عزت پر مبنی مذکرات کے عمل کو جاری رکھیں گے۔

ایرانی صدر نے بتایا کہ تیل کی مصنوعات کے شعبے دشمنن کی دہمکیوں اور پابندیوں کے باوجود آج اچھی صورتحال میں ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے آئندہ میں اس میں بہتری بھی آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی تیل کی فروخت کی صورت حال اچھی ہے اور ہم تیل اور غیر تیل کی برآمدات سے ماضی کی طرح مزید آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر رئیسی نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلے ہیں اور 5 سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا ہے۔

جوزپ بورل جو ایرانی حکام کے ساتھ تہران کا دورہ کیا نے، نے آج علی شمخانی کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی۔

شمخانی نے امریکہ کی وعدہ خلافیوں اور جوہری معاہدے سے غیر قانونی انخلاء جس سے ایرانی عوام کا مغرب اور امریکہ کے تئیں عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ ہم نے جوہری معاہدے میں اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہرگز مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی ہے اور ہم اب بھی ایک مضبوط، مستحکم اور قابل اعتماد معاہدے کے خواہاں ہیں۔

شمخانی نے خطے میں پائیدار سلامتی اور بین الاقوامی نظام کے قیام میں ایران کے تعمیری کردار پر یورپ کی عدم توجہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بعض ممالک جو دنیا میں برائی، عدم تحفظ اور ریاستی دہشت گردی کا مظہر ہیں،کے ساتھ یورپ کے اسٹریٹجک تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں۔

 انہوں نے جوہری معاہدے میں امریکہ کی بے عملی اور یورپ کی وعدہ خلافی کو ایرانی عوام کے لیے "تلخ تجربہ" قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ جوہری شعبے میں ایران کے انتقامی اقدامات امریکی یکطرفہ پسندی اور یورپ کی بے حسی پر قانونی اور عقلی ردعمل ہے اور مغرب کے اس غیر قانونی طریقے کی تبدیلی تک یہ اقدامات جاری ہوں گے۔

شمخانی نے ویانا مذاکرات میں ایران کی شرکت کا مقصد غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے اور جامع اور دیرپا اقتصادی فوائد کو یقینی بنانا ہے اور ان دو اصولوں کے بغیر کوئی معاہدہ فائدہ مند نہیں ہوگا۔

انہوں نے مذاکرات کے دوران امریکہ کے متضاد رویے اور  واشنگٹن کی جانب سے دھمکیوں اور پابندیوں کے حربوں کے استعمال کو مذاکرات کو طول دینے اور کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے اہم عوامل قرار دیا۔

 

انہوں نے بتایا کہ انتہائی پابندیوں کا شکار ملک کے ملک کے ساتھ غنڈہ گردی اور جبر اور زبردستی کے ساتھ انتہائی پابندیوں کا شکار ہونے والے ممالک کے ساتھ غنڈہ گردی، جبر اور زبردستی کی زبان کے ساتھ بات کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس موقع پر جوزپ بورل نے کہا کہ تہران کی روانگی سے قبل امریکی حکام کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کی حکومت مختلف وجوہات کی بنا پر جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں یورپی یونین کے اعلی نمائندے جوزپ بورل کے ساتھ ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیا۔

یہ بات حسین امیر عبداللہیان نےگزشتہ روز اپنی ایک ٹویٹ میں کہی۔

انہوں نے جوزپ بورل کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کہا کہ ہم نے پابندیوں کے مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال، دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر نتیجہ خیز بات چیت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دیگر فریقین کا پختہ ارادہ ہوئے تو ایران ایک اچھے، مضبوط اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے حقوق کی پامالی کے بغیر مذاکرات جاری رکھیں گے۔

انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر بوریل کے سفر کے بارے میں بھی کہا کہ آج تہران میں، میں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ مسٹر جوزپ بورل کی میزبانی کی۔ بورل جوہری مذاکرات کےتعطل کے خاتمے اور مذاکرات کو پٹڑی میں لانے کے مقصد سے تہران میں آیا تھا۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ میں نے بورل سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات کا خواہاں ہے اور اس متوازن خارجہ پالیسی میں یورپی براعظم ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اور اس براعظم کے ممالک کے ساتھ تعلقات کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں پر عملدرآمد کیا ہے اور ہرگز مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی ہے اور اب ایرانی عوام کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے بغیر اس مذاکرات کو جاری رکھیں گے۔ امید ہے کہ اس بار امریکی فریق جوہری معاہدے کے آخری نقطہ تک پہنچنے کیلیے ایک حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے گا۔

 
 

واشنگٹن : امریکی سینیٹ نے فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے گن کنٹرول بل منظور کر لیا۔ یہ قانون سازی 65 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ اس کے خلاف 33 ووٹ پڑے۔ بل کی 15 ریپبلکنز نے بھی حمایت کی ۔گن کنٹرول بل کو کانگریس کی منظوری کے بعد ایوان نمائندگان سے بھی پاس ہونا ہو گا جس کے بعد صدر جو بائیڈن اس پر دستخط کریں گے اور یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔اس پورے عمل میں زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن اس قانون سازی کو اہم قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب بھی اس میں ایسے کئی نکات شامل نہیں جن کا مطالبہ ڈیموکریٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے کیا تھا۔مجوزہ بل میں 21 سال سے کم عمر افراد کے لیے اسلحہ خریدنے سے پہلے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ ہر کوئی باآسانی اسلحہ نہ خرید سکے۔اس کے ساتھ ساتھ نئے بل میں وفاقی فنڈنگ کے طور پر 15 ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے جو ذہنی صحت کے پروگرام اور اسکول سیکیورٹی بہتر بنانے پر خرچ کیے جائیں گے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ریاستیں ایسے قوانین نافذ کریں، جن کے تحت خطرہ سمجھے جانے والے افراد سے اسلحہ لیا جا سکے اور اس ریاستوں کو ایسے قوانین کے نفاذ کی ترویج دینے کے لیے فنڈنگ کا مطالبہ بھی کہا گیا ہے۔

ایکنا انٹرنیشنل ڈیسک کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حالیہ سازشون کے بارے میں حزب اللہ نے "مشرق وسطی نیٹو" کی تشکیل کی کوششوں کا جواب دے دیا۔

 

لبنانی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے قومی عرب اسلامی کانفرنس میں کہا:

 

"جن ممالک نے تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کیا ہے، ان کا نقطہ نظر اس قابض حکومت کے ساتھ فوجی اتحاد بنانا ہے۔  اسرائیل کا خیال ہے کہ ان دھمکیوں سے وہ مزاحمت کے محور میں خدشات کو جنم دیتا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ دھمکیاں کھوکھلی ہیں۔  "اس کے باوجود، ہم بڑی جنگ کے لیے پوری طرح چوکس اور پوری طرح تیار ہیں اور ہم ہر روز تیار رہتے ہیں۔"

 

ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو اپنی طاقت اور فوجی تیاری پر فخر ہے، اور ہم انہیں یاد دلاتے ہیں تاکہ ہمارے لوگوں کو اعتماد ہو اور وہ جان سکیں کہ وہ ایک مضبوط قیادت کے پیچھے کھڑے ہیں جو ان کے دفاع کے لیے تیار ہے۔  ہم نے دیکھا کہ کس طرح لبنان نے اپنی سرزمین کو آزاد کرایا اور کس طرح مزاحمت نے "تموز" جارحیت کا سامنا کیا اور فتح حاصل کی، اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح سیف القدس کی جنگ میں فلسطینی مزاحمت نے قابضین کے ساتھ تصادم کی تاریخ میں ایک نئی راہ پیدا کی۔

 

انکا کہنا تھا "امریکہ کے لیے 'مشرق وسطیٰ میں نیٹو' کا اعلان کرنا مضحکہ خیز ہے، جس میں عرب ریاستیں بھی شامل ہیں، جو اسرائیل چلا رہا ھے، اور اس اتحاد سے وُہ  رسوا ہوگا۔"

 
 

علم الہی کا احاطہ!

حج کے عنوان سے مختصرا عرض کروں گا کہ حج ایک اللہ کا ایک مدبرانہ منصوبہ ہے-اللہ کے تمام منصوبے مدبرانہ ہیں لیکن یہ منصوبہ اپنے زاویوں،خصوصیات اور دائرہ کار کی وسعت کے لحاظ سے دوسرے تمام پروگراموں/برناموں سے مختلف ہے-یہ اللہ(جل جلالہ) کے علمی احاطے کے جانب نشاندھی کرتا ہے،جو اسے انسان کے وجود پر،انسان کے دل پر،انسانی ضروریات پر حاصل ہے

 

 

 

 

فریضہ حج اور انسانی ضروریات!

اللہ کے علم کا احاطہ نہ صرف ایک انسان اور ایک نسل پر بلکہ پورے معاشرے پر محیط اور تمام نسلوں پر جاری و ساری ہے-اور یہ علمی احاطہ اس چیز کا باعث بنا کہ خداوند متعال انسانوں کو انکی ضروریات اور ان ضروریات کے مختلف زاویوں کے مطابق ایک الہی برنامہ فراہم کرے-اور انسان کو اسے استعمال کرنے کا موقع دے اور یہ عظیم برنامہ حج ہے

 

 

 

 

 

قانون الہی سے معرفت الہی!

لہذا جب سورہ مائدہ پڑھتے ہیں کہ جس میں اللہ تعالی حج کے بعض احکام بیان کرنے کے بعد فرمارہا ہے”… کہ(جملہ) اس لیے ہے کہ جان لیں کہ اللہ اس پر کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے آگاہ ہے اور جدا ہر چیز کا علم رکھتا ہے”(مائدہ ٩٧)-یہ احکام کہ جو تمہارے لئے ہم نے واجب کی ہیں جیسے خانہ کعبہ اور غیر نشان زدہ اور نشان زدہ قربانی و غیرہ یہ اس لئے ہے کہ تم اپنے پروردگار کے علمی احاطے کے متعلق باخبر ہوجاؤ-جان لو کہ اللہ تعالی تمہاری زندگی کے رازوں کو کس طرح جانتا ہے اور انکی بنیاد پر تمہارے لئے قوانین بناتا ہے

 

 سورہ بقرہ کی آیت 177 نیک کردار انسانوں کے بارے میں اتری ہے جس میں بہترین نیکی کی خصوصیات بیان کی گیی ہیں: خدا پر ایمان، فرشتوں اور آسمانی کتاب پر ایمان، نماز قائم کرنا، زکوات کی ادائیگی، عھد و پیمان پورا کرنا اور تقوی، حضرت محمد(ص) سے نقل ہوا ہے کہ جو اس آیت پر عمل کرے اس کا ایمان مکمل ہے۔

«لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ؛ نیک کام یہ نہیں کہ اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو بلکہ نیک کام یہ ہے کہ قیامت، فرشتوں اور آسمانی کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اپنا مال اپنے ہاتھوں کو پسند کرنے کے باوجود اپنے اقربا، یتیموں، مستحقوں، بیچاروں، مانگنے والوں اور بندوں کو آزاد کرنے والوں کو ہدیہ دیں، نماز قایم کرے، زکوات دے اور وعدوں پر عمل کرے اور سختی و نقصان میں اور جنگ میں صبر و اسقامت کا مظاہرہ کریں اور سچ کہا گیا کہ یہی لوگ متقی ہیں»(بقره، 177).

اس آیت بارے طبرسی کا کیا خوب کہنا ہے۔ وہ کہتا ہے جب مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ بیت المقدس سے کعبہ کی سمت رخ موڑیں ، اختلافات مسلمانوں اور یہودیوں میں سراٹھانے لگے، یہودیوں کا خیال تھا کہ مغرب کی طرف رخ کرکے نماز ادا کریں جب کہ مسیحیوں کا خیال تھا کہ مشرق کی طرف۔ اس پر یہ آیت اتری کہ معیار تقوی ہے رخ مغرب و مشرق کی طرف کرنا نہیں۔

ایمان کا کامل ہونا

علامه طباطبایی کا خیال ہے کہ یہ آیت انبیاء سے مخصوص نہیں اگرچہ اس آیت پر مکمل عمل سخت ہے تاہم انبیاء کے علاوہ معصومین اور «اولی الالباب» کے شامل بھی ہیں. «اولوا الالباب» کا معنی صاحبان عقل، اندیشه، ادراک و بصیرت رکھنے والے کہ یہ گروہ جاہلوں،نادانوں اور کم فھم افراد کے مقابل ہیں۔

 
 

تہران : ایران اور روس نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عمل تیز کردیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے تہران کا دورہ کیا،وہ ایرانی ہم منصب کی دعوت پر تہران پہنچے تو وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ان کا استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے مذاکرات نے جوہری معاہدے اور یوکرین، افغانستان و شام کی تازہ ترین صورتحال سمیت متعدد اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سرگئی لاؤروف نے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کی۔ وزیرخارجہ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایران کے دورے کا فیصلہ کیا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ روسی صدر جلد ایران اور ترکی کا دورہ ضرور کریں گے لیکن ان دوروں کی حتمی تاریخ کا اعلان فوری طور پر نہیں کیا جارہا۔

تہران، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے انسانی امداد کی تیسری کھیپ بھیجی ہے۔

اس پیکیج میں ادویات، خوراک، کپڑے، پناہ گاہ کے خیمے اور زلزلہ زدگان کو درکار دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں۔
ایران نے جمعرات کے روز افغانستان میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد اور ابتدائی طبی امداد لے جانے والے دو طیارے بھیجے، جن میں افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے 1200 قالین، 1000 فوڈ پیکج اور 600 شیلٹر ٹینٹ شامل ہیں۔
ایرانی ہلال احمر کے 18 امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم کو جمعرات کے روز فضائی راستے سے افغانستان روانہ کیا گیا۔
ایرانی امداد کا ایک اور حصہ صوبہ سیستان اور بلوچستان کی سرحدوں کے پار زمینی راستے سے افغانستان بھیجا گیا۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح سویرے کابل کے جنوب مشرق میں 6.1کی شدت سے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوگئے جس مہلک زلزلے کے نتیجے میں 1500 شہری جاں بحق اور 2000 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.1تھی اور زیر زمین اس کی گہرائی 51 کلو میٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کے صوبے خوست سے 44 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔